ریاست کی پہلی ڈی ایس پی بننے والی مسلم خاتون رضیہ سلطانہ نے کہا - برقع اور حجاب کسی لڑکی کی تعلیم میں بندش نہیں ہوتا

ریاست کی پہلی ڈی ایس پی بننے والی مسلم خاتون رضیہ سلطانہ نے کہا – برقع اور حجاب کسی لڑکی کی تعلیم میں بندش نہیں ہوتا

بی پی ایس سی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والی رضیہ سلطان فی الحال بجلی محکمہ میں اسسٹنٹ انجینیر کے عہدے پر فائز ہیں، مگر اب وہ جلد ہی خاکی وردی میں نظر آئیں گی

پٹنہ: بہار پبلک سروس کمیشن کے مشترکہ مقابلہ کے امتحان کے حال ہی میں نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں رضیہ سلطان نے کامیابی حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی ہے۔ رضیہ سلطان ڈی ایس پی کے عہدے کے لئے منتخب ہونے والی ریاست کی پہلی مسلم خاتون ہیں۔ رضیہ نے یہ کارنامہ بی پی ایس سی امتحان کی اپنی پہلی کوشش میں ہی انجام دیا ہے۔
رضیہ فی الحال حکومت بہار کے محکمہ بجلی میں اسسٹنٹ انجینئر کے عہدے پر فائز ہیں اور جلد ہی وہ خاکی وردی میں نظر آئیں گی۔ بی پی پی ایس سی کے امتحان میں 40 امیدواروں کا ڈی ایس پی کے طور پر انتخاب ہوا ہے، جس میں سے 4 مسلمان ہیں۔ رضیہ ان چار میں سے ایک ہیں۔
بی پی ایس سی کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد رضیہ سلطان نے جمعرات کے روز آج تک سے بات چیت کی اور اپنے کامیابی کے سفر پر روشنی ڈالی۔ 27 سالہ رضیہ بنیادی طور پر بہار کے گوپال گنج ضلع کے ہتھوا کی رہائشی ہیں مگر انہوں نے ابتدائی تعلیم جھارکھنڈ کے بوکارو سے حاصل کی ہے۔ دراصل، ان کے والد محمد اسلم انصاری بوکارو اسٹیل پلانٹ میں اسٹینوگرافر کے طور پر کام کرتے تھے۔ سال 2016 میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا، رضیہ کی والدہ اب بھی کوکارو میں ہی رہتی ہیں۔
رضیہ نے بتایا کہ چھ بہنوں اور ایک بھائی میں وہ سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کی پانچ بہنوں کی شادی ہو چکی ہے اور بھائی ایم بی اے کرنے کے بعد جھانسی میں ملازمت کر رہے ہیں۔ رضیہ کے مطابق سال 2009 میں بوکارو میں 10ویں اور پھر 2011 میں 12ویں پاس کرنے کے بعد وہ جودھپور چلی گئیں جہاں سے انہوں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔
رضیہ نے بتایا کہ بچپن سے اہی سول سروسز میں جانے کی ان کی دلچسپی تھی اور اس خواہش کو انہوں نے کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے 2017 میں بہار حکومت میں بجلی محکمہ میں ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی بی پی ایس سی کی تیاری بھی کرتی رہیں۔ سال 2018 میں بی پی ایس سی کا ابتدائی امتحان دیا اور پھر 2019 میں مینز کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد انٹرویو دیا اور اب جاری کئے گئے نتائج میں ان کا انتخاب ہو گیا۔
رضیہ نے کہا کہ میں پولیس میں جانے کے لئے حوصلہ افزا ہوں۔ کئی مرتبہ لوگوں کو انصاف نہیں مل پاتا اور خاص طور پر خواتین اس سے محروم رہ جاتی ہیں۔ میں کوشش کروں کہ میرے دائرہ اختیار میں جو بھی جرائم کے واقعات ہوتے ہیں ان کی رپورٹنگ ہو۔ مسلمانوں کی تعلیم پر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام والدین کو اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانی چاہئے۔ لڑکیوں سے میرا کہنا ہے کہ آپ کے راستے میں مشکلات آئیں گی مگر ہمت کبھی نہ ہاریں۔
برقع اور حجاب کے تعلق سے رضیہ نے کہا کہ مسلم خواتین کا برقع اور حجاب میں رہنا کوئی غلط بات نہیں ہے اور یہ کسی لڑکی کی تعلیم میں بندش نہیں ہوتا۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ کوئی کام کر سکتے ہیں تو اللہ حوصلہ بھی دیتا ہے۔
مسلمانوں میں کورونا ٹیکہ کاری کے تعلق سے خوف پر انہوں نے اپیل کی کہ لوگوں کو افواہوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور ٹیکہ سبھی کو لگوانا چاہیئے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *