تعلیمی اداروں سے ایسے افراد پیدا ہوں جو دنیا کی قیادت کرسکیں: امیر جماعت اسلامی ہند

فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کے ساتھ دو روزہ قومی کانفرنس اختتام پذیر 

 نئی دہلی: (پریس ریلیز) ”ا سلام میں تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسی مناسبت سے ہمارے تعلیمی اداروں کا ویژن اونچا اور بلند ہونا چاہئے۔ اسلام کا تعلیمی ویژن، پوری دنیاکی تعمیر کا ویژن ہے۔یہی تعلیم مطلوب ہے۔  ہندوستان میں تعلیم کے حوالے سے جو وسائل ہیں، اس میں توسیع ہونی چاہئے۔ ابھی بھی کئی ایسے گاؤں ملک میں ہیں جہاں کے لوگوں کو تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ہمارا تعلیمی نظام اسمارٹ ہو، زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے۔ ہمارے جو تعلیمی ادارے ہیں، وہ تعلیم کو معیاری اور اس کی توسیع کا کام کرنے کی سمت میں کوشش کررہے ہیں مگر توجہ اس پر بھی دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ادارے معیاری ہوں“۔یہ باتیں امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کی جانب سے نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ قومی کانفرنس میں کہی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے  تعلیمی اداروں کو سب سے اعلیٰ اور سب سے معیاری اور بلند ویژن والا ادارہ ہونا چاہئے۔ اور ان کا  مقصد پانچ چیزیں ہوں۔تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، اہلیت،رابطے اور کردار۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں یہ تجربات کرنے ہوں گے۔ یہ تجربہ کوئی نیا نہیں ہے۔ دنیا کے بہت سے تعلیمی اداروں میں ہورہے ہیں“۔

  جناب مجتبیٰ فاروق فیڈریشن   کے سکریٹری جنرل  اور چیئر مین مرکزی تعلیمی بورڈنے فیڈریشن کے  سیاق و سباق، تاریخ و تشکیل اور آگے کے راہ عمل پر روشنی  ڈالتے ہوئے کہا کہ ”بارہ سال پہلے فیڈریشن کی تاسیس عمل میں آئی تھی  جس کی سرگرمیاں اب پورے ملک میں پھیل چکی  ہیں۔فیڈریشن  کا مقصد ملک میں تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا اور انہیں قانونی و دیگر نوعیت  کا حسب ضرورت تعاون دینا ہے۔ انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو دین اسلام میں بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے کم وسائل دستیاب ہونے کے باوجود تعلیم و ریسرچ کی بنیاد ڈالی، اس سے  اشارہ ملتا ہے  کہ تعلیم کے حصول میں وسائل کا درجہ ثانوی ہوتا ہے۔ ہمارے پاس جتنے وسائل دستیاب ہیں،ان  کا استعمال تعلیم کے لئے کیا جانا  چاہئے“۔

مختلف ریاستوں سے تشریف لائے تعلیمی اداروں کے  ذمہ داران  نے  اپنے مسائل بتائے۔ان کی باتیں سننے کے بعد  سید تنویر احمد ڈائریکٹر مرکزی تعلیمی بورڈ نے ان چیلنجز کاسامنا  کرنے کے طریقے اور ان کے حل پر  روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ   ”اس وقت  جن چیلنجز کا ذکر ہوا، ان میں سے کچھ انفرادی ہیں، کچھ اسکول کی سطح کے اور کچھ اجتماعی ہیں۔ ان میں کئی ایسے چیلنجز ہیں جن کو ٹکنالوجی کی مدد سے حل کیا جاسکتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جن  کو فیڈریشن  دیکھے گی۔انہوں نے کہا کہ ” ذمہ داران کی جانب سے پیش کئے گئے چیلنجوں کا تعلق مینجمنٹ، اکیڈمک،وسائل،، لیگل ایشوز  اور ملت کے رویہ سے ہے جن کا حل باہمی کوششوں سے کیا جاسکتا ہے“ اور اس میں فیڈریشن کا بھرپور تعاون رہے گا۔  سی اے وقار الحق نے اسکول لیڈرس کے لئے اکاؤنٹ اور فنانس سے متعلق بات، انوپم  چودھری نے  اقلیتوں کے اسکولوں کو تعلیمی مراعات پر بات کی، ڈاکٹر شعیب ضیا خان نے ترقی کی بنیاد تعلیم  پر گفتگو کی، پروفیسر محمد اختر صدیقی نے  قومی تعلیمی پالیسی (2020)  کمیونٹی  کے تناظر میں چیلنجز پر بات کی۔ پروگرام  کو پروفیسر محمد اختر صدیقی، جسٹس کے ڈی نقوی، محترمہ ضیاء فردوس نے خطاب کیا۔  جناب مجتبیٰ فاروق نے اختتامیہ کلمات کہے۔ فیمی کے چیئر مین جناب منظور احمد آئی پی ایس و سابق وائس چانسلر آگرہ  یونیورسٹی نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہمسلمانوں کو تعلیم کے لئے اپنے اندر عزم و حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ تعلیم سے قوموں کو عزت ملتی ہے۔ فیڈریشن خزانچی جناب سلیم اللہ خاں کے شکریہ کے ساتھ اس دو روزہ کانفرنس کا اختتام ہوا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com