ٹیکہ کاری اور ٹیکہ پروڈکشن کو لے کر آئی سی ایم آر ماہرین مودی حکومت سے خفا

ٹیکہ کاری اور ٹیکہ پروڈکشن کو لے کر آئی سی ایم آر ماہرین مودی حکومت سے خفا

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ماہرین نے بدھ کو گھریلو سطح پر ویکسین کے پروڈکشن اور ٹیکہ کاری کی خراب منصوبہ بندی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہندوستان میں کورونا ٹیکہ کاری کی سست رفتاری اور ٹیکہ کی کمی کو لے کر مرکز کی مودی حکومت لگاتار تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ اب آئی سی ایم آر کے ماہرین نے بھی اس معاملے میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کے روز ماہرین نے گھریلو سطح پر ٹیکہ پروڈکشن اور ٹیکہ کاری کی خراب منصوبہ بندی پر مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکہ پروڈکشن میں سست رفتاری کی وجہ سے ہندوستان کے پاس لگانے کے لیے ضروری ٹیکے نہیں ہیں۔

ماہرین نے آن لائن جرنل بی ایم جی گلوبل ہیلتھ میں شائع ایک تبصرے میں کہا کہ ’’حالانکہ کوویکسن اور کووی شیلڈ ٹیکوں کے پروڈکشن میں قابل قدر اضافہ کا منصوبہ ہے، لیکن اس سال تقریباً ایک ارب لوگوں کو ٹیکہ لگانے کا ہدف اب بھی پورا نہیں کیا جا سکتا ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اب تک صرف 3 فیصد آبادی کو ہی ٹیکہ لگایا گیا ہے۔ ماہرین نے حکومت سے دنیا بھر میں لگائے جا رہے بیرون ملکی ٹیکوں کی منظوری میں تیزی لانے کی گزارش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’جیسا کہ کووڈ-19 ویکسین سے ملنے والی سیکورٹی میں دونوں خوراک کے بعد کم از کم دو ہفتہ لگنے کی امید ہے، اور بڑے مطالبات کے ساتھ ہندوستان کو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں انفیکشن میں موجودہ اضافہ کو روکنے کے لیے ٹیکوں کے کئی اور ذرائع کی ضرورت ہوگی۔‘‘

ماہرین نے اس عمل پر بھی سوال اٹھایا کہ کوریج کی توسیع کے لیے حکومت نے پرائیویٹ اسپتالوں کو ٹیکہ کاری کی اجازت دی ہے جو تقریباً 220 روپے سے 1098 روپے تک کچھ بھی چارج کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بہت کم لوگ اسے لے پائیں گے۔ انھوں نے حکومت سے ہندوستان میں سبھی کے لیے کورونا وائرس کا ٹیکہ مفت بنانے کی گزارش کی جس سے نہ صرف ٹیکہ کاری کو فروغ ملے گا بلکہ انفیکشن سے ہونے والی اموات میں بھی کمی آئے گی۔

مرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکوں کی الگ الگ قیمت تعین معاملے پر ماہرین نے کہا کہ یہ ہندوستان میں سنگین مسئلہ کے وقت عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اور غیر برابر تقسیم و ممکنہ طور پر عوامی عدم اعتماد کو فروغ دے گا۔ ماہرین نے کہا کہ بالغوں کی ٹیکہ کاری کے لیے موبائل ایپ کے ذریعہ سے حکومت کے ذریعہ لازمی رجسٹریشن بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ دیہی علاقوں میں صرف ایک تہائی لوگوں کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہے۔ اس کی جگہ ایک عام ٹیکہ کاری کارڈ ایک بہتر متبادل ہو سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *