تاریخ کے مطالعہ و تدریس کی ضرورت

مولانا عبد الحمید نعمانی 

تاریخ اور ماضی کے واقعات کے حوالے سے حال کو مکدر کرنے کی کوشش، ملک و ملت کے مفاد میں قطعی نہیں ہے ۔ ملک و ملت اور تاریخ کے سلسلے میں جب متنازعہ پہلو سامنے آئیں گے تو بنیادی سوالات کر کے اصل اور صحیح جوابات تک رسائی ایک دیانت دار آدمی اور سنجیدہ طالب علم کے لیے ضروری ہو جاتا ہے ۔ اگر اصل سوال اور موضوع کو نظر انداز کر کے باتیں کہی اور لکھی جائیں گی تو افہام و تفہیم کی بہتر راہ ہموار نہیں ہو سکتی ہے ، ایک طویل عرصے سے دیکھا جا رہا ہے کہ مغربی و یورپی مورخین و مفکرین اور ان کے زیر اثر دائیں بازو کے مورخین و مفکرین، زیر بحث موضوعات و مسائل کے بنیادی سوالات و جوابات کو نظر انداز کر کے پٹے پٹائے سوالات اور رٹے رٹائے جوابات کو اچھالتے رہتے ہیں ، ظاہرہے کہ یہ ایک غیر سنجیدہ رویہ اور بد دیانتی پر مبنی شرارت خیز اور شر انگیز عمل ہے، ذرائع ابلاغ کے بے تحاشہ پھیلاﺅ نے جہاں آنکھوں سے بہت سی اوجھل باتوں کو سامنے لانے کا کام کیا ہے ، وہیں سماج میں فرقہ پرستی ، اشتعال انگیزی اور غلط بیانیوں اور جھوٹ کو آگے بڑھا کر مختلف فرقوں خصوصاً اکثر یت کے ذہن میں نفرت و تعصب کو گھسانے اورجمانے کا کام بھی کیا ہے ، اس کا نشانہ سیدھے سیدھے اسلام ، مسلمان اور مسلم حکمراں ہیں ، اس تعلق سے مختلف موضوعات پر لکھی جانے والی کتابوں، مختلف زبانوں کے اخبارات و رسائل میں شائع مقالات و مضامین ، تبصرے، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر جاری مباحث و باہمی تنقیدوں میں کئی طرح کی باتیں سامنے آتی ہیں ، بھارت کے تناظر میں اسلامی احکام و تعلیمات اور تاریخ کے مختلف موضوعات و شخصیات کو زیر بحث لاکر ملک کی اکثریتی کمیونٹی کو ایک مخصوص قسم کا پیغام دے کر اسے خاص ڈگر پر ڈالنا مقصد ہوتا ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے میں ہم نے کئی ساری کتابوں کا مطالعہ اور یوٹیوب پر بڑی تعداد میں موجود ویڈیوز کو دیکھا ہے ،یہ ویڈیوز ٹی وی چینلز کے ایسے ان گنت پروگراموں پر مشتمل ہیں جو مخصوص مقاصد کے تحت منصوبہ بند طریقے پر کرائے گئے اور کیے جاتے ہیں ، جن میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ اسلام، مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے متعلق اصل باتیں صحیح منظر پس منظر کے ساتھ نہ آسکیں ، اور ان میں عموماً ایسے افراد شامل و شریک کیے جاتے ہیں ، جن کو بولنے اور خود نمائی کا ازحد شوق ہونے کے ساتھ متعلقہ موضوعات و مسائل سے بنیادی ضروری باتوں کی بھی واقفیت نہیں ہوتی ہے ، کئی ایسے ہیں جو ملک کی سیاست اور قوانین کی اچھی معلومات رکھتے ہیں لیکن معاملے کے تاریخی و مذہبی پہلو کی مطلوبہ جانکاری نہ رکھنے کی وجہ سے اصل سوال کی ان دیکھی کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں ، اس کا لوگوں خصوصاً ہندو اکثریت کی ایک بڑی تعداد پر غلط اثر پڑتا ہے ، اس کو لگتا ہے کہ اسلام کی کمی اور مسلمانوں اور مسلم حکمرانوں کے جرائم و زیادتیوں پر پردہ ڈالنے کی سعی کی جارہی ہے ،جبکہ اصلاً ایسا کچھ نہیں ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ نہ اصل سوال اٹھایا جاتا ہے اور نہ اصل بات بتائی جاتی ہے ، اس کی ایک مثال معروف کانگریسی لیڈر اور سپریم کورٹ کے وکیل جناب سلمان خورشید کی کتاب Sunrise Over Ayodhya Nationahood in Our Times ہے اس کی کچھ باتوں کو لے کر دو معروف ٹی وی چینل پر مباحثہ و تبصرہ ہے ، ایک چینل پر نیوز پاٹھ شالا ، کے تحت خاصی تفصیل سے مسلم حکمرانوں کی طرف سے بار بار کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑنے اور پھر آخر میں اورنگ زیب کی طرف سے کاشی وشو ناتھ مندر کو توڑ کر اس کی جگہ اس کے حکم سے گیان واپی مسجد کی تعمیر کو زیر بحث لایا گیا ، In 1669, The Temple was destroyed get again by mughal emperor Aurangjeb , Who Ordered the Construction of The Gyanvapi Masque in its Place

(دیکھیں کتاب کا صفحہ 103مطبوعہ پنگوئن2021) ایک دوسرے معروف چینل (آج تک) پر بی جے پی کے تیز طرار اورخاصی تیاری اور معلومات کے ساتھ بولنے والے لیڈر سدھانشو ترویدی اور ممبر آف پارلیمنٹ جناب اسد الدین اویسی کے درمیان ہونے والے مباحثے و مذاکرے کو جب دیکھا تو احساس ہوا کہ بات کو صحیح تناظر میں دیکھنے کے لیے صحیح تاریخ کے مطالعہ و تدریس کی کس قدر ضرورت ہے ، اٹھائے نکات و سوالات کے جوابات بآسانی دیے جا سکتے تھے ، لیکن جوابات نہیں دیے گئے ، سلمان خورشید نے اپنی کتاب میں اسکند پران کے کاشی کھنڈ کا بھی حوالہ شیو اور وشو ناتھ مندر کے ذکر کے تحت دیا ہے ، لیکن لگتاہے کہ انھوں نے نہ تو اسکند پران دیکھا ہے اور نہ اس کے کاشی کھنڈ کا مطالعہ کیا ہے ۔ اسکند پران گیتا پریس گورکھپور سے شائع کردہ دستیاب ہے ۔ الگ سے کاشی کھنڈ بھی ملتا ہے ، اس کے حساب سے کسی طرح بھی جامع مسجد گیان واپی کے پاس وشو ناتھ مندر ہونے کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے ۔ جیسا کہ مرقع بنارس اور تاریخ آثار بنارس میں، شری کرشن ورما کی کتاب کاشی اور وشو ناتھ مندر کے دیے اقتباس سے واضح طور سے معلوم ہوتا ہے ، ورما صاحب نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جامع مسجد ،وشو ناتھ جی کے مندر کی جگہ پر نہیں ہے ۔ (مرقع بنارس صفحہ170)

اورنگ زیب نے کچھ سیاسی اسباب وجوہ ، حکومت مخالف سرگرمیوں اور سرکار کے خلاف منشاءو مقصد کاموں کے پیش نظر بنارس کے ایک آدھ مندر کو توڑنے کا حکم دیا تھا، لیکن (کاشی وشو ناتھ ) مندر توڑ کر اس کی جگہ جامع مسجد گیان واپی بنانے کا سرے سے کوئی مستند معاصر حوالہ موجود نہیں ہے ۔ اول تو یہی ثابت نہیں ہے کہ جامع مسجد گیان واپی اورنگ زیب کی تعمیر کردہ ہے ۔ کئی دیگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ بنارس کی مسجد ، اورنگ زیب کے داد پر داد ا اکبر جہانگیرکے زمانے سے بھی پہلے کی تعمیر کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں قدیم کتاب گنج ارشدی اور تذکرہ المتقین فی احوال خلفاءسید بدیع الدین ؒ کے حوالے موجود ہیں ،اویسی صاحب ، سلمان خورشید کے حوالے پر سوال اٹھا سکتے تھے لیکن وہ ایک تاریخی معاملہ پر 1991ءکے عبادت گاہ قانون کی بات کرتے رہے ، بنارس کے نامعلوم مندر کو سیاسی اسباب سے توڑنے کا ذکر کئی مورخین نے کیا ہے ۔ خود اورنگ زیب کے منشی وعہدے دار، ساقی مستعد خان نے اس کا ذکر اپنی ”ماثر عالمگیری” میں کیا ہے ، لیکن کسی نے بھی کاشی وشو ناتھ مندر توڑ کر مسجد تعمیر کی بات نہیں کہی ہے ۔ ہمار ا خیال تھا کہ سلمان خورشید نے اپنے اتنے بڑے دعوے پر کوئی مستند معاصر حوالہ دیا ہوگا، لیکن ہم نے اپنی عادت کے مطابق اصل کتاب دیکھے بغیر کچھ کہنے لکھنے سے گریز کیا اب ان کی کتاب دیکھنے سے پتا چلا کہ انھوں نے اپنے دعوے پر سرے سے ہی کوئی حوالہ نہیں دیا ہے ۔ اگر کوئی قابل قبول حوالہ دیا جاتا تو وہ قابل توجہ ہوکر زیر بحث آسکتا تھا۔ ایسی حالت میں تاریخ کے مطالعہ و تدریس کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے بڑے تعلیمی اداروں اور مدارس میں کم از کم وسطی درجات سے تاریخ کی تدریس و مطالعہ وقت کا اہم تقاضا معلوم ہوتا ہے ۔

noumani.aum@gmail.com

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com