دین کی اصل بنیادیں قرآن و سنت اور صحابہ کے اجماعی فیصلے ہیں: مفتی محمد حذیفہ قاسمی

10
حق ایجوکیشن اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن میں تقلید کے عنوان پر علمی محاضرہ کا انعقاد
کانپو(ملت ٹائمز/پریس ریلیز)
شریعت اسلامیہ کے اصل مآخد قرآن و سنت ہیں، اور چونکہ پیغمبر علیہ السلام کی زندگی کی تشریح، آپ کی منشاء و مراد سمجھنے کیلئے آپ کی اہلبیت ازواج مطہرات، آپ کے معتمد خاص اول دور سے اسلام کی خاطر ہر چھوٹی بڑی قربانی پیش کرنے والے آپ کے وہ چاروں خلفاء جن کی اتباع کو آپ نے اسی طرح لازم قرار دیا جس طرح اپنی اتباع کو لازم قرار دیتے تھے، ان سب کو سامنے رکھ کر شریعت کا نچوڑ سمجھا جائے گا، اسلئے خلفائے راشدین کے فیصلے بھی ہمارے لئے دین میں حجت اور سند ہونگے۔ نیز شریعت کا کچھ حصہ مقدم اور مؤخر ہے جس کے نتیجے میں ناسخ اور منسوخ کی معلومات اور جانکاری رکھنا بھی اسلامی شریعت پر عمل کرنے کیلئے از حد ضروری ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے ناظم تنظیم مولانا مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی نے حق ایجوکیشن اینڈ ریشرچ فاؤنڈیشن میں طلبہ کے درمیان تقلید کے عنوان پر محاضرہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ وہ حق ایجوکیشن نے ڈائرکٹر مولانا حفظ الرحمان قاسمی کی دعوت پر تشریف لائے تھے۔
مفتی حذیفہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا کون سا حصہ قیامت تک باقی رہنے والا ہے اور کونسا حصہ منسوخ ہوگیا ہے اس کیلئے خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کا تعامل یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ یہ آپ کی زندگی کا بعد کا معمول بہا حصہ ہے۔ یہی وہ نازک پہلو ہے جس کی بناء پر صحابہ کی زندگیوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے صحابہ کے طریقے کو راہ نجات قرار دیا اور جب آپ سے آپ کے صحابہ نے طبقہ ناجیہ اور جنتی طبقہ کے بارے میں سوال کیا کہ وہ کونسے لوگ ہونگے، آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ، وہ لوگ ہونگے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر گامزن ہوں۔ اسی لئے امت نے ہمیشہ پیغمبر اور پیغمبر کے صحابہ کو صراط مستقیم کا معیار قرار دیا، اور اسی بنیاد پر اہل حق نے اپنا نام اہلسنت والجماعت رکھا۔ نیز امت میں جتنے طبقے بھی اسی معیار کو نشانہ بناکر تحقیقی میدان میں آگے بڑھیں گے وہ سب جنتی اور معیار حق پر چلنے والے کہلائیں گے۔
مولانا نے کہا کہ جس طرح ائمہ مجتھدین کے ماننے والے مختلف طبقات اپنے جزئی اور فروعی اختلافات کے باوجود چونکہ ان سب کی بنیادیں قرآن و سنت اور صحابہ ہیں اسلئے وہ سب کے سب اہل حق اور راہ نجات پر چلنے والے کہلائیں گے اور جس طرح محدثین کا حدیثوں کو پرکھنے کے سلسلے میں بعض پہلوؤں سے اختلاف حق و باطل کا اختلاف نہ کہلاکر خدمت دین کے مقصد سے جزئی و فروعی علمی توسع کہلاتا ہے اور پوری امت ان فروعی اختلافات کے باوجود ان کی خدمات کو عظمت کی نگاہ سے قبول کرتی ہے، ٹھیک اسی طرح فقہائے اسلام کے فروعی اختلافات کو عظمت و محبت کے ساتھ قبول کرنا چاہئے، اور جو طبقہ مجتہدین و مستنبطین کی تحقیقات کو تفرقہ بازی کہنے پر مصر ہے ان کی خدمت میں مؤدبانہ عرض ہے کہ پھر وہ محدثین کے باہمی اختلاف آراء کو کیا نام دیں گے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ فقہاء کی شان میں گستاخی کرکے عنداللہ ماخوذ ہورہے ہوں۔
پروگرام میں حق ایجوکیشن کے فسٹ ائیر اور سیکنڈ ائیر کے طلبا سمیت تمام اساتذہ خصوصا ڈائرکٹر مولانا حفظ الرحمان قاسمی، مولانا جاوید قاسمی، مولانا مفتاح قاسمی، مولانا ابواسامہ نیز مولوی امین الحق عبداللہ، قاری محمد حذیفہ، ابودرداء معوذ اور ہلال احمد شریک تھے۔