مسلمانوں کے خلاف سرکاری سرپرستی میں جاری منافرتی مہم اور سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا غلط استعمال ملک سے سراسر دشمنی اور بغاوت: جمعیۃ علماء ہند

کلکتہ میں منعقد اجلاس مجلس عاملہ میں ایک اہم تجویز میں امت کے نوجوانوں اور طلبہ کی تنظیموں کو متنبہ کیا گیا کہ وہ جہاد کے نا م پر کسی فریب کا شکار نہ ہوں اور اپنے قائدین پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی باتوں پر عمل کریں۔ مجلس عاملہ نے مسلمانوں کے سلسلے میں غلط فہمی کے ازالہ کے لیے ضروری اقدام کا فیصلہ کیا
کلکتہ – نئی دہلی: جمعیۃ بھون کلکتہ کے مولانا اسعد مدنی ہال میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کے زیر صدارت قومی مجلس عاملہ کا دوروزہ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی آخری نشست آج صبح منعقد ہوئی۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ فرقہ وارانہ صورت حال سمیت ایک درجن ایجنڈوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا اور ان سے متعلق جمعیۃ کی جاری گرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔
سابقہ کارروائی کی خواندگی جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی نے کی، اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کا اصل کام، ملک و ملت کی فکر ی رہ نمائی ہے، جمعیۃ علماء ہند نے آزادی وطن اور اس کے بعد تقسیم وطن کے موقع پر ملت کی رہ نمائی کرکے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا تھا، جو تاریخ میں ہمارے لیے سرمایہ افتخار ہے۔ آج کی موجودہ صورت حال کافی تشویش نا ک ہے، اس ملک میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقد س کی کھلے عام گستاخی کی گئی، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، ایسے موقع پر ہم یہ کہہ کر اکتفا نہیں کرسکتے کہ محض الیکشن کے لیے نفرت کا بیج بویا جاتا ہے، بلکہ مسلمان اور اس کی مذہبی شناختوں پر حملہ عمومی شکل اختیار کرتاجارہا ہے، ایسے وقت میں جمعیۃ علماء ہند کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہو گی اور اسے آگے آکر حالات کا مقابلہ کرنا ہو گا، نیز ایسے لائحہ عمل طے کرنے ہو ں گے جن کے ذریعہ باہمی منافرت کی فضا ختم کی جاسکے اور یہ غلط فہمیوں کے ازالے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
چنانچہ مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس میں کافی غورو خوض کے بعد یہ طے کیا کہ سیرت و دیگر زیر بحث مسائل اور عناوین پر رسالے اور مختصر ویڈیوز تیار کرنے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کے قدیم شعبہ ’دعوت اسلام‘ کا احیا کیا جائے اور اس سلسلے میں مستقبل کے پلان تیار کیے جائیں۔نیز اہانت رسول کے مرتکبین کے لیے باضابطہ سزا دلانے سے متعلق قانونی اقدام کا جائزہ لیاگیا اور طے ہوا کہ سپریم کورٹ میں اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جو عرضی دائر کی گئی ہے، اس پر ہر ممکن کوشش کی جائے۔
مجلس عاملہ نے ایک اہم تجویز میں برسراقتدار پارٹی کی سرپرستی میں جاری منافرتی مہم اور سیاسی مفاد کے لیے مذہب کے غلط استعمال کو ملک سے سراسر دشمنی  اور بغاوت قرار دیا۔  چنانچہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ”سیاسی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے مذہب اور مذہبی علامتوں کا استحصال، ہماری ملکی سیاست کا انتہائی قابل مذمت مزاج بنتا جارہا ہے۔ سیاست میں وقتی مفاد اور الیکشن میں ووٹ بٹورنے کے لیے اکثریتی طبقے کو خوش کرنا اور جذباتی نعروں کے ذریعہ اس کی حمایت حاصل کرنا اور مسلمانوں اور ان کے حقیقی مطالبوں سے صرف نظر کرنا بھی اسی سیاسی ہتھکنڈے کا حصہ ہے۔“
مجلس عاملہ نے آگے تجویز میں مسلم دشمن عناصر کی سرکار کی حمایت اور حوصلہ افزائی پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ”مسلمانوں کو برانگیختہ کرنے کے لیے شعائر اسلام، مساجد، نماز اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کی توہین کے واقعات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں اور سرکار اور انتظامیہ کی طرف سے ایسے عناصر کی حمایت و حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔دوسری طرف مسلمانوں کو اشتعال دلاکر انھیں دیوار سے لگانے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش طویل مدت سے جاری ہے۔ حالاں کہ مسلم اور اسلام دشمنی کے اعلانیہ اور اجتماعی اظہار کے باعث عالمی سطح پر وطن عزیز کی بدنامی ہو رہی ہے اور اقوام عالم میں ہندستان کی متعصب، تنگ نظر، مذہبی انتہا پسندشبیہ بن رہی ہے، اس کی وجہ سے مختلف ممالک کے ساتھ ہمارے قدیمی تعلقات پر منفی اثرات پڑرہے ہیں اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر ہندستان مخالف عناصر کو اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔“
”ایسی صورت حال میں ملک کی سالمیت اور ترقی کے حوالے سے جمعیۃ علماء ہند، برسر اقتدار پارٹی کو متوجہ کرنا چاہتی ہے کہ وہ فوری طور پر ایسے اقدامات اور پالیسیوں سے بازآئے جو کہ جمہوریت، انصاف اور مساوات کے تقاضوں کے خلاف ہیں،نیز صرف اور صرف مسلم اور اسلام دشمنی پر مبنی ہیں۔ یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اکثریت کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے اپنے تسلط کو قائم رکھنا ملک کے ساتھ وفاداری اور محبت کے بجائے سراسر دشمنی اور بغاوت ہے۔
”بر سر اقتدار طبقے کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمانو ں کے خلاف نفرت پھیلانے والے عناصر کی مذموم حرکتوں کی وجہ سے ملک کی ترقی کے اقدامات پر پانی پھر گیا ہے اور ان کی ا فادیت پس پشت چلی گئی ہے، یہ ملک مسلمانوں کو نظر انداز کرکے کبھی بھی خوشحال اور ترقی یافتہ نہیں بن سکتا۔  جمعیۃ علماء ہند نے انصاف پسند اور ملک دوست افراد، جماعتوں اور گروہوں سے اپیل کی ہے کہ”رد عمل اور جذباتی سیاست سے کنارہ کشی کرتے ہوئے متحد ہو کر شدت پسند اور فسطائی طاقتوں کا سیاسی اور سماجی سطح پر مقابلہ کریں اورملک میں بھائی چارہ، باہمی روداری اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن جد وجہد کریں۔“
امت کے نوجوانوں کے لیے ایک خاص پیغام
”امت کے نوجوانوں اور طلبہ کی تنظیموں کو ہم خاص طور سے متنبہ کرنا چا ہتے ہیں کہ وہ اندرونی و بیرونی وطن دشمن عناصر کے براہ راست نشانے پر ہیں، انھیں مایوس کرنے، بھڑکانے اور گمراہ کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، ہمارے سامنے سیکڑوں مسلم نوجوانوں کی مثال ہے جنھیں جہاد کے نام پر دھوکہ دے کر پھنسایا گیا یا دہشت گردی کے جھوٹے الزامات لگاکر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔اس لیے بالخصوص مسلم نوجوانوں کو چاہیے وہ جہاد کے نا م پر کسی فریب کا شکار نہ ہوں اور اپنے قائدین پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی باتوں پر عمل کریں۔“
”وقت کا شدید تقاضا ہے کہ ہم اپنی بگاڑی گئی شبیہ کو بدلیں اور ملکی، ملی و دینی شعور کی ہم آہنگی کے ساتھ، جسمانی، ذہنی و ر وحانی طور سے تندرست، بہادر، جاں نثار، انسانیت دوست، او رملک کے وفادار شہری کا ایسا نمونہ پیش کریں جس پر ہمارے ملک و قوم کو ناز ہو۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو ایسے خطوط پر منظم کرنا چاہیے کہ ملک میں رونما ہونے والے آفات و حوادث یا بیرونی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے میں وہ سب سے آگے ہوں۔“
اس کے علاوہ مجلس عاملہ میں فروری کے اخیر ہفتہ میں قومی اجلاس مجلس منتظمہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ مجلس عاملہ میں خاص طور سے جمعیۃ کی ضلعی اکائیوں کو فعال و متحرک کرنے، ملت فنڈ کے قیام سے متعلق لائحہ عمل اور منصوبے پیش کیے گئے اور ان کو منظورکیا گیا۔نیز جمعیۃ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت مدارس کے طلبہ کو عصری تعلیم و سرٹیفکٹ سے آراستہ کرنے کی جاری مہم، انسداد ہیٹ کرائم،دینی تعلیمی بورڈ، اصلاح معاشرہ، ووٹر س بیداری مہم، جمعیۃ یوتھ کلب اور لیگل سیل کی رپورٹیں پیش ہوئیں، جن پر مجلس عاملہ نے اطمینان کا اظہار کیا۔
اس موقع پر صدر جمعیۃ علماء ہندمولانا مدنی نے اجلاس کے انعقاد اور ارکان عاملہ کی ضیا فت کے لیے جمعیۃ علماء مغربی بنگال کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری اور ان کے احباب کا شکریہ اداکیا۔مولانا صدیق اللہ چودھری نے تمام ارکان عاملہ کو مومنٹو پیش کیا اور طویل عرصے کے بعد کلکتہ میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی اجلاس مجلس عاملہ کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران ایک مختصر سی نشست بھی رکھی گئی جس میں مغربی بنگال کی ضلعی یونٹوں کے ذمہ داران شریک ہوئے اور ان کے سامنے جمعیۃ علماء ہند کے مختلف شعبوں کی رپورٹ پیش ہوئی۔
اجلاس میں صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی اور ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی کے علاوہ بطور رکن مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند، مولانا رحمت اللہ کشمیری، نائب امیرا لہند مولانا مفتی محمد سلمان منصورپوری، مولانا صدیق اللہ چودھری، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند، مولانا محمد سلمان بجنوری، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری، مولانا شوکت علی ویٹ، مفتی محمد جاوید اقبال قاسمی، مولانا نیاز احمد فاروقی، قاری محمد امین، مفتی عبدالرحمن نوگاواں سادات، مفتی احمد دیولہ گجرات، مولانا محمد عافل گڑھی دولت، ڈاکٹر مسعود اعظمی، مولانا سراج الدین معینی ندوی اور مفتی افتخار قاسمی کرناٹک شریک ہوئے۔
مدعو خصوصی کے طور پرمولانا عبداللہ معروفی، مولانا محمد ناظم پٹنہ، حاجی محمد حسن چینئی، مولانا منصور کاشفی تامل ناڈو، مفتی شمس الدین بجلی، مولانا محمد ابراہیم کیرالہ،حاجی محمد ہارون، مولانا عبدالقدو س پالن پوری، مولانا کلیم اللہ خاں قاسمی، حافظ عبیداللہ بنارس شریک ہوئے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com