معروف اسکالر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس سے سینئر صحافی قاسم سید کی خاص بات چیت

معروف اسکالر ڈاکٹر قاسم رسول الیاس سے سینئر صحافی قاسم سید کی خاص بات چیت

ڈاکٹر قاسم رسول الیاس بہت محترک، ہمہ جہت شخصیت ہیں، وہ ویلفیئرپارٹی آف انڈیا کے صدر، مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن، سینئرصحافی اور مسلم مجلس مشاورت کےعلاوہ دیگر کئی اہم اداروں میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، انہیں سنجیدہ اور باخبر مسلم لیڈر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ’روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر وسینئر صحافی جناب قاسم سید ‘ نے ان سے مسلم مسائل پرخصوصی  گفتگو کی ہے ، انہوں نے بغیر کسی رو رعایت کے ہر سوال کا جواب دیا۔اہم اقتباس قارئین کے نظر ہیں:(ملت ٹائمز)

 

lایسا کیوں لگتا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کنفیوزن کا شکار رہا اور معاملہ الجھتا گیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بھی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد کوئی راستہ نہیں بچا۔ریویوپٹیشن عام طور پر مسترد ہوجاتی ہے اور اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ فیصلہ اور سخت آئے۔ دوسراراستہ پارلیمنٹ کا ہے ایک بار گئے تھے آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی حالات میں پارلیمنٹ سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاتی جہاں تک بورڈ کا معاملہ ہے وہ تمام مکاتب فکر کا ادارہ ہے اس کا موقف بھی متوازن اور معتدل ہوناچاہئے۔ وہ کسی ایک مکتب فکر کا ترجمان نہ بنے کیونکہ یہ واحد ادارہ ہے جس میں ملت کی بھرپور نمائندگی ہے اس کا وقار ہے ۔ کورٹ میں سب کی بات رکھنی چاہئے تھی ۔ اب جو فیصلہ آیا ہے نہ حنفی ہے نہ سلفی ۔ اس نے ایک ساتھ تین طلاق کو ہی غلط قرار دے دیا ۔ بدقسمتی سے مقدمہ پوری طاقت سے نہیں رکھاگیا زور دینے پر ضمنی حلف نامہ داخل کیا اگر کسی دوسرے مسلک کوبنیاد بناکر فیصلہ آتا تو اسےخلاف شریعت نہیںکہاجاسکتا تھا۔ اب یہ فیصلہ ہی خلاف شریعت ہے البتہ مقدمہ پوری طاقت سے لڑاگیا مگر وہ ایک ساتھ تین طلاق کو شریعت کا لازمی حصہ ثابت کرنے پر تھا ۔ کورٹ نے کہا یہ بتائیے کہ تین طلاق ایک ساتھ شریعت کا لازمی حصہ ہے تو اس کا جواب اثبات میں دیاگیاتوجو ایک مجلس میں تین طلاق کو ایک مانتے ہیں وہ شریعت سے الگ ہے۔

lاس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟

بورڈ کا اصلاح معاشرہ پروگرام موثر ہوسکتا تھا بورڈ کے قیام سے اب تک اس پر محنت کرتے۔ شادی اور طلاق کے عمل کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر سے عوام کو آگاہ کیا جاتا تو شایدیہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ غالباً کورٹ کے دبائو کے بعد ہی فیصلہ سے قبل بورڈ کی میٹنگ میں ایڈوائزری جاری کی گئی طلاق سےپہلے کے تمام متبادل سے آگہی دی گئی اور کوئی صورت نہ نکلنے پر صرف ایک طلاق دینے کی نصیحت کی گئی ہے۔

بورڈ نے مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کے دور میں ماڈل نکاح نامہ تیار کیاتھا۔ اس مسئلہ پر شدید تنازع ہوگیا کہ حق طلاق عورت کو منتقل کیاجاسکتا ہے۔(تفویض طلاق) اتنا اختلاف ہوا کہ اس شق کو نکال دیاگیا۔اب سپریم کورٹ کے دئیے گئے حلف نامہ میں تذکرہ ہے کہ جب تک لڑکی نہ مانے طلاق نہیں ہوگی۔ اگر 2001کے ماڈل نکاح نامہ میں یہ موجود ہوتا تو 2017 میں اس شرمساری سے بچاجاسکتا تھا سوال یہ ہے کہ اس پردویژن کوکیوں شامل کیاگیا جبکہ اس زمانہ میں شدید اختلاف کیا گیاتھا۔

توکیا اب کوئی اختلاف نہیں ہوا۔

کسی سے پوچھا ہی نہیں گیا جو لوگ معاملات دیکھ رہے ہیں انہوں نے اپنی صوابدید سے فیصلہ کیا اور یہ غلط فہمی رہی کہ حلف نامہ میں اس شق کو شامل کرکے مسئلہ حل ہوجائے گا لیکن جو فیصلہ آیا وہ سب کے سامنے ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ پورے معاملہ کو صحیح طریقہ سے ہینڈل نہیں کیاگیا۔ آج تک کسی ذمہ دار نے سائرہ بانو تک سے ملاقات کی زحمت نہیں اٹھائی اس کے حالات سے واقفیت کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حالانکہ فیصلہ آنے کے بعد سائرہ نے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار کردیا اس کاکہنا ہے کہ دوسری خواتین کے لئے یہ لڑائی لڑی۔ بھارتیہ مہیلا سنگٹھن کوچھوڑدیں تو زیادہ فریقوںنے طلاق حسن اور احسن پر سوال نہیں اٹھایا صرف طلاق بدعت پر بحث کی۔مسلمانوں میں این جی اوزاور دیگر جو ایک ساتھ تین طلاق کے مخالف ہیں وہ شریعت مخالف نہیں۔ وہ قرآن میں طلاق کے طریقہ وتذکرہ پر زور دیتے ہیں۔ ان سے رابطہ کیاجانا چاہئے۔ فرق توضیح کا ہے اس لئے دوسرے کا موقف سننے سے افہام وتفہیم کی راہیں نکلتی ہیں۔ میں پھر قاضی مرحوم کا تذکرہ کروں گا انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ مختلف مسائل پر جید علما اور دیگر اسکالرز میں شریعت کے دائرے میں بحث ہوئی ان کے نتقال کے بعد یہ صحت مند سلسلہ ختم ہوگیا۔وہ بورڈ کو ہر وقت متحرک رکھتےتھے۔

کیا پہلے کےمقابلہ بورڈکی ساکھ متاثر ہوئی۔

بنیادی طور پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے وقت بورڈ کے ذمہ داران کو دہلی میں موجودہوناچاہئے تھا۔ نپا تلا ردعمل آتا۔ ہوا یہ کہ ہمارے وکیل حضرات پریس کانفرنس کرکے فیصلہ کو سراہ رہے تھے جبکہ فیصلہ آپ کے خلاف آیاتھا۔ وکیل صاحبان کو کس نے پریس کانفرنس کا مشورہ دیاتھا۔ بورڈ کی میٹنگ  میںیہ سوال ایک بڑے بزرگ ممبر نے اٹھایا کہ اب یہ کورٹ طے کرے گا کہ کون سا شرعی معاملہ دستوری تحفظ کے تحت آتا ہے اور کونسا نہیں یعنی طلاق ‘تعددازدواج‘حلالہ وغیرہ سب باہر کر دئیے گئے ۔ اس طرح ہر چیز نکال دی جائے گی اور ایسا کہنے میں کیا ہرج ہے کہ فیصلہ ہمارے خلاف آیا ہے ۔ اس پر لیپاپوتی سے حقائق تو نہیں چھپائے جاسکتےجو پہلا بیان جاری ہوا تھا خیرمقدم کیاگیا تھا حالانکہ پورے فیصلہ کے انتظار کے بعد پریس کانفرنس کرنی چاہئے تھی۔ ذمہ داران کی میٹنگ تومختصر نوٹس پر بلائی جاسکتی ہے فیصلہ آنے کے بارے میں پہلے سے معلوم تھا۔

رکنیت کا کیا معیار ہے

یہ شرعی تحفظ کا ادارہ ہے اس میں علمائے کرام‘وکلا‘ریاستوں کی نمائندگی اور چونکہ اصلاح معاشرہ کا کام بھی ہے تو بااثر شخصیات کو رکن بنانے میں ترجیح دی جاتی ہے خواہ کسی بھی سماجی حیثیت کے ہوں۔ کوئی باضابطہ رول نہیں اساسی ارکان کسی کو بھی رکن بنانے کا اختیار رکھتے ہیں۔ وہ تجویز پیش کرتے ہیں جو عام طور سے قبول ہوجاتی ہے کبھی مسترد بھی کی جاتی ہے۔ اس کا امکان رہتا ہے کہ اتنے بڑے بورڈ میں معیار کے مطابق لوگ نہ آئیں۔ اس میں 151 اساسی اور 100میقاتی ممبر میں میقاتی ممبر کی مدت تین سالہ ہے جبکہ اساسی ارکان تاحیات ہوتے ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ بعض مسالک کی نمائندگی کم ہے مولانا اصغر سلفی نے حال ہی میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔

وہ اپنی بات بورڈ کے سامنے رکھیں تو بورڈ اس پر غور کرے گا۔ مسلک کے لحاظ سے اہل حدیث کی مناسب نمائندگی ہے کیا وہ مرکزی جمعیۃ اہلحدیث ہند کی زیادہ نمائندگی کی بات کر رہے ہیں۔ یہ بات صاف ہونی چاہئے۔ ہاں اگر کہیں کوئی کمی ہے تو اس پر غور کرناچاہئے اور بورڈمیں اس کو اٹھایاجائے

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *