دہلی: کیجریوال حکومت کی ’گھر گھر راشن‘ اسکیم پر مرکز کی پابندی!

دہلی: کیجریوال حکومت کی ’گھر گھر راشن‘ اسکیم پر مرکز کی پابندی!

کیجریوال حکومت کا اس اسکیم کے ذریعے دہلی کے 72 لاکھ لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کا ارادہ تھا اور اسکیم کو اس ہفتہ میں لاگو کیا جانا تھا
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے دہلی کی کیجریوال حکومت کی ’گھر گھر راشن‘ اسکیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کیجریوال حکومت کا اس اسکیم کے ذریعے دہلی کے 72 لاکھ لوگوں کے گھروں تک راشن پہنچانے کا ارادہ تھا اور اسکیم کو اس ہفتہ میں لاگو کیا جانا تھا۔
دہلی حکومت کے ذرائع کے مطابق، مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس منصوبہ کے لئے مرکزی حکومت سے منظوری حاصل نہیں کی گئی ہے، اس لئے اس پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسکیم پر پابندی عائد کئے جانے کے معاملہ پر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال آج 11 بجے پریس کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔
خیال رہے کہ راشن منصوبے کے نام پر مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان کئی مرتبہ تو تو میں میں ہو چکی ہے۔ مرکزی حکومت نے اس بات پر اعتراض ظاہر کیا تھا کہ یہ مرکزی حکومت کی اسکیم نیشنل فوڈ سکورٹی ایکٹ کے تحت آتی ہے، جس میں کوئی تبدیلی صرف اور صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے نا کہ ریاستی حکومت۔ اس لئے دہلی حکومت اس منصوبہ کا نا تو نام تبدیل کر سکتی ہےاور نا ہی اس کو کسی اور منصوبہ کے ساتھ منسلک کر سکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2018 میں دہلی حکومت نے مکز کو کم از کم 6 مکتوب ارسال کر کے اس منصوبہ کے حوالہ سے معلومات فراہم کی تھیں۔ وہیں مرکزی حکومت کے تمام مشوروں کی روشنی میں دہلی حکومت نے گزشتہ مہینے ایل جی کو حتمی منظوری اور فوری طور پر اس منصوبہ کو لاگو کرنے کے لئے فائل بھیجی لیکن ایل جی نے یہ کہتے ہوئے فائل واپس کر دی کہ اس منصوبہ کو دہلی میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
ایل جی نے اپنی طرف سے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ کو مرکزی حکومت کی جانب سے منظوری حاصل نہیں ہے اور اس منصوبہ کے خلاف عدالت میں بھی ایک معاملہ زیر التوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فائل کو واپس بھیج دیا۔
لیکن اس مرتبہ کیجریوال حکومت جارحانہ رخ اختیار کر رہی ہے۔ ایل جی کے تمام دلائل کو خارج کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے لیڈر عمران حسین نے کہا ہے کہ عدالت میں چل رہے معاملہ کی وجہ سے اس انقلابی منصوبہ پر روک لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس معاملہ پر دو مرتبہ سماعت ہو چکی ہے اور عدالت نے کوئی اسٹے جاری نہیں کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسی معاملہ میں مرکزی حکومت بھی ایک فریق ہے اور اپنے حلف نامہ میں مرکز نے اس منصوبہ کو شروع کرنے میں کوئی اعتراض بھی ظاہر نہیں کیا ہے۔ ایل جی کا اس طرح عدالتی معاملہ کا حوالہ دے کر اس منصوبہ پر روک لگانا واضح طور ظاہر کرتا ہے کہ یہ ان کا یہ اقدام سیاست پر مبنی ہے۔
کیا ہے گھر گھر راشن منصوبہ؟
کیجریوال حکومت اس نئی اسکیم کے تحت ہر ایک راشن مستفیض کو 4 کلو آٹا، ایک کلو چاول اور چینی اس کے گھر پر فراہم کرنا چاہتی ہے۔ وہیں اس منصوبہ کے ذریعے راشن کارڈ برداروں کو بائیومیٹرک اور آدھار ویریفیکیشن کے بعد راشن کی ڈو اسٹیپ ڈلیوری کی جانی ہے۔ اس منصوبہ میں کہا گیا ہے کہ جب کوئی ڈلیوری ایجنٹ ڈلیوری کے لئے مستفیضین کے گھر جائے گا تو بائیومیٹرک ویریفیکیشن کے بعد اسے وہیں راشن فراہم کر دیا جائے گا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *