کشمیر: بیانوں میں قرآنی آیات کا حوالہ دینے کی وجہ سے عوام میں مقبول ہو رہے پولیس ڈی آئی جی سجیت کمار

کشمیر: بیانوں میں قرآنی آیات کا حوالہ دینے کی وجہ سے عوام میں مقبول ہو رہے پولیس ڈی آئی جی سجیت کمار

موصوف ڈی آئی جی کہا کہ قرآن پاک کے سورہ 5، آیت 90 میں کہا گیا کہ کسی بھی طرح کی نشیلی دوا کا استعمال، چاہے وہ شراب ہو یا ڈرگس ہو، ہمارے لئے حرام ہے، جب شراب حرام ہے تو ڈرگس کیسے ٹھیک ہے۔
سری نگر: شمالی کشمیر میں تعینات جموں و کشمیر پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سجیت کمار اپنی عوام دوست سرگرمیوں اور اپنے بیانوں اور باتوں کے دوران قرآنی آیات کا حوالہ دینے کی وجہ سے اہلیان وادی میں کافی مقبول ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں موصوف ڈی آئی جی کو جہاں نشہ آور ادویات کے استعمال پر قرآنی آیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے وہیں انہیں شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں کھیت میں دھان کی پنیری لگاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

سجیت کمار اپنی ان ہی عوام دوست سرگرمیوں کے باعث یہاں عوامی حلقوں میں مقبول ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اور عوامی محفلوں میں ان کی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ شمالی کشمیر کے نور پورہ علاقے کی شیخ کالونی میں جمعرات کی شب آگ کی ایک بھیانک واردات میں خاکستر ہو گئی جس کے نتیجے میں کم سے کم پچاس کنبے بے گھر ہو گئے۔
موصوف ڈی آئی جی متاثرین کی خبر گیری و حوصلہ افزائی کے لئے ان کی بستی میں پہنچ جاتے ہیں وہاں کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے، میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘ضلع بارہمولہ پولیس اور شمالی کشمیر کی پولیس کی ہر چیز گاڑی، عملہ آپ کا ہے، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن پاک کا سورہ 2، آیت 273 میں ہے کہ غریبوں کو ڈھونڈو، ضرورت مندوں کو ڈھونڈو اور ان کی امداد کرو’۔
اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر انہوں نے اس واردات کی عکاسی اس شعر سے کی ہے کہ ‘آسمان بھی رو رہا ہے منظر دیکھ کر، سنا ہے کہ غریبوں کی بستی جل گئی’۔ موصوف ڈی آئی جی کو منشیات کی وبا کی بیخ کنی کے لئے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر اپنے ایک مختصر بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ‘پیغمبر (ص) جنہوں نے ہمیں قرآن پاک دیا اس میں سورہ 5، آیت 90 میں کہا گیا کہ کسی بھی طرح کی نشیلی دوا کا استعمال، چاہے وہ شراب ہو یا ڈرگس ہو، ہمارے لئے حرام ہے، جب شراب حرام ہے تو ڈرگس کیسے ٹھیک ہے’۔
سجیت کمار کو ایک ویڈیو میں شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور میں کھیت میں دھان کی پنیری لگاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس ویڈیو کے اوپر وہ لکھتے ہیں کہ ‘سوپور کشمیر کی کھیتوں کی مٹی ویسی ہی ہے جیسے بہار کے کھیتوں کی مٹی ہے، کاشر تمل (کشمیری چاول)’۔
دریں اثنا لوگوں کا کہنا ہے کہ موصوف ڈی آئی جی کا یہ عوام دوست اور شائستہ اپروچ معاشرے پر بڑی حد تک اثر انداز ہوگا اور سماجی بیماریوں بالخصوص منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال کی بیخ کنی کے لئے موثر ثابت ہوسکتا ہے۔
ذیشان علی نامی ایک شہری نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک افسر وہ بھی پولیس افسر کا نرم رویہ عوام پر زیادہ اثر انداز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف ڈی آئی جی کا یہ اپروچ ایک قرآنی آیات کا حوالہ دے کر اپنی بات کو پیش کرنا اور دوسرا سماج کے مزدور طبقے کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا، اس کے انتہائی مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *