مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نیک دل اور نیک صفت انسان کا نام تھا : ماسٹر محمد عبداللہ

مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نیک دل اور نیک صفت انسان کا نام تھا : ماسٹر محمد عبداللہ

مدہوبنی: مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے جس پسماندہ علاقے میں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ قائم کرکے ملت پر احسان کیا وہ ناقابل بیان ہے، جامعۃ القاسم نے مختصر مدت میں جو علماء اور حفاظ علاقے کودیا ان کاشمار ناممکن ہے، گاوں اور دیہات کے بچے جن کا کوئی پرسان حال نہیں تھا انہیں علم سے آراستہ کیا اور اس طرح انہوں نے علم کی شمع روشن کی، یہ باتیں سماجی کارکن ماسٹر محمد عبداللہ نےگنپت گنج میں منعقد تعزیتی اجلاس سےکہا، انہوں نے اس موقع پر مفتی عثمانی کےتعلقات کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ جامعۃ القاسم سے لےکر امام قاسم اسلامک ایجوکیشنل ویلفیئر ٹرسٹ کے آفس دہلی تک ان کوبہت قریب سے دیکھا وہ نیک دل اور نیک صفت تھے، عمدہ اخلاق و کردار کےپیکر تھے،موقع پر جامعۃ القاسم کے ناظم تعلیمات مفتی عقیل انورمظاہری نے کہا کہمفتی محفوظ الرحمن عثمانی موقر اور بڑے عالم دین تھے، مصروفیت کے باوجود گاوں اور سماج کی ہمیشہ فکر کرتے،گنپت گنج کے سرکردہ شخصیات کی ہمیشہ خبر دریافت کرتے،جامعۃ القاسم کے کارگزار مہتمم قاری ظفر اقبال مدنی نےکہاکہ میں بہت شکرگزار ہوں کہ آپ نے اپنے محسن کویادکیا،اور ان کےلئے دعاء مغفرت کااہتمام کیا، آئندہ بھی نیک دعاؤں میں یاد رکھیں،مفتی محمد انصار قاسمی موقع پر موجود طلبہ جامعۃ القاسم کومخاطب کرتےہوئے کہاکہ مفتی عثمانی کی خوبیاں اپنے اندر پیداکریں، وقت کی حفاظت، قوت حق گوئی وبےباکی، محنت و جانفشانیَ،اخلاق کی بلندی اور مہمان نوازی ان کی خاص صفت تھی یہ اپنےاندر پیدا کریں یہی ان سےسچی محبت کی علامت ہوگی،مفتی محمد امان اللہ قاسمی جنرل سیکرٹری جمیعۃ علماء سپول نے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کاتذکرہ کرتے ہوئے کہا جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کےساتھ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ایمان وعقیدہ کے تحفظ کی ہمیشہ فکر کرتے تھےاور باطل کےلئے چٹان بنےرہتے، دعاء ہےکہ ان کےجانشیں قاری ظفر اقبال مدنی اور معتمد مفتی محمد انصار قاسمی کواللہ ہمت وحوصلہ دے،مفتی رحمت اللہ نےکہاکہ میں سات سال جامعۃ القاسم میں بحیثیت طالب علم رہا، وہ ایک خادم کی طرح رہتے، ہرآنے جانےوالوں سےخلوص سےملتے اور ان کامکمل خیال رکھتے احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ذمہ دار اعلٰی ہے، موقع پر حافظ شمیم احمد عثمانی نےکہاکہ ملت متبحر عالم دین، مفکر تعلیم اور عظیم مصنف سے محروم ہوگئی جس کی تلافی مشکل ہے، خدا ان کابدل عطاکرے، اس تعزیتی اجلاس سےشاہ جہاں شاد جنرل سیکرٹری سیمانچل ڈیلوپمنٹ فرنٹ ،قاری محمد معاذ عثمانی امام وخطیب جامع مسجد گنپت گنج ،مولانا محمد سلیم وغیرہ نے اظہارِ خیال کیا، موقع پر ضیاء الدین، معین الدین نیتا، محمد متین ،عطا الرحمن پنچایت سمیتی ماسٹر مظفر حسین رحمانی ،رام چندر مکھیا، ڈاکٹر آر کے یادو، محمد یاسین، شاہد عبداللہ، منظور عالم ٹھیکدار،مولانا حفیظ قیصر ندوی ،محمد حسان، حافظ وکیل عنایت اللہ وغیرہ موجود تھے مفتی محمد انصار قاسمی کی دعا پرمجلس اختتام کوپہنچی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *