جب محافظ ہی لٹیرے بن گئے

طلحہ منان اے ایم یو، علی گڑھ 

سوچنے کا مقام ہے کہ جنہیں شہریوں کی حفاظت کے لئے تعینات کیا گیا ہے، جب وہی لوگ شہریوں کے لئے خطرہ بن جائیں تو کیا ہوگا؟ تصور کیجئے کہ وہ معاشرہ کیسا ہوگا جہاں محافظ ہی لٹیرے بن گئے ہوں؟
چھتیس گڑھ ہمیشہ سے ہی داخلی سلامتی کی نظر سے کافی اہم ریاست رہا ہے. ریاست کے نکسل متاثرہ علاقوں سے اکثر جرائم کے حادثات کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس بار خبر ایسی ہے جس کی مذمت شاید ہی کوئی ہندوستانی نہ کرے.
سن 2015 میں چھتیس گڑھ کے بستر علاقہ میں مبینہ طور پر 16 قبائلی عورتوں کے ساتھ جنسی استحصال کا گھناؤنا واقعہ کسے یاد نہیں ہو گا؟ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پولیس اہلکاروں کو بھی کٹگھرے میں کھڑا کر دیا تھا. گزشتہ ہفتہ قومی حقوق انسانی کمیشن (NHRC) کی طرف سے بستر میں ہوئے قبائلی خواتین کے جنسی تشدد پر کئی اہم جانکاریاں دی گئیں. کمیشن نے اسپاٹ انویسٹی گیشن اور نیوز رپورٹس کی بنیاد پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے کی گئی زیادتیوں کی معلومات ملنے پر تحقیقات شروع کی تھی. کمیشن نے بتایا ہے کہ سال 2015 میں چھتیس گڑھ کے بستر علاقہ میں پولیس اہلکاروں کی طرف سے مبینہ طور پر 16 قبائلی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا. اس کے علاوہ کئی قبائلی خواتین کو جنسی ہراساں بھی کیا گیا. الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے نومبر 2015 میں بیجا پور ضلع کے پیگداپلي، چنناگیلور، پیداگیلور، گنڈم اور برگيچیرو گاؤں میں خواتین کو جنسی ہراساں کیا تھا۔
جنسی تشدد سے جڑے معاملات میں 34 خواتین نے کمیشن سے شکایت کی تھی. کمیشن نے اپنی جانچ پڑتال کے دوران پایا کہ تمام متاثرہ خواتین قبائلی تھیں، جبکہ رپورٹ درج کرتے وقت پولیس نے ایس سی-ایس ٹی ایکٹ پر عمل نہیں کیا. پولیس نے قبائلی خاندانوں کو بنیادی سہولیات سے بھی دور رکھنے کی کوشش کی تھی. اس سلسلے میں کمیشن نے چھتیس گڑھ حکومت کو ایک نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے کہ آخر حکومت کی جانب سے متاثرین کے لئے 37 لاکھ روپے کا عبوری بجٹ کیوں نہیں پاس کیا جانا چاہئے؟ کمیشن نے کہا کہ اس کو 34 خواتین کی جانب سے جسمانی استحصال، جنسی تشدد، جسمانی ظلم و ستم کی شکایتیں ملیں اور ہر معاملے میں الزام سکیورٹی پر لگائے گئے ہیں۔
پولیس اور سکیورٹی کا ایسا غیر انسانی رویہ ہمارے معاشرے میں کوئی نئی بات نہیں ہے. سن 1991 میں جموں و کشمیر کے كنان اور پوشپورا کے دل دہلا دینے والے واقعات کو یاد کر اب بھی روح کانپ جاتی ہے جب فوج کے ایک گروپ کے ذریعہ دیہات کی عورتوں کے ساتھ گینگ ریپ کئے گئے تھے جن میں عصمت دری کا شکار ہونے والی سب سے چھوٹی متاثرہ کی عمر صرف 14 سال تھی۔
اس سے پہلے بھی احمد آباد کے گاندھی نگر سی آر پی ایف کیمپ میں ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا تھا. جس کے بعد پولیس نے ایک سی آر پی ایف جوان کو حراست میں لیا تھا۔
یہ واقعات ہر ہندوستانی کو شرمسار کر دینے والے ہیں. سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کیوں وہ لوگ لٹیروں اور قاتلوں کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جنہیں ملک کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے. سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کا جرائم میں ملوث ہونا اور اس سطح تک گر جانا، ہماری داخلی سلامتی کے لئے اچھا اشارہ نہیں ہے. حکومتوں کو ایسے قوانین بھی پاس کرنے ہوں گے جس سے پولیس کی آزادی کی حد طے ہو سکے ورنہ ہم اپنے ہی محافظ کے شکار بنتے رہیں گے۔

SHARE