ہندو قوم پرستی کے عروج  کے سایہ میں انڈین مسلمانوں کا مستقبل کیا ہے؟

محمد انعام الحق قاسمی
لجنہ علمیہ ، ریاض ، مملکت سعودی عرب
اگرمودی حکومت انڈیا کو بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور آرگنائزیشنس میں نمایاں مقام لینا چاہتی ہے، تو اسے ہر قسم کی عصبیت اور انتہاء پسند ہندو قوم پرستی کی خفیہ اور واضح خواہشات دونوں کو فوری طور پر ترک کرنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو انڈیا بدنامی اور نسل پرستی کا گڑھ بن جائے گا۔
دستاویزی  ریکارڈ کے مطابق کہا جاتا ہے کہ انڈیا کی سرزمین پر قدم رکھنے والا پہلا مسلمان مالک بن دینار تھے۔ بصرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شیخ جنہوں نے 629ء میں کیرالہ کے کوڈنگلور میں انڈیا کی پہلی مسجد بھی قائم کی تھی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے صرف سات سال بعد۔ وہ جگہ جہاں اس سے پہلے ایک ویران کھنڈر میں تبدیل خانقاہ نے قبضہ کیا کر لیا تھا اور اس وقت کے شہنشاہ چیرامن پیرومل نے مسلمانوں کے حوالہ کردیا تھا ۔ شکر گزاری کے اظہار میں انہوں نے مسجد کا نام ان کے نام پر رکھا جیسا کہ آج بھی چیرامن جامع مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان بقائے باہمی کا پرامن آغاز ہوا۔ لیکن آگے آنے والی صدیوں کے گزرنے کے ساتھ ہی یہ بے مثال اور شاندارتصویر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ہے  اب جو کچھ باقی ہے وہ محض فرقہ وارانہ تناو و کشیدگی اور کمزور طبقات کومارنا کاٹنا جیسی روایات ہی باقی ہے جو کسی بھی وقت مزید مہلک ہو سکتا ہے۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کے اثرات کو نظر انداز کررہي ہیں، بھارت میں ایک تصور تخلیق کررہي ہے کہ بھارت ایک خالص ہندو ریاست ہے جو دیگر مذہبی اقلیتوں کی شہریت سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ مئی 2014 میں مودی کے دوسری مدت کے لئے منتخب ہونے کے بعد، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں نمایاں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ ایک واقعے میں 22 سالہ تبریز انصاری کو موٹر سائیکل چوری کرنے کے شبہ میں درخت سے باندھ کر چار گھنٹے تک بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ جب پولیس پہنچی تو انہوں نے اس پر حملے کی اطلاع دیئے بغیر اور کوئی طبی علاج فراہم کیے بغیر تبریز کو تحویل میں لے لیا گیا ۔گرفتاری کے تین دن بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
گروگرام میں ایک اور مسلمان نوجوان کواسلام کی ایک مذہبی علامت  ٹوپی پہننے پر مارا پیٹا گیا، ایک اور معاملے میں ہندو انتہا پسندوں نے ٹرین میں ایک شخص پر حملہ کیا اور اسے ٹرین سے دھکیل دیا جب اس کی مسلم شناخت معلوم ہوئی ، ہندو قوم پرستی کے عروج کی محض ایک مثال کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ شہریوں کی گھناؤنی کارروائیاں ہیں، انتظامیہ کی طرف سے نہیں۔ لیکن اصل سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ  مجرمانہ کارروائیوں کے بارے میں انتظامیہ کا کیا نقطہ نظر ہے جہاں مجرم ہندو قوم پرستی سے متاثر ہوتے ہیں؟ اس کا جواب حیرت انگیز ہوسکتا ہے۔ جب تلنگانہ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے دھمکی دی کہ اگر آدی واشی خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے کوئی پایا گیا تو وہ مسلم نوجوانوں کا سر قلم کر دیں گے۔ ایک جرات مندانہ اور نسل پرستانہ بیان تھا، لیکن اسکے باوجود فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اگرچہ اقلیتی برادریوں کی طرف سے مقامی پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی۔
جب مودی نے خود یہ بیان دیا کہ فسادات سے بے گھر ہونے والے مسلمانوں کو پناہ دینے والے پناہ گزین کیمپ “بچے بنانے والے کارخانے” ہیں۔ ہندوستان میں مسلم کمیونٹی خوف و ہراس کی گرفت میں ہے، کیونکہ یہ حکومت ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے بجائے مزید حاشیہ بندی پر اکسا تی ہے۔ جب وہ 2002 میں گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے تو مودی کی بالواسطہ حمایت میں ایک فساد برپا ہوا جس میں 1000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ایک سینئر پولیس افسر نے بھارتی سپریم کورٹ میں گواہی دی  تھی کہ مودی نے اس وقت اس تشدد کا دفاع ایک جائز راستے کے طور پر کیا تھا جس کے ذریعے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف غصہ نکالنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ اس پولیس افسر سنجیو بھٹ کو 2011 میں ایک ایسے مقدمے کے لئے معطل کیا گیا تھا جو تقریبا تیس سال قبل 1989 سے چلا تھا اور 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد 2015 میں اسے برطرف کر دیا گیا تھا۔
2019 کے بھارتی انتخابات میں بی جے پی نے لوک سبھا (بھارتی دو ایوانی پارلیمنٹ کا ایوان زیریں) سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ٹکٹ دیا تھا جو ستمبر 2008 میں دس مسلمانوں کی جان لینے والے بم دھماکے کی ماسٹر مائنڈ سمجھی جاتی ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ کار بھارت کے وزیر اعظم مودی کو ان دشمنانہ اور عسکریت پسند حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان گھناؤنے واقعات کے بعد ان کی خاموشی اور غیر فعال حمایت اقلیتوں پر مزید حملوں کو اکساتی ہے۔
22 مارچ 2019 کو ایک بھارتی عدالت نے 2007 میں ٹرین بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں سات افراد کو بری کر دیا تھا جس میں 68 افراد ہلاک ہوئے تھے- ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔بی جے پی صدر اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی ٢٠١٤ میں مودی کے اقتدار میں آنے کے فورا بعد تمام الزامات سے بری کردیا گیا تھا۔ اس کے خلاف قتل، ڈرانے دھمکانے اور فرقہ وارانہ تشدد پر اکسانے سمیت مجرمانہ مقدمات کی ایک لمبی فہرست تھی۔
گجرات ہائی کورٹ نے 20 اپریل 2018 کو حکومت گجرات میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی سابق وزیر مملکت مایا کوڈنانی اور 2002 میں نرودا پاٹیا قتل عام میں ملوث ہونے کے الزام میں 32 دیگر افراد کو بری کردیا تھا جس میں 57 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مایا کوڈنانی کو اس سے قبل ایک عدالت نے مجرم قرار دیا تھا اور انہیں 28 سال عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن اب مودی کے دور میں وہ بغیر کسی سزا کے آزاد ہیں۔ مختلف اعلیٰ مناصب کے افراد کو اس طرح جلدی جلدی  بری کرنا ایک ایسا محرک ہے جو فرقہ وارانہ تشدد اور اقلیتوں خصوصا مسلمانوں پر حملوں کو بھڑکاتا ہے۔ ان طریقوں سے بھارت میں مسلمانوں کے بارے میں موجودہ حکومت کا موقف آسانی سے بیان کیا جاسکتا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے فروری 2020ءمیں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں مئی ٢٠١٥ سے دسمبر ٢٠١٨ کے درمیان اموات کی تشویشناک تعداد بیان کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ان سالوں میں 12 ریاستوں میں گائے کے محافظوں اور جنونی ہجوم کی طرف سے  44 افراد مارے گئے ہیں ان میں سے 36 مسلمان ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں نے اقلیتوں پر حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایک مقامی تنظیم انڈیا اسپینڈ انیشی ایٹو نے پایا کہ 2009 سے اب تک 90 فیصد مذہبی نفرت انگیز جرائم 2014 میں بی جے پی کے مرکزی حکومت کا اقتدار سنبھالنے کے بعد ہوئے ہیں۔ہر گزرتے دن حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مسلمانوں پر حملوں میں اضافے کو ظاہر کرنے والے خوفناک اعداد و شمار کے ساتھ، کچھ لوگ جو اپنے مستقبل کے بارے میں حقیقی خدشات رکھتے ہیں، اور انہوں نے یہ سوال پوچھنا شروع کردیا کہ کیا ہندو قوم پرستی اور تشدد ایک جیسی بلاء ہیں۔
بہت سی جگہوں پر اقلیتوں کی طرف سے ” قبضہ  ” کیے جانے کا من گھڑت خوف بہت سی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابات جیتنے کا ایک اہم عنصر رہا ہے۔مودی حکومت کے تحت انڈین مسلمانوں کو اسی نقطہ نظر کا سامنا کرنا پڑے گا۔  اس صورت حال میں ہندوستانی مسلمانوں کو اکٹھا ہونا چاہئے اور اس عارضی آفت سے نمٹنے کے لئے کارروائی کرنی چاہئے۔ بلاتفریق مذاہب، سبھی مسلمانوں کو ایک پلیٹ پر جمع ہونا وقت کی شدید مانگ ہے۔ دوسری طرف تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی اور سیاست میں ایک ہی جماعت کے جھنڈے تلے اکٹھا ہونا لازمی امر ہے۔
ایک واحد سیاسی مسلم جماعت ہی اس کا حل ہے ۔ ہندوستان میں دو اقلیتی برادریاں پہلے ہی ثابت کر چکی ہیں کہ سیاسی بااختیاری کے ذریعے سماجی اور معاشی ترقی حاصل کی جا سکتی ہے اور اس طرح کسی حد تک ان کے حقوق کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔اگرچہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) جیسی کچھ پرانی مسلم جماعتیں موجود ہیں لیکن ان کے اثر و رسوخ کا علاقہ محدود ہے جو تلنگانہ، کیرالہ اور مہاراشٹر ریاستوں کے اندر محدود ہے۔ لہٰذا بھارت بھر میں مسلمانوں کے ساتھ جاری امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کے نمائندوں کی اشد ضرورت ہے۔
نسلوں، ثقافتوں، مذاہب میں تقسیم صرف انتشار اور انارکی پیدا کرتی ہے۔ یہ ترقی کی راہ کا ایسا روڑا ہے کہ جب تک اسے دور نہ کیا جائے گا اسوقت تک ترقی کا خواب دیکھنا محض حماقت ہے۔  لہٰذا بھلائی اور فلاح و بہبود کی طرف بڑھنے کے لئے بھارتی شہریوں کو کسی فرقے یا عقیدے میں تقسیم کرنے کی کوششوں کو یکسرختم کرنے کے لئے اکٹھے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔اگر مودی حکومت بھارت کو بین الاقوامی پلیٹ فارموں پرنمایاں مقام دلواناچاہتی ہے تواسے ہر قسم کی عصبیت اور انتہاء پسند ہندو قوم پرستی کی پوشیدہ یا ظاہری تمام  خواہشات کو فوری طور پر ترک کردیا جانا چاہئے۔اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھارت بدنامی اور نسل پرستی کا گڑھ بن جائے گا۔

ads
SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com