قربانی کا گوشت برادران وطن کو دینا : شرعی نقطۂ نظر

محمد نافع عارفی 

( کارگزارجنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل،بہار) 

قربانی کا مقصد اللہ سے اپنی محبت کا اظہار ہے، جانوروں کے ذبح کے ذریعہ ایک مسلمان اس بات کا عملی اعلان کرتا ہے کہ اللہ رب العزت کی محبت اوراطاعت پر اپنا سب کچھ قربان کردے گا،اس بات کی عملی شہادت بھی دیتا ہے، کہ وہ حضرت ابراہم واسماعیل علیہما الصلاۃ والسلام کی راہ پر چلتے ہوئے اپنے عزیز بیٹے کو بھی اللہ کے حضورقربان کرسکتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا ’ماہٰذہ الأضاحی یارسول اللّٰہ،قال:سنۃ أبیکم إبراہیم،قال:قلنا،مالنا منھا قال:بکل شعرۃ حسنۃ،(مستدرک حاکم،کتاب التفسیر،:3/148حدیث نمبر:3518)”اس قربانی کی کیا حقیقت ہے اے اللہ کے رسول!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، ہم نے پوچھا،ہمیں اس کا کیا بدلہ ملے گا،ارشادہوا،ہر بال کے بدلہ ایک نیکی۔“

سنت کا مطلب طریقہ ہے، یعنی جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ایک لوتے فرزند سیدنا حضرت اسماعیل کو ذبح فرمادیا تھا،یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کے بدلہ میں دنبہ بھیجا اور اس کی قربانی ہوئی،ورنہ توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کوذبح کے لیے پچھاڑہی دیاتھا، اسی طرح جانور کے ذبح کے ذریعہ اس بات کا اعلان ہے کہ ہم بھی اللہ کے لیے اپنی سب سے پیاری چیز بھی قربان کرسکتے ہیں، اولاد کی محبت کی طرح مال اورجانوروں سے محبت میں انسانی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے، جس طرح سیدنا ابراہیم نے اپنی محبتوں کواللہ کی محبت پر قربان کردیا اوردکھلادیا کہ اوراللہ کاحکم ہوتو مال کیاہے؟اولاد کی قربانی سے بھی بندہ مومن پرہیز نہیں کرتا،اسی طرح ایک مسلمان جانور کی قربانی کے ذریعہ اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ سب سے بلند برتر اللہ کی محبت ہے،اورزندگی کا مقصداللہ کی محبت پر قربان ہوجانا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے زبانی یہ اعلان فرمایا کہ ”کہہ دیجئے!یقینا میری نماز،میری قربانی، میرا جینا اورمرنااللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے“(سورۃ الانعام:162)سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے طریقہ کی پیروی کا اللہ نے حکم فرمایا ہے، اللہ پاک چاہتے ہیں کہ ہر مسلمان ان کے نیک بندے سیدنا حضرت ابراہیم کے نقش پا کو اپنی زندگی کا نصب العین بنالے،اللہ کاارشاد ہے:”تمہارے لیے ابراہیم (علیہ الصلاۃ والسلام)اورجو لوگ ان کے ساتھ ہیں کی زندگی بہترین اسوہ ہے۔(سورۃ الممتحنہ:4)اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والے کو حضرت ابراہیم کا اسوہ اپنانے کی تلقین کی ہے۔قربانی اسی اسوہ ئ ابراہیمی ی یادگاراوراظہار ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے فرمانبرداربندے بن کر رہیں گے۔قربانی کا سب سے اہم مقصدحصول تقویٰ ہے، اللہ کا ارشاد ہے:”نہ اللہ کوجانورکا گوشت پہنچتا ہے نہ خون،ہاں اللہ پاک تمہارے دلوں کے تقویٰ کو دیکھتے ہیں“(سورۃ الحج:37)

گوشت کے تقسیم کے سلسلہ میں مستحب یہ ہے کہ اس کے تین حصے کیے جائیں،ایک حصہ اپنے اوراپنے اہل وعیال کے لیے رکھا جائے،ایک حصہ خویش واقارب کو ہدیہ کردیا جائے۔جب کہ ایک حصہ غریبوں میں تقسیم کردیا جائے،گوشت کاغرباء میں تقسیم کرنا یا پڑوسیوں کو ہدیہ دینا مستحب ہے، قابل غوربات یہ ہے کہ پڑوسی غربامسلمان بھی ہو سکتے ہیں اورغیرمسلم بھی،تو کیا شرعاً قربانی کا گوشت غیر مسلموں کوہدیہ میں دینا جائز ہے یا نہیں؟اس سلسلہ میں بنیادی اصول اللہ پاک کا ارشاد ہے:”اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اورانصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتے،جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی نہیں کی اورتم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا،یقینا اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں“(سورۃ الممتحنہ:8)سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر 7تا9،مسلم غیر مسلم تعلقات کے بارے میں ایک اہم اصول کو واضح کرتی ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے اوران سے دوستی رکھنے کی مطلقاً ممانعت ہے؛بلکہ یہ ممانعت ان لوگوں کے ساتھ ہے جومسلمانوں سے آمادہئ جنگ ہیں اورجنہوں نے مسلمانوں کوگھر سے بے گھرکردیا ہے،ورنہ جن لوگوں کا معاملہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا نہیں ہے،ان کے ساتھ بہتر سلوک کرنا چاہئے اوراپنے آپ کو نقصان سے بچاتے ہوئے دوستی رکھنی چاہئے؛چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اس قدر لحاظ فرمایا کہ جب اہل مکہ قحط سے دوچار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مدد کے طورپر پانچ سو دینا بھیجے۔(سیر کبیر:1/96)مشرکین مکہ کے قائد ابوسفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے خود نکاح فرمایا،فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مغنیہ عورت کی مدد فرمائی،جو مدد کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھی؛اس لیے ہوسکتا ہے کہ یہی حسن سلوک آئندہ ان کے مسلمانوں سے قریب ہونے اوردوست بن جانے کا ذریعہ ثابت ہو؛چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بہت سے اہل مکہ،جو اس وقت مسلمانوں کے بدترین دشمن تھے، وہ بعد میں اسلام کے جاں نثار سپاہی بن کر کھڑے ہوئے۔

قربانی کا گوشت غیر مسلموں کودینے کے سلسلہ میں حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ کی یہ چشم گشا روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے، حضرت عبد اللہ ابن عمر کے گھرمیں بکری ذبح کی گئی،آپ گھر تشریف لائے تو پوچھا تو کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کو ہدیہ دیا؟پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت جبرئیل پڑوسیوں کے حقوق کے سلسلہ میں مجھے باربار وصیت کرتے رہے،یہاں تک کہ مجھے خیال گزرا کہ پڑوسی کو وراثت میں حق دے دیا جائے گا۔(ترمذی،حدیث نمبر1943)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقاً پڑوسی فرمایا،پڑوسی مسلم وغیر مسلم ہر کوئی ہوسکتا ہے، اس لیے حضرت عبد اللہ ابن عمر نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے اپنے یہودی پڑوسی کو گوشت ہدیہ کرنے کا حکم فرمایا،اوریہ روایت بخاری ومسلم کے علاوہ حدیث کی متعدد کتابوں میں آئی ہے، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت ابوبکر کو اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک اورصلہ رحمی کا حکم فرمایا،جب کہ وہ ابھی مسلمان نہیں تھی۔(بخاری،حدیث نمبر3183،کتاب الجزیہ والموادعۃ،مسلم،حدیث نمبر1003،کتاب الزکوٰۃ،باب فضل الصدقۃ علی الاقربین ولوکانوا مشرکین)

اسی طرح امام ابوحنیفہ،حسن بصری، امام ابوثوراوردیگر اہل علم نے غیر مسلموں کو قربانی کا گوشت ہدیہ دینے کی اجازت دی ہے، بلکہ بعض اہل علم نے اسے اچھا کام بتلایا ہے۔علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں:”جائز ہے کہ قربانی کاگوشت سے کافر کو کھلایا جائے،اس لیے کہ ایک طرح کا یہ نفلی صدقہ ہے، توتمام صدقات کی طرح غیر مسلم کو قربانی کا گوشت بھی کھلایا جاسکتا ہے“(المغنی:9/450)علامہ نووی نے علامہ ابن المنذر کا قول نقل کیا ہے، کہ ”حضرت حسن بصری،امام ابوحنیفہ،امام ابوثوروغیرہ نے قربانی کا گوشت غیر مسلموں کو دینے کی اجازت دی ہے“اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ نووی فرماتے ہیں ”میں نے اپنے مذہب کے ائمہ کا اس سلسلہ میں کوئی صریح قول تونہیں دیکھا،لیکن مذہب شافعی کے اصول وقواعد سے معلوم ہوتا ہے کہ نفلی قربانی کاگوشت غیر مسلموں کو بھی دیا جاسکتاہے۔“(المجموع شرح المہذب،باب الاضحیہ:8/404،مکتبہ اسلامیہ)حنفیہ نے مطلقاً خواہ قربانی نفلی ہو یا وجوبی،اس کا گوشت برادران وطن اورغیر مسلم بھائیوں کودینے کی اجازت دی ہے، صاحب ہندیہ تحریر فرماتے ہیں:”ویھب منھا ما شاء للغنی والفقیروالمسلم والذمي،کذا فی الغیاثیہ“(ہندیہ:5/300)قربانی کا گوشت امیروغریب،مسلم وغیر مسلم جسے جتنا چاہے دے سکتاہے۔

علامہ ابن باز سابق مفتی اعظم سعودی عرب اوردارالعلوم دیوبندکا بھی فتوی ہے کہ غیر مسلم کو قربانی کا گوشت دیا جاسکتا ہے۔ (دیکھئے:فتاویٰ ابن باز:18/48،فتاویٰ دارالعلوم،فتاویٰ نمبر:18714)

قربانی کا گوشت غیر مسلم بھائیو ں کو دینے میں تالیف قلب بھی ہے اوراپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک بھی، لیکن یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ گوشت ان کو ہی دیا جائے،جن کے بارے میں یقینی طورپر معلوم ہو کہ وہ گوشت کھاتے ہیں، شاکاہاری یعنی جو لوگ گوشت بالکل نہیں کھاتے ہیں انہیں قربانی کا گوشت دینا دل آزاری کے سبب ہونے کی وجہ سے دینا درست نہیں ہوگا۔اسی طرح غیر مسلم بھائیوں کو صرف اسی جانور کا گوشت دینا جائز ہوگا،جن کاکھانا ان کے مذہب کے اعتبار سے درست ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com