صحافیوں کو مکمل غیر جانب دار اور بے خوف ہوکر وہی دکھانا چاہیے جو کہ زمین کی سچائی ہو! کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کی طرف سے پریس کلب آف انڈیا میں ” انڈین میڈیا اینڈ الیکشن کوریج“ سیمینار سے صحافیوں کا خطاب

نئی دہلی: (پریس ریلیز) متبادل میڈیا کے صحافیوں کو میڈیا ایجنسی کی طرح کام کرنا ہوگا اور تمام طرح کے اختلافات کو بھلاکر ایک دوسرے کو مواد لین دین کی حد تک باہمی امداد کا ماحول بنانا ہوگا ان باتوں کا اظہار پریس کلب آف انڈیا کے صدر گوتم لہیری نے پریس کلب میں کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کی طرف سے صحافیوں کیلئے “میڈیا اینڈ الیکشن کوریج” کے موضوع پر منعقد سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا،گوتم لہیری نے کہا کہ 2024 انتخاب کے زمانے میں پریس کلب آف انڈیا کی طرف سے صحافیوں کی قانونی مدد کیلئے اور اس دوران صحافیوں کے ساتھ آنے والے مسائل کو الیکشن کمیشن تک پہونچاکر حل کرنے کیلئے ہیلپ سینٹر بنایا جائےگا، لہیری نے کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کی ٹیم کو بھی اس سلسلے میں متحرک رہنے کی بات کہی۔

موقع پر خطاب کرتے ہوئے نیوز کلک کی کنسلٹنگ ایڈیٹر بھاشا سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں صحافت کر پانا بےحد مشکل کام ہے لیکِن یہ فرض آپ سب کو نبھانا ہوگا اور اس کیلئے آپ کو حقیقی صحافت کو سمجھ کر اپنے نظریات کو پرے رکھ کر وہ دکھانا ہوگا جو کہ زمین کی حقیقی سچائی ہے، بھاشا سنگھ نے کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن جیسی میڈیا تنظیم کو وقت کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ متبادل میڈیا کی دوسری تنظیموں کو بھی آپس میں کورڈینیٹ کرکے آگے بڑھنا ہوگا، بھاشا سنگھ نے صحافیوں سے کہا کہ جب ہم رپورٹنگ کیلئے جائیں تو بس ہم خیال لوگوں کے درمیان پھنس کر نہیں رہ جائیں بلکہ عام لوگوں کے درمیان جائیں اور لوگوں سے بات کر اُن کے مسائل و اُن کی سونچ کو پڑھنے کی کوشش کریں اور ہمیشہ انڈر د لائن کہی گئی بات پر غور کریں، بھاشا سنگھ نے کہا کہ آج صحافت دو حصوں میں پوری طرف بنٹ چکی ہے جس میں ایک صحافت وہ ہے جس کے پاس پیسے اور سیاسی گٹھ جوڑ ہے اور دوسری طرف آپ ہے جو کہ ملک کے آئین و صحافت دونوں کو بچتے دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو مکمل غیر جانب دار ہوکر کام کرنا ہوگا اور آپ کو یاد رکھنا ہوگا کہ اب عوام بیدار ہو چکی ہے وہ صحافیوں کو بھی سرچ کرتی ہے اور صحافیوں سے بھی سوال کرتی ہے ۔

واضح ہو کہ پریس کلب آف انڈیا میں کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کی طرف سے متبادل میڈیا کے ذمّہ داران و دُوسرے صحافیوں کیلئے الیکشن کوریج سے متعلق ایک سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا تھا جس میں کئی سینئر و نوجوان صحافیوں نے خطاب کیا اور درجنوں کی تعداد میں صحافی و صحافت کے طلباء و طالبات نے شرکت کیا تھا۔

سیمینار میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے صدر و ملت ٹائمس کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے تمام مقررین و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ ملک بھر میں ضلعی و علاقائی سطح تک پر سیٹیزن جرنلزم کر رہے صحافیوں کو صحافتی تربیت،صحافتی اصولوں کی سمجھ و قانونی امداد فراہم کرکے ملک میں مضبوط آزاد غیر جانب دار صحافت کو کھڑا کریں،شمس تبریز قاسمی نے کہا کہ یہ سیمینار بھی ہم نے اِس لیے منعقد کیا ہے کہ سینئر صحافیوں کے ذریعے الیکشن کوریج کے اُنکے تجربات کو سمجھیں اور اُسے ملک بھر کے صحافیوں تک پہونچائے تاکہ آنے والے 2024 کے انتخاب میں ایک صحتمند صحافتی کوریج دیکھنے کو مل سکے۔

دی کوئینٹ کے پولیٹیکل ایڈیٹر آدتیہ مینن نے کہا کہ ہمیں خیال رکھنا چاہیے کہ ہماری صحافت میں صرف وہی دکھایا جائے جو کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہورہاہے نہ کہ وہ دکھایا جائے جوکہ ہم چاہتے ہیں کہ ہونا چاہیے، آدتیہ مینن اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کے زمانے میں چلنے والی جھوٹی خبروں اور سیاسی لیڈران کے دعووں و الزامات کے فیکٹ چیک پر ہمیں توجہ دینا چاہیے اور نفرت پر مبنی تقریروں کو بھی زیادہ سے زیادہ ایکسپوز کرنا چاہیے، اُنہوں نے کہا کہ ہمیں پارٹیوں کے مہمات میں ہونے والے خرچ اور اُسکی آمد کو بھی عوام کے سامنے لانا چاہئے اور ای.وی.ایم سے لےکر ہر طرح کی دھاندلی پر بھی نظر رکھنی چاہیے،آدتیہ مینن نے کہا کہ عوام میڈیا کے ذریعے جاننا چاہتی ہے کہ کون جیت رہا ہے اور کون ہار رہا ہے تو ایسے میں ہمیں یہ دھیان رکھنا ہے کہ ہمارا کام کسی کیلئے ماحول بنانا یا کسی کیلئے ماحول بگاڑنا نہیں ہے لہٰذا ہم وہی دکھائیں جوکہ زمین کی سچائی ہے۔

سینئر صحافی معروف رضا نے اپنے صحافتی تجربات پیش کرتے ہوئے تلقین کیا کہ الیکشن کور کرتے ہوئے ہمارے پاس پرانے الیکشن کا ڈیٹا اور حقائق و تحقیق پر مبنی مواد ہونا چاہیے اور ہمیں چاہیے کہ کسی ایک جگہ پر بس ایک نظریہ کی جمع بھیڑ کا بیان لینے کے بجائے غیر منظم عوام کے بیانات لیں جیسے کہ رکشے والے،ٹھیلے والے،چلتے پھرتے لوگ کے بیانات،معروف رضا نے کہا کہ آپ دوسرے میڈیا اِداروں کی زبان ضرور سنیں لیکِن اُن کی زبان بولے نہیں بلکہ اپنی زبان پیدا کریں جو کہ غیر جانب دار ہو اور صحافتی اصولوں پر مبنی ہو، اُنہوں نے کہا کہ الگ الگ علاقوں میں جانے پر وہاں کے مقامی صحافیوں کی مدد ضرور لیں لیکن اُن پر منحصر نہیں ہوں کیونکہ مقامی صحافیوں کے بھی اپنے سیاسی تعلقات ہو سکتے ہیں جسکا اثر آپ کی رپورٹنگ پر آ سکتا ہے لہٰذا خود عوام کے درمیان زیادہ سے زیادہ جانے کی کوشش کریں۔

کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری و ناؤس نیٹورک کے بانی ایڈیٹر علی جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ایک ایسا عوامی مقام تھا جسے صحافی،دانشوران اور ایکٹوسٹ مل کر عوام کی مضبوط نمائندہ بناتے تھے اور وہ میڈیا جمہوری ریاست کی ضرورتوں کو سامنے لاتا تھا مگر آج یہ بات کھوگئی ہے لہٰذا کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ ایسے عوامی مقام کو واپس لیا جائے اور اس کیلئے ہم سب کے مل کر ایک تحریک کی طرح کام کرنا ہے۔

ایم.ایکس نیوز کے ایڈیٹر شکیل احمد نے بھی سیمینار کو خطاب کیا اور تلقین کیا کہ سارے صحافی جن ڈیٹا کا استعمال کرے اُس کو محفوظ کرکے بھی رکھیں تاکہ آگے کوئی مسئلہ آئے تو آپ کے پاس وہ ڈیٹا محفوظ رہے اور جب رپورٹنگ کیلئے جائے تو اپنے تحفظ کو لےکر بھی محتاط رہے، شکیل احمد نے صحافیوں سے کہا کہ ہم لوگ تھمنیل وغیرہ بنانے میں جذباتی جملوں کے استعمال سے بچیں کیونکہ وہ آپ کی صحافت اور بعض دفعہ آپ کے تحفظ کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اُنہوں نے صحافیوں سے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی رپورٹنگ کارڈ الیکشن کمیشن سے حاصل کرلیں اور انتخابات کے اعلان کے بعد کمیشن کی طرف سے آنے والے گائیڈ لائن کا مطالعہ بھی ضرور کرلیں۔

سینئر صحافی پرشانت تنڈن نے صحافیوں کو قانونی علم حاصل کرنے اور خاص کر صحافت و آزادی رائے سے متعلق قوانین و عدالتوں کے فیصلے کو پڑھنے کیلئے کہا، اُنہوں نے کہا کہ ایک فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ “خالصتان زندہ آباد کہنا سیڈیشن کے دائرے میں نہیں آتا ہے بلکہ اگر ایسے ارادے سے کوئی ملک مخالف کام ہوتے ہوں تو وہ سیڈیشن میں آتا” یہ اور ان جیسے بہت سے فیصلے ہے جو کہ آزادی رائے کی آزادی کیلئے بہت اہمیت رکھتے ہیں جن کا جاننا ہم سب کیلئے ضروری ہے بلکہ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک حد تک عدالت کے فیصلوں پر بھی تنقید کا حق ہمیں حاصل ہے، اُنہوں نے کہا کہ صحافیوں سے متعلق الگ الگ صوبوں میں بھی حکومتوں نے پالیسیاں بنائی ہے جسے ہمیں پڑھنا چاہئے، پرشانت تنڈن نے کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن سے اُمّید ظاہر کیا کہ فاؤنڈیشن کی طرف سے صحافیوں کی قانونی تربیت پر بھی منصوبہ تیار کیا جائے گا ۔

الیکشن اینڈ میڈیا کوریج سیمینار میں نظامت کی زمہ داری كوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے بانی رکن اور اِنصاف ٹائمس کے چیف ایڈیٹر سیف الرحمٰن نے نبھائی اور کہا کہ ہمارے آج کے سیمینار کا مقصد تھا کہ ایک طرف کارپوریٹ، میڈیا و خاص سیاسی نظریات کے گٹھ جوڑ پر بات ہو سکے تو وہیں وہ نکات بھی سامنے آ سکے جس کو سامنے رکھ کر ہم انتخابات کا اس طرح کوریج کر سکے جس سے کہ عوام کے بنیادی مسائل،ملک کی تعمیر و سماجی انصاف کے بنیادی سوال انتخابی سیاست کی بحث کا حصہ بن سکے و حاشیے پر موجود طبقات کی بات بحث کا حصہ بنے اور ملک کا انتخابی و جمہوری نظام مضبوط ہو سکے۔

پریس کلب آف انڈیا کے منیجنگ کمیٹی ممبر، کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے بانی رکن اور ایشیاء ٹائمس کے بانی ایڈیٹر اشرف علی بستوی نے خطبہ اختتامیہ دیتے ہوئے تمام مہمان مقررین و سامعین صحافیوں کا شُکریہ ادا کیا اور بتایا کہ ہمارا فاؤنڈیشن اُن تمام موضوعات پر کام کرنے کیلئے غور کر رہا ہے جن کے متعلق مشورے یہاں پر آئے ہیں اب چاہے وہ صحافیوں کے قانونی تربیت کی ہو یا پھر ایک ایجنسی کی شکل میں ایک دوسرے کے درمیان باہمی امداد کا ماحول بنانے کا ہو۔

کوگٹو میڈیا فاؤنڈیشن کے اس سیمینار کو کامیاب کرنے میں ناؤس نیٹورک کے حبیب اللہ رحیمی،يسرا،ابوذر جاوید، دی کلیرین کے صحافی وقار حسن،حق میڈیا کے بانی فیض الباری،اسٹوریز کارواں کے بانی اسد اشرف،الجزیرہ کے صحافی مہربان علی، جورنو مرر کے بانی ایڈیٹر محمد علی، خبر اڈہ کے بانی ایڈیٹر انظر آفاق، ملت ٹائمس کی روبا انصاری، پیر محمد تمنے، افسر علی وغیرہ کا اہم کردار رہا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com