کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے!

محمد عنایت اللہ اسد سبحانی

حقیقت یہ ہے کہ سید قطب شہیدؒ کو قدرت نے اتنا نوازا تھا، اتنی متنوع صلاحیتوں سے مالامال کیا تھا، قرآن کا ایسا فہم اور دین کی ایسی بصیرت عطا فرمائی تھی، فکر کی ایسی بلندی، ذہن کی ایسی زرخیزی، اور کردار کی ایسی رعنائی بخشی تھی کہ اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
وہ ایک بے مثال اور زبردست مفسرقرآن تھے۔ اگر کسی کو قرآن کا شیریں، حیات بخش اور روح پرور درس پینا ہو، تو وہ ان کی تفسیر کا مطالعہ کرے۔

وہ ایک صاحب طرز اور جادوبیان ادیب تھے۔

وہ ایک زباں آور اور شعلہ بیان خطیب تھے۔

وہ ایک نہایت قادر الکلام اور جاندار شاعر تھے۔

وہ ایک دیدہ ور اور بیباک صحافی تھے۔

وہ ایک بیدار مغز اور صاحب بصیرت سیاست داں تھے۔

وہ ایک وسیع النظر اور نکتہ رس ناقد تھے۔

وہ ایک مخلص، ہوش مند اور ہردلعزیز قائد تھے۔

مختصر اور جامع لفظوں میں بس یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اللہ کی ایک نشانی تھے۔ بہت ہی زبردست اور انتہائی عظیم نشانی!!

کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے، جبکہ انہوں نے مصر کی خوفناک اور لرزہ خیز جیلوں میں رہتے ہوئے، رات ودن کی جسمانی اذیت اور روحانی عذاب کو جھیلتے ہوئے ’’فی ظلال القرآن‘‘ جیسی خوبصورت، ایمان افروز، روح پرور، دلکش اور پرشکوہ تفسیر لکھ ڈالی۔

’’فی ظلال القرآن‘‘ اس لحاظ سے دنیا کی تفسیروں میں سب سے منفرد تفسیر ہے کہ وہ بالکل اس ماحول میں رہ کر لکھی گئی ہے، جس ماحول میں قرآن پاک نازل ہوا۔ جس طرح نزول قرآن کے وقت صحابہ کرام ظلم کی بھٹی میں تپائے جارہے تھے، اسی طرح سید قطبؒ بھی ’’فی ظلال القرآن‘‘ لکھتے وقت ظلم کی بھٹی میں تپائے جارہے تھے۔ اور جس طرح قرآن کی آیات سے اس وقت صحابہ کرامؓ کے دلوں کو ٹھنڈک اور ذہنوں کو روشنی حاصل ہوتی تھی، اسی طرح جیل کے لرزہ خیز مظالم کے دوران قرآن ہی سید قطبؒ کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ اسی سے ان کے دل کو ٹھنڈک اور ذہن کو روشنی حاصل ہوتی تھی۔

یہی وجہ ہے، اس تفسیر میں جیسا ایمان، جیسی روحانیت، جیسی بلندی، جیسی گہرائی اور جتنی تاثیر پائی جاتی ہے، وہ کسی اور تفسیر میں نہیں ملتی۔

پھر کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے، جبکہ انہوں نے جیل کے اندر خوں خوار کتوں سے نچوائے ہوئے زخمی اور لہولہان جسم کے ساتھ ’’معالم فی الطریق‘‘ (اردو ترجمہ: نقوش راہ) جیسی روشن، متوازن، مدلل، دلکش اور حیات بخش کتاب لکھ ڈالی، جس نے پورے عالم عرب میں ہلچل مچادی۔ مردہ دلوں میں زندگی کی روح پھونک دی، مسلم نوجوانوں کے اندر اسلامی نظام اور اسلامی قانون کے لیے بے چینی پیدا کردی۔ اور متفقہ طور سے وہ وقت کی سب سے مقبول اور انقلابی کتاب تسلیم کی گئی، حتی کہ ماسکو اور واشنگٹن کے دروبام ہلنے لگے۔ اس بیسویں صدی کی جاہلیت کے ستون لرزنے لگے۔ اور وقت کے طاغوت اکبر نے اس انمول، اس پرنور، اس علم سے معمور سر کی بھاری سے بھاری قیمت ادا کرنے کا اعلان کردیا۔ اور پھر مصری حکومت نے نہایت ذلت کے ساتھ وہ گھناؤنا اور شرمناک کھیل کھیلنے کا فیصلہ کرلیا جس کے تصور سے آج بھی کلیجہ کانپنے لگتا ہے۔

پھر کیا وہ اللہ کی زبردست نشانی نہیں تھے، کہ حکومت مصر تو انہیں امریکہ بھیجتی ہے، کہ وہاں کے تعلیمی نظام اور تعلیمی نظریات کا گہرا مطالعہ کریں پھر مصر واپس آکر انہیں مدارس اور مصری جامعات میں نافذ کریں۔ مگر وہاں پہنچ کر وہ امریکہ ہی سے متنفر ہوجاتے ہیں۔ وہاں کی معاشرت، وہاں کے ماحول، وہاں کے نظام اور وہاں کی بے کردار مشینی زندگی، غرض وہاں کی ایک ایک چیز سے سخت بیزار ہوجاتے ہیں۔

وہ اسے تہذیب وتمدن کا گہوارہ تسلیم کرنے کے بجائے نہایت بلندنگاہی کے ساتھ اسے ایک بھاری ورکشاپ کا نام دیتے ہیں۔

ساتھ ہی ان کے اندر دینی غیرت اور اسلامی حمیت کے شرارے دہکنے لگتے ہیں۔ انہیں اسلامی نظام، اسلامی قانون، اسلامی تہذیب، اسلامی طورطریق، غرض اسلام کی ایک ایک چیز سے والہانہ محبت معلوم ہوتی ہے۔

وہ بے چین ہوجاتے ہیں کہ جلد سے جلد اپنے وطن واپس جائیں اور وہاں جو لوگ امریکی نظام اور امریکی تہذیب سے مرعوب ہیں، انہیں بتائیں کہ انہوں نے امریکہ کو کیا پایا! وہاں انسانی اقدار کے ساتھ کیسا شرمناک سلوک دیکھا!

ساتھ ہی انہیں بتائیں کہ اسلام کی شکل میں اللہ تعالی نے انہیں کتنی زبردست نعمت عطا کی ہے، جس کی وہ ناقدری کررہے ہیں۔ اور اسی ناقدری کے نتیجے میں وہ دشمنوں کے غلام بنے ہوئے ہیں!!

چنانچہ وہ یہی جذبۂ بیتاب لے کر مصر واپس آتے ہیں۔ اور مغربی تہذیب کے لیے ایک تیغ بے نیام بن جاتے ہیں۔ وہ امریکی نظام کے سارے تاروپود بکھیر کر رکھ دیتے ہیں، اور مسلم عوام کے اندر اسلامی نظام اور اسلامی شریعت کے لیے ایک تڑپ پیدا کردیتے ہیں۔

مغربی تہذیب کے علم برداروں کا اعتراف ہے کہ ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سید قطب شہید کی طاقتور اور موثر تحریریں ثابت ہوئی ہیں۔

 

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں