معروف دانشور ،ماہر قانون پروفیسر فیضان مصطفی سے ملت ٹائمز کی خاص بات چیت

معروف دانشور ،ماہر قانون پروفیسر فیضان مصطفی سے ملت ٹائمز کی خاص بات چیت

پروفیسر فیضان مصطفے معروف دانشور اور ماہر قانون کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں،نلسار یونیورسیٹی آف لاءحیدر آباد کے وائس چانسلر ہیں،مسلم پرسنل لاء،طلاق ،بابری مسجد اور ملک وملت کے حالات پر ہمیشہ دوٹوک بات کرتے ہیں ،ان موضوعات پر وہ دسیوں مضامین لکھ چکے ہیں،لیکچر دے دے چکے ہیںاس کے علاوہ یوٹیوب کے ذریعہ مسلسل قانونی بیداری مہم بھی چلارہے ہیں۔انہیں امور پر ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے بھی ان سے خاص بات چیت کی ہے ۔مکمل انٹرویوملت ٹائمز کے یوٹیوب چینل پر نشر کیا جاچکاہے ،گفتگو کے اہم اقتباسات یہاں بھی تحریری شکل میںہم قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں(ادارہ)

سوال:
ملک کے ماجودہ حالات میں جس طرح حکومت کی طرف سے طلاق کے مسئلہ کو چھیڑا جارہاہے ،بابری مسجد کامسئلہ باربا راٹھایاجارہاہے ان سب کے پیچھے حکومت کی منشاءکیاہے ، کیا واقعی حکومت مسلمانوں کے مسائل کو سلجھانا چاہتی ہے یا پھر انتشار پھیلانا اور مزید پریشان کرنامقصد ہے ۔
میں یہ بات شروع سے کہتاہواآرہاہوں کہ پرسنل لاءکے موضوع پر کسی بھی حکومت نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے جس سے یہ سمجھاجائے کہ وہ مسلم پرسنل لاء کے ایجنڈہ کے خلاف ہے ۔تین طلاق والے مسئلہ میں حکومت کی کوئی غلطی نہیں ہے ،یہ مسئلہ سپریم کورٹ نے اٹھایاہے اور غیر ضروری طور پر ۔اصل کیس تھا پرکاش بمقابلہ پھول وتی ،وہ ہندوخاتون کرناٹک ہائی کورٹ سے کیس جیت کر آئی تھی لیکن سپریم کورٹ میں ہار گئی ،اس کے بھائیوں نے اس کو 28واں حصہ دیاتھا جبکہ 2005 کے ہند واصلاحات کے بعد پانچواں حصہ اس کو ملنا چاہیئے تھا ۔سپریم کورٹ نے قانون کے تحت ہائی کورٹ سے جیتی ہوئی خاتون کو انصاف نہیں دیا اورغیر ضروری طور پر مسلم پرسنل لاءکے سلسلے میں ایک پی آئی ایل دائر کرنے کیلئے کہا۔دوسری بات یہ کہ جو مسلمان مرد مسلمان خاتون کو غیر اسلامی طریقے سے طلاق دیتے ہیں ،یا زیادتی کرتے ہیں تو اس خاتو ن کو یہ حق ہے کہ وہ عدلیہ میں جائے اور انصاف طلب کرے ۔ جج کو حق ہے وہ صورت حال کو سمجھ کر فیصلہ سنائے اور ایک تعلیم یافتہ شخص ہونے کی حیثیت سے میری ذمہ داری ہوگی کہ ہم اس فیصلہ کا جائزہ لیں ۔اس لئے اس معاملے میں حکومت کو میں زیادہ ذمہ دار نہیں مانتا اور ان کو الزام دینا درست نہیں ہے ۔حکومت نے تصدیق نامہ میں بھی یہی کہاہے کہ ہم دستوری لحاظ سے خواتین کے حقوق کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں،حکومت نے عالمی قانون کی دفعات کا ذکر کیا ہے ،ہندوستان میں مساوات کا جو تصور ہے اس کو شامل کیا گیاہے ،مسلم ممالک میں تین طلاق کے خلاف قانون کا ذکر کیا گیاہے ۔پہلے بھی کئی ہارکوٹ کے فیصلے اس طرح کے آچکے ہیں۔2002 میں بھی سپریم کورٹ کا اس طرح کا فیصلہ آچکاہے کہ ہم تین طلاق کو تین نہیں مانتے ہیں ۔ا سلئے میرا مانناہے کہ دیگر معاملوں کی طرح حکومت سے زیادہ اس معاملہ کوبھی میڈیا نے بہت زیادہ خراب کیا ہے ۔یہ بھی دیکھئے کہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر دستور ی اور غیر آئینی نہیں کہاہے بلکہ اسے غیر اسلامی کہاہے ا س سلئے تین طلاق سے شادی ختم نہیں ہوگی ۔

پروفیسر فیضان مصطفی اور معروف صحافی روش کمار ایک ساتھ دیکھے جاسکتے ہیں

سوال:
سپریم کورٹ میں تین طلاق کی متاثرہ جو پانچ خواتین گئی تھیں ان میں سے ایک عشرت جہاں ہے جس کے بارے میں اب یہ تحقیق سامنے آئی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو کوئی طلاق نہیں دی تھی ،اس کا دعوی ہے کہ بیوی کا کسی ا جنبی سے معاشقہ چل رہاتھا،14 سالہ بیٹی نے بھی ماں کی اخلاقی کمزوری کا اعتراف کیا ہے ،دوسری طرف شوہر کو عدلیہ کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں بھیجی گئی ،پوچھانہیں گیا کہ تم نے طلاق دی یا نہیں دی تو سوال یہ ہے کہ پھر فیصلہ کیسے آگیا ۔
جواب:
سپریم کورٹ ہندوستان کی سب سے بڑی عدالت ہے ،اس کا کام حقائق کو سامنے لانا نہیں بلکہ قانون کی تشریح ہوتی ہے ،حقائق کے معاملے پر فیصلے نچلی عدالتوں میں ہوتے ہیں،سپریم کورٹ نے قانون کی تشریح کرتے ہوئے بتادیاکہ اگر صلح سمجھوتہ کی کوشش نہیں کی گئی تو تین طلاق نہیں ہوئی ۔ اب کسی خاص معاملہ میں ہوئی یا نہیں اس سے سپریم کورٹ کو مطلب نہیں ہے ،سب سے اہم کیس سائرہ بانو کاہے اس میں بھی بیک وقت تین طلاق نہیں ہوئی ہے ،شوہر نے شادی بچانے کی پوری کوشش کی تھی ،تحریری شکل میں بھی اس نے لکھاتھاکہ ہم اپنی شادی کو بچانا چاہتے ہیں لیکن سپریم کورٹ نے ان سب کیسز کے بارے میںبتانے کے بجائے ایک عام قانون بتادیا البتہ یہ کہ کوئی معاملہ نیچے سے اوپر آئے جیسے بابری مسجد کا معاملہ ہے اس میں سپریم کورٹ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی ۔
سوال:
آپ متعدد مرتبہ یہ کہ چکے ہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ نے کچھ غلط فیصلے کئے ہیں ،حال ہی میں ایک ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے آپ نے کہاتھاکہ مولانا آج جس مسلم پرسنل لاءبورڈ پر الزام لگارہے ہیں اس کے کئی غلط فیصلوں میں یہ خود بھی شریک رہے ہیں ۔تو وہ کون سے غلط فیصلے ہیں جس کا آپ تذکرہ کرتے ہیں ۔
جواب:
دیکھیئے میرا یہ کہناہے کہ مسلم پرسنل لا ءبورڈ جس کو آپ مسترد کرنا چاہیں تو کہ سکتے ہیں کہ یہ ایک این جی او ہے ،یہ پوری قوم کی ترجمانی نہیں کرتاہے لیکن دوسری طرف حقائق دیکھیں گے کہ تو آپ کو معلوم ہوگا مسلمانوں کا یہ واحد ادارہ ہے جس میں سبھی مکاتب کے فکر کے علما ءو دانشوران شامل ہیں ،دوسری چیز گذشتہ سال جب یونیفارم سول کوڈ کا معاملہ تھا کہ یہ بنے یا نہ بنے تو اس وقت 5کڑور مسلمانوں نے اپنے آدھار کارڈ کے ساتھ یہ لکھ کر دیا کہ ہم مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ساتھ ہیں ، ہم کسی طرح کی تبدیلی نہیں چاہتے ہیں ،اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کا اس پر بہت زیادہ اعتماد ہے اور بڑی تعداد اس قیادت پر یقین رکھتی ہے تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے اور اسلامی قانون میں اصلاح بھی کرے ۔ قانونی اصلاحات کا ایک حصہ یہ تھا کہ حید رآباد کے اجلاس میں ماڈل نکاح نامہ پر بات ہوگی لیکن پوری کانفرنس مولانا سلمان ندوی کی نذر ہوگئی ۔ماڈل نکاح میں یہ شرط شامل ہونی تھی کہ کوئی بھی مرد اپنی بیوی کو تین طلاق نہیں دے گا اس پر کوئی بات نہیں ہوئی ۔بورڈ کی پوری تاریخ اٹھاکر دیکھیں تو ایسا لگتاہے کہ بورڈ نے اصلاحات کے سلسلے میں کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے حالاں کہ شاہ بانو کیس کے بعد کئی مواقع آئے ۔فیمنسٹ اور لبرل طبقہ کو ایسا لگتاہے کہ جب مسلم مردوں پر کوئی معاملہ آتاہے تو آ پ بہت سختی سے کہتے ہیں کہ یہ شریعت میں مداخلت ہے لیکن جب مسلم خواتین کے حقوق کہیں پامال ہوتے ہیں تو اتنی زور دار آواز نہیں اٹھتی ہے ۔ایک مثال میں آپ کو دوں کہ یوپی میں زمین داری ایسکوائزیشن لاءبنا ۔اس میں جو کاشٹ کی زمین تھی اس میں کہاگیاکہ بیٹیوں کو حصہ نہیں ملے گا صر ف بیٹوں کو ملے گا لیکن اسلام شہری اور دیہاتی زمین میں کوئی تفریق نہیں کرتاہے اور اس کے خلاف کوئی زور دار آواز نہیں اٹھی ۔اسی موقع پر علی گڑھ میں اسلامک فقہ اکیڈمی کی ایک کانفرنس ہوئی اس موقع پر مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی نے مجھ سے کہاکہ آپ اس پر اپنی بات رکھو ،میں نوجوان تھا اس لئے کہاکہ اتنے بڑے علما ءکے درمیان کیسے بولوں انہوں نے کہاکہ آپ کو بولنا ہے تو میں نے ایک شرط پر گفتگو کی کہ قرارد میں یہ بات شامل کی جائے گی اور قاضی صاحب کو اللہ غریق رحمت کرے ۔ انہوں نے میری بات کو قرارد اد کا حصہ بنایا ۔یہ بات بھی میں نے بارہاکہی ہے کہ جو مسلم قوانین ہیں اسے علماءکرام نے بنایاہے ،حنفی لاءہے ،شافعی لاءہے تو یہ ضروری ہے کہ علماءایک ساتھ بیٹھیں اور یہ غور کریں کہ کن چیزوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتاہے او رکن چیزوں میں حالات کے مطابق ترمیم کی جاسکتی ہے ۔
سوال :
حالیہ دنوں میں خواتین کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتاراجارہاہے ،پورے ملک میں خواتین احتجاج کرکے یہ مطالبہ کررہی ہیں کہ طلا ق بل کو واپس لیا جائے یا اس میں ترمیم کی جائے ،آپ کو کیا لگتاہے یہ اجتجاج موثر ہوگا ۔
جواب:
اگر یہ سب صرف احتجاج کیلئے ہورہاہے اصلاحات کیلئے نہیں ہورہاہے تو ہم اس سے متفق نہیں ہیں ہاں اگر یہ بات بھی شامل ہے کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ اصلاح کی مہم چلائے گی تو پھر اس کا فائدہ ہوسکتاہے ۔ اس بیداری مہم میں مسلم خواتین کو یہ بھی بتائیں کہ بل کی مخالفت کے ساتھ مسلم پرسنل لاءمیں اصلاحات بھی کی جائے گی۔جہاں تک بات ہے بل کی تو اس کے خلاف ہم نے بہت لکھاہے اور سب سے پہلے لکھاتھاکہ یہ بل ہماری دستوراور کریمنل لاءکی بنیاد کے خلاف ہے ،کریمنل لاءکی پہلی بنیاد یہ ہے کہ جس چیزکا وقوع نہیں ہوتاہے وہ جرم نہیں بن سکتی ہے ،جب سپر یم کورٹ نے کہ دیا کہ طلاق واقع نہیں ہوگی تو اب یہ جرم نہیں ہوسکتا ۔اس کے علاوہ دفعات میں جو تضاد ہے اس کی وجہ سے بھی میں نے مخالفت کی ہے ،اس کے علاوہ بھی کئی بل کے خلاف ہم نے لکھاہے جس کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔کریمنل لاءانفرادی آزادی کو نقصان پہونچاتاہے ،کریمنل لاءاسٹیٹ کے ہاتھ میں کٹھ پتلی ہے ۔ہندوستان اور دیگر ملکوں میں ہم نے دیکھاہے کہ گذشتہ پچیس سالوں میں ہر معاملے کو کریمنل ایکٹ سے جوڑا جارہاہے جو صحیح نہیں ہے اگر سماج میں زیادہ لوگ مجرم بن جائیں گے تو جرم قابل احترام بن جائے گا ۔ا سلئے کوشش یہ ہوکہ سماج میں کم سے کم لوگ مجرم ہوں ۔
سوال :
بابری مسجد کا قضیہ جو لوگ عدلیہ کے باہرحل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس کے پیچھے کو ن ہے کیا حکومت کے اشارے پر یہ سب ہورہاہے یا کچھ اور معاملہ ہے ۔
جواب :
بظاہر تو یہی لگتا ہے ،راجیہ سبھا کی سیٹ حکومت ہی دے سکتی ہے ۔بقیہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں، قانون میں سب بات صراحت کے ساتھ نہیں کہی جاتی ہے ، عقلمندوں کے لئے اشارہ کافی ہے ۔بابری مسجد معاملہ کی عدالت میں سنوائی ہورہی ہے ،ہولی چھٹیوں کے بعد پھر بحث ہوگی ،فیصلہ آجانے کے بعد ہندﺅ بہت زیادہ متشدد نظر آتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ خود ہندﺅوں کو وہ جگہ دے دیا یا مندر بناکر دے لیکن فیصلہ آنے سے قبل صلح سمجھوتہ کی کوئی بھی کوشش نہیں ہونی چاہیئے ،بہت دیر ہوچکی ہے ۔
سوال :
آپ ایک انٹر ویو میں یہ کہ رہے ہیں کہ مولانا سلمان ندوی کی وجہ سے سماج او رمعاشرہ میں پورے علماءکا وقار داﺅ پر لگ گیا ہے ایسا کیسے ممکن ہے ، ایک عالم دین کے معاملہ کو سبھی سے جوڑ کر کیسے دیکھاجاسکتاہے ۔
جواب:
دیکھیئے گذشتہ چار سالوں کے دورا ن میں نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ مسلم پرسنل لاءمیں قانونی اصلاحات کی قیادت علماءکریں ،ہمارے بیانات آپ گوگل کرکے دیکھ سکتے ہیں ،دی ہندو،ٹائمز آف انڈیا اور سبھی جگہ مل جائیں گے ۔ذر ا غور کیجئے کہ ایک دھارا جو بہ رہی ہے آپ اس سے الٹی طرف جارہے ہیں ،آپ ایک ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کا واضح ثبوت قرآن وحدیث سے بھی نہ ملتا ہے اور ایسی بات کہہ رہے ہیں جس سے سماج کو لگتا ہے کہ یہاں ڈیل ہورہی ہے ،راجیہ سبھا کی سیٹ کا معاملہ ہے ،پیسہ کا مطالبہ ہے تو یقینی طور پر سماج میں اس سے علماءکا وقار گھٹتاہے اور سماج میں ایک غلط میسیج جاتاہے ۔کیوں کہ علماءانبیاءکے وارث ہیں ۔ اب کسی بھی عالم کی ذات پر سوال اٹھتاہے تو پورے سماج کو تکلیف ہوتی ہے ۔ایک ڈاڑھی والا اگر ریپ کرتاہے ،کوئی جرم کرتاہے تو یہی کہاجاتاہے کہ ڈاڑھی والا ریپ کررہاہے ۔علماءکی عزت زیادہ ہوتی ہے ،سیاست دانوں کی ذاتی عزت کا معاملہ اتنا نہیں ہے ۔علماءکا خود فتوی ہے کہ جہاں ایک مرتبہ مسجد بن جاتی وہاں ہمیشہ مسجد رہتی ہے ،پہلی مرتبہ الگ راستہ اختیار کرتے ہیں، مسجد کی جگہ مندر بنانے کی بات کرتے ہیں،فلاح انسانیت بورڈ بنانے کاد عوی کرتے ہیں تو یقینی طو رپر یہی خیال آتاہے کہ مولانا کسی کے اشارے پر مسلم پرسنل لا ءبورڈ کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔دیکھیے کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ سے ہمیں شکایت ہوسکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے توڑنے کی کوشش کریں ۔ادارے کو توڑنے کے بجائے اسے مضبوط بنانا چاہیئے اور جب علماءتوڑیں گے تو سماج میں وقار داﺅ پر لگے گا ہی ۔
آخر ی سوال :
ہندوستان کے موجودہ حالات بہت خرا ب ہیں ،مسلمانوں پر چوطرف حملہ ہورہاہے ،عقائد ،شریعت ،معاشرہ ،اقتصادیات سبھی نشانے پر ہے ،یہ بھی کہاجارہاہے کہ اگر اگلی مرتبہ بی جے پی کی حکومت بن گئی تو ملک کا دستور بدل دیا جائے گا آپ کو بطور ایک ماہر قانون ہونے کی حیثیت سے کیا لگتاہے ۔
جواب:
دیکھیئے قانو ن میں کبھی بھی تبدیل ہوسکتی ہے ،اندرا گاندھی کے زمانے میں صرف چار دنوں میں آئین کی دفعہ 39 میں ترمیم کردی گئی تھی ۔کسی بھی حکومت کی دونوں ایوان میں اکثریت ہوگی تو وہ قانون بدل دے گی لیکن سوال یہ ہے کہ پورا دستور تبدیل کیا جاسکتاہے تو مجھے لگتاہے کہ ایسا نہیں ہوسکتاہے ،سپریم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ دستورہند کی بنیاد تبدیل نہیں کی جاسکتی ہے ،قانون پڑھانے کی حیثیت سے مجھے بھی اس بات کا یقین ہے کہ ہمار ا آئین نہیں بدلا جاسکتاہے ۔
ملت ٹائمز سے بات چیت کرنے کیلئے بہت شکریہ ۔
شکریہ

Comments: 2

Your email address will not be published. Required fields are marked with *