بی جے پی سے رشتہ توڑ چکے اوم پرکاش راجبھر نے کہا ’یوگی حکومت کی وداعی طے‘

بی جے پی سے رشتہ توڑ چکے اوم پرکاش راجبھر نے کہا ’یوگی حکومت کی وداعی طے‘

راجبھر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’مہنگائی اور دیگر مسئلوں سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ میں رسہ کشی کی خبریں پھیلا رہی ہے۔‘‘
اتر پردیش میں ضلع پنچایت صدر عہدہ کے لیے الیکشن ہونے والا ہے، اور اس میں سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی یعنی ایس بی ایس پی سربراہ اوم پرکاش راجبھر نے بی جے پی کے خلاف محاذ تیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بی جے پی کے ساتھ این ڈی اے میں شامل ایس بی ایس پی نے اتحاد سے رشتہ توڑنے کے بعد بی جے پی، خصوصاً اتر پردیش کی یوگی حکومت کے خلاف کھل کر بولنا شروع کر دیا ہے، اور 8 جون کو انھوں نے بلیا ضلع کے رسڑا قصبہ واقع رہائش پر نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ’’بی جے پی کو یو پی کے اقتدار سے ہٹانا ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ضلع پنچایت صدر عہدہ کے لیے ہونے والے الیکشن میں وہ بی جے پی کے خلاف کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کے مضبوط امیدواروں کی حمایت کریں گے۔
اوم پرکاش راجبھر نے پنچایت صدر عہدہ کے لیے ہونے والے الیکشن کے تعلق سے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی کئی علاقائی پارٹیوں نے ساتھ مل کر ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ بنایا ہوا ہے اور ان کا ’بھاگیداری سنکلپ مورچہ‘ صرف انہی سیٹوں پر الیکشن لڑے گا جس پر اس کے امیدوار جیت کا مادہ رکھتے ہوں گے۔ راجبھر نے مزید کہا کہ دیگر سیٹوں پر مورچہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی کے مضبوط امیدواروں کی حمایت کرے گا۔
راجبھر سے جب ایک رپورٹر نے یہ سوال کیا کہ کیا پارٹی کا یہی رخ آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی رہے گا؟ تو انھوں نے کہا کہ مورچہ اسمبلی انتخاب میں کئی سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گا۔ اسمبلی انتخاب کے لیے کانگریس، بی ایس پی اور ایس پی کے ساتھ اتحاد کے لیے سبھی طرح کے متبادل کھلے ہیں اور آگے اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔یوگی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے راجبھر نے کہا کہ ’’بی جے پی حکومت کی وداعی کا وقت اب آ گیا ہے۔ مہنگائی اور دیگر مسئلوں سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے بی جے پی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ میں رسہ کشی کی خبریں پھیلا رہی ہے۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *