روس کو ہماچل میں ویکسین تیار کرنے والا مل گیا مگر مرکزی حکومت تلاش نہیں کر پائی: ہائی کورٹ

روس کو ہماچل میں ویکسین تیار کرنے والا مل گیا مگر مرکزی حکومت تلاش نہیں کر پائی: ہائی کورٹ

ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت کہتی ہے کہ پوری آبادی کی ٹیکہ کاری ہی اس وبا سے نجات کا بہترین طریقہ ہے لیکن دوسری طرف ٹیکوں کی کمی کو وہ پورا نہیں کر پا رہی
نئی دہلی: کورونا کی دوسری لہر کے دوران حکومت کے رویہ اور انتظامات میں غفلت پر دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ایک طرف تو حکومت کہتی ہے کہ پوری آبادی کی ٹیکہ کاری ہی اس وبا سے نجات کا بہترین طریقہ ہے لیکن دوسری طرف ٹیکوں کی کمی کو وہ پورا نہیں کر پا رہی۔ ہائی کورٹ روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ (آر ڈی آئی ایف) کے تعاون سے پینیشیا بائیوٹیک کی جانب سے کورونا ویکسین سپوتنک وی سے متعلق امور پر غور و خوض کر رہا تھا۔
جسٹس منموہن اور جسٹس ناظم وزیری کی بنچ نے کہا، ’’دوسری لہر کے دوران جو کچھ بھی ہوا اس سے آج تکلیف ہوتی ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطہ آپ کو بھی تکلیف ہوگی۔ ویکسین کی قلت سے ہر کوئی دو چار ہے۔ یہاں تک کہ آج دہلی میں بھی ٹیکہ دستیاب نہیں ہے۔ آپ کے پاس ہندوستان میں باصلاحیت لوگ اور ادارے موجود ہیں، ایک ذرا ہاتھ پکڑنے سے کام چلے گا۔‘‘
بنچ نے مزید کہا کہ روس سے کوئی شخص ہماچل پردیش میں انفراسٹرکچر کو تلاش کرنے میں کامیاب رہا لیکن مرکزی حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی! ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہندوستان میں اسپوتنک وی کی تیاری کے لئے پینیشیا بائیوٹیک کو سود کے ساتھ 14 کروڑ روپے سے زائد کا ثالثی ایوارڈ جاری کرے، بشرطیکہ کمپنی اس ویکسین کی تیاری کے لئے حکومت سے منظوری حاصل کرے۔
جسٹس منموہن اور جسٹس ناظم وزیری کی بنچ نے اس رقم کو جاری کرنے کی ہدایت جاری کی۔ بنچ نے کہا کہ ثالثی ٹربیونل کے ذریعہ کمپنی کو ادا کی جانے والی رقم کا اخراج بھی اس وعدے کے تحت ہوگا کہ اسپوتنک وی کی فروخت کا 20 فیصد اس کے پاس جمع کیا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *