افسران پر قتل کا مقدمہ ہونا چاہیئے، دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی سرزنش

افسران پر قتل کا مقدمہ ہونا چاہیئے، دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت کی سرزنش

گزشتہ روز جہاں سپریم کورٹ نے ایک معاملہ میں کہا کہ عدالت خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی ہے، وہیں دہلی ہائی کورٹ نے بھی ویکسین کی پیداوار پر سخت تبصرہ کیا ہے
نئی دہلی: کورونا بحران اور ویکسینیشن پالیسی کے حوالہ سے سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے لگاتار سخت رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز جہاں سپریم کورٹ نے ایک معاملہ میں کہا کہ عدالت خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی ہے، وہیں دہلی ہائی کورٹ نے بھی ویکسین کی پیداوار پر سخت تبصرہ کیا ہے۔
ہائی کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان میں ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خاطر خواہ امکانات اور ڈھانچہ موجود ہے، جس کا استعمال نہیں کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کورونا ویکسین بنانے کے لئے موجود وسائل کو دبا کر بیٹھے افسران پر قتل کا مقدمہ ہونا چاہئے کیونکہ اسی وجہ سے اتنی زیادہ اموات واقع ہو رہی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ویکسین کی پیداوار کے لئے ضروری ہے کہ تمام افراد تعاون پیش کریں کیونکہ دلوں میں موجود ایک خوف کی وجہ سے ایسا نہیں ہو پا رہا ہے۔ ہندوستان میں جو صلاحیات موجود ہیں وہ غیر ملکی کمپنیوں کے حوالہ نہیں کی جانی چاہئیں۔
جسٹس منموہن اور ناظم وزیری کی بنچ نے کہا، ’’دقت دلوں میں موجود اس خوف سے ہے کہ بدعنوانی کے خلاف تفتیش شروع ہو جائے گی، آڈیٹ ہو جائے گا، پولیس تفتیش ہوگی۔ انہیں بتائیں کہ یہ جانچ اور آڈیٹ رپورٹ کی فکر کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اس کے سبب اموات واقع ہو رہی ہیں۔ دراصل امکانات پر بیٹھے لوگوں پر تو قتل کا مقدمہ ہونا چاہیئے۔
عدالت نے کہا کہ مرکز کو پناکا بائیوٹیک کے نمونوں کو منظوری فراہم کرنے کے عمل میں تیزی لانی ہوگی۔ یہ کمپنی روسی ویکسین اسپوتنک وی کی پیداوار کے لئے تعاون کر رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ویکسین کو پہلے ہی منظوری فراہم کی جا چکی ہے تو حکومت کو بس یہ دیکھنا چاہیئے کہ کمپنی جو نمونے تیار کر ہی ہے وہ موجودہ معیار کے عین مطابق ہوں۔
ہائی کورٹ دہلی کی کمپنی پناکا بائیوٹیک کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔ اس کمپنی نے ایک ثالثی کے بعد فیصلہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ اسے فنڈ کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس نے کووڈ ویکسین اسپوتنک وی کے ٹرائل بیچ تیار کر لئے ہیں اور بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے کا عمل جاری ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *