دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کا ’ووٹنگ حق‘ چھین لیا جائے: مہنت نریندر گری

دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کا ’ووٹنگ حق‘ چھین لیا جائے: مہنت نریندر گری

اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کا کہنا ہے کہ ’’آبادی کنٹرول قانون کے تحت یقینی بنایا جائے کہ تمام فرقے آبادی کنٹرول پر توجہ دیں۔ آبادی پر قابو پانے سے بہت سارے مسائل حل ہوں گے۔‘‘
ایک طرف آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے اعلان کر دیا ہے کہ ریاست میں سرکاری منصوبوں سے صرف وہی فیملی فائدہ اٹھا سکتی ہیں جن کے دو سے زائد بچے نہیں ہوں گے، اور دوسری طرف اتر پردیش میں ’دو بچوں‘ والی فیملی کو ترجیح دینے کو لے کر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ اس تعلق سے مشہور سَنت مہنت نریندر گری نے ایک متنازعہ بیان دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ دو سے زیادہ بچوں والی فیملی کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا جانا چاہیے۔
سادھو-سَنتوں کی سب سے بڑی تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری کے اس بیان سے ہنگامہ برپا ہونا لازمی ہے، کیونکہ اتر پردیش یا ملک میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندوؤں کی بیشتر فیملی بھی دو سے زیادہ بچوں پر مشتمل ہے۔ نریندر گری نے یوگی حکومت کے آبادی کنٹرول کے لیے تیار کیے جا رہے قانون مسودے کی بھی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ’’دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے والے شخص کا ملک میں ووٹ دینے کا حق ختم ہونا چاہیے اور حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے بھی انھیں محروم کیا جانا چاہیے۔‘‘
مہنت نریندر گری نے پیر کے روز دیئے گئے مذکورہ بیان کے بعد یہ بھی کہا کہ ’’سادھو سنت پہلے سے ہی یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ملک میں بڑھ رہی آبادی پرقابو پایا جائے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر روک نہیں لگائی گئی توآنے والے دنوں میں آبادی میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آبادی کنٹرول قانون کے تحت یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام فرقے آبادی کے کنٹرول پر توجہ دیں۔ آبادی پر قابو پانے سے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔‘‘

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *