مسلمانوں کی سیاسی پسماندگی اور اپنی قیادت

احمد شہزاد قاسمی

ads

ایک وقت تھا جب اتر پردیش اور کچھ دوسری ریاستوں میں مسلم رائے دہندگان کو فیصلہ کن یا کنگ میکر سمجھا جاتا تھا، اسی لئے سیکولرازم کے لبادہ میں ملبوس سیاسی جماعتیں مسلم ووٹوں کے حصول کی کوشش کیا کرتی تھیں۔ اس ضمن میں مسلمانوں کو ساتھ لے کر چلنے اور ان کی ترقی و خوشحالی کے اقدامات کے وعدوں اور اعلانات کے ساتھ انتخابی تیاریاں کی جاتی تھیں ۔ آج صورتِ حال اس سے مختلف ہے۔

ہندوستانی سیاست میں نفرت کی آمیزش نے ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی طور پر اس قدر بے وزن اور بے حیثیت کردیا کہ نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے وہ سربراہان جو مسلمانوں کے ووٹوں سے نیتا بنے اور اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہوئے اور آج بھی مسلم ووٹوں کے بغیر ان کا اقتدار تک پہنچنا نا ممکن ہے، مسلمانوں سے اس قدر چشم پوشی کررہے ہیں کہ اپنے انتخابی منشور میں مسلم مسائل کا ذکر اور اپنے اتحاد میں ان کی نمائندگی کی تو بات چھوڑ دیجئے، ان سے ووٹ مانگنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کر رہیں ۔ انہیں معلوم ہے کہ مسلم ووٹر ہر حال میں ہمیں ہی ووٹ کرےگا، دوسری طرف مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو چلا کہ یہ سیاسی جماعتیں ہمارا ووٹ تو چاہتی ہیں، لیکن ہماری ترقی و خوشحالی سے انہیں کوئی مطلب نہیں۔

اس صورتِ حال نے اتر پردیش کے موجودہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو دوراہے پر کھڑا کردیا اور بنیادی طور پہ مسلمانوں میں دو طبقے ہوگئے، ایک طبقے کی رائے یہ ہے ہمیں انہی سیکولر پارٹیوں پر بھروسہ کرنا چاہیئے اگرچہ وہ ہمارا استحصال کرنے پر آمادہ ہیں، تاہم نفرت کی سیاست کے خاتمہ کےلئے یہ ضروری ہے اس طبقے کے پاس اپنے دلائل ہیں۔

دوسرے طبقہ کا خیال ہے کہ آزادی کے بعد سے مسلسل ہم انہیں سیکولر سیاسی پارٹیوں کے حق میں ووٹ کرتے آرہے ہیں، انہوں نے نے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد سرکاری مراعات اور اقتدار کی عیش پرستیوں سے اپنی اپنی برادریوں کو تو مالا مال کردیا اور مسلمانوں کے حصہ میں فرقہ وارانہ فسادات اقتصادی سیاسی سماجی و تعلیمی پسماندگی آئی ۔ مسلمانوں کی موجودہ سیاسی بے وزنی کا ذمہ دار بھی یہی جماعتیں ہیں ۔ مسلمان بی جے پی کی مخالفت میں ان کا جھنڈا اٹھاتے رہیں اور انہوں نے منصوبہ بند طریقہ سے بی جے پی اور مسلمانوں میں اتنی دوریاں پیدا کردیں کہ انتخابی سیاست میں مسلمان اور بی جے پی دریا کے دو کنارے سمجھے جانے لگے۔ انہیں معلوم تھا کہ اتنی دوریوں کے بعد مسلمان بی جے پی کے ساتھ تو جائے گا نہیں اور بی جے پی کو ان کی ضرورت نہیں، ایسے میں بغیر طلب کے یہ ہمارے پاس ہی آئیں گے۔

سیکولر پارٹیوں کا یہی منافقانہ مفاد پرستی پر مبنی اور مایوس کن رویہ اس دوسرے طبقہ کو اپنی قیادت اپنی جماعت اور اقتدار میں شراکت جیسی باتوں کے لئے وجہِ جواز فراہم کر رہا ہے، اور یہ طبقہ اس حد تک اپنی قیادت کا حامی ہے کہ اگرچہ کسی مسلم سیاسی پارٹی کے انتخابات میں حصہ لینے کی بنا پر مسلم ووٹوں کے انتشار کے نتیجہ میں سیکولر پارٹیوں کی شکست اور فاشسٹ طاقتوں کی اقتدار میں واپسی ہو جائے، انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ہم اس الیکشن میں یہ تجربہ کرلیں اور کچھ نمائندوں کو کامیاب کر کے اسمبلی میں بھیج دیں تو آئندہ انتخابات میں یہ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کی بھول نہیں کریں گے۔

یہ تجربہ کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس صورت میں اس خدشہ کا حل ڈھونڈنا ہوگا کہ اگر مسلمانوں کا یہ رویہ دیکھ کر یہ سیکولر پارٹیاں جنہیں آپ سبق سکھانا چاہتے ہیں، فرقہ پرستوں کے ساتھ مل کر اقتدار کی کرسی آپس میں بانٹ لیں اور آپ بالکل محروم کردیئے جاؤ ۔ اس خد شہ کا حل مل جائے تو اپنی قیادت کا خواب دیکھا جا سکتا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ راتوں رات قیادت کے کھڑے ہونے کا خواب نہ دیکھا جائے اور نہ ہی اچھی اور مدلل تقریروں کو قیادت سمجھا جائے، اس کے لئے زمینی سطح پر محنت کی جا ئے، پہلے تمام مسلم سیاسی جماعتوں کا ایک وفاق بنایا جائے، ایجنڈا بنایا جائے، ترجیحات طے کی جائیں پھر ہر جماعت کو مخصوص مسلم اکثریتی نشستوں پر محنت کر نے کا ہدف دیا جائے، مثلاً اتر پردیش میں ایم آئی ایم، راشٹریہ علماء کونسل، پیس پارٹی، ایس ڈی پی آئی وغیرہ کا ایک وفاق ہو اور راشٹریہ علماء کونسل کو اعظم گڑھ اور جونپور – جو کہ پارٹی کے بنیادی اور مرکزی علاقے ہیں – کی مسلم اکثریتی یا چالیس فیصد مسلم ووٹرس والی نشستوں پر کام کرنے اور وہاں سے انتخابات میں حصہ لینے کا ہدف دیجئے، اسی طرح دوسری پارٹیوں کے لئے بھی محدود علاقوں میں کچھ خاص نشستیں مقرر کی جائیں، حسنِ کردار اور خدمتِ خلق کے ذریعہ دوسرے محروم ومظلوم طبقات کو متاثر کر کے  حکمتِ عملی سے ساتھ لانے کی کوشش کی جائے، ٹکراؤ کی فضا بالکل پیدا نہ کی جائے، پھر انتخابات میں حصہ لیجئے تو آپ کے حق میں مثبت نتائج آنے کی امید کی جا سکتی ہے ۔ اس کے بعد آپ کے لیے گٹھبندھن میں شمولیت کی راہیں بھی ہم وار ہوجائیں گی، اقتدار میں شراکت کی تمنا بھی پوری ہوجائے گی۔

 اپنی قیادت کا خواب پورا کیجئے! اس کے لئے سالوں سال محنت کیجئے، لیکن خدارا عین انتخابات کے وقت حصہ داری اور اپنی قیادت کا ’جن‘ بوتل سے باہر مت نکالئے ۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com