حضرت حکیم الاسلامؒ اور تاسیس مسلم پرسنل لاء بورڈ

مولانا محمد اظہار الحق قاسمی

استاذ دار العلوم وقف دیوبند
اس فناء پذیر کائنات میں خلعت دوام ان ہی کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی انفرادیت اور امتیاز کے دیے جلائے جاتے ہیں, جو اقلیم سخن کے تاجدار اور علم و عمل، فکرو فن کے شہسوار ہوتے ہیں، جن کے فیض سے سیرتیں بنتی اور ڈھلتی ہیں وہ عزو افتخار کی پیشانی پر طرۂ امتیاز بن کر ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں۔
حکیم الاسلامؒ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی شخصیت ان ہی دوائر علمیہ کی ایک ایسی آفاقی اور ہمہ جہت حیثیت کی تھی جن کی قابل تقلید زندگی، جہد مسلسل، حسن عمل، اخلاص و وفاء اور جذب و تحمل سے عبارت کے ساتھ دیگر بہت سے حسین عنوانات سے لبریز تھی، یقیناًان کی حیات کا ہر باب بحر بیکراں اور بعد والوں کے لئے نشانِ منزل ہے، حضرت حکیم الاسلامؒ کی حیات کا ایک عظیم الشان باب تو دارالعلوم دیوبند کا ساٹھ سالہ دورِ اہتمام ہے، مزید برآں تحفظ دین و شریعت اور دفاع دین کی خاطر آپ کی عظیم و ناقابل فراموش خدمات بھی تاریخ کا ایک عظیم باب اور بعد والوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔
انقلابِ ہند سے پہلے تحفظ دین
ہندوستان میں مسلم قوانین اور خاص کر مسلم پرسنل لاء کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مسلم عہد حکومت سے قبل ہندو عہد میں بھی مسلمانوں کے یہاں شرعی قوانین ہی کا نفاذ تھا اور اس کے لئے منجانب حکومت مسلمان قاضی و والی مقرر ہوا کرتے تھے جسے ’’ہنرمند‘‘ یا ’’ہنرمن‘‘ کہا جاتا تھا۔ قدیم سیاحوں کی کتب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔مغلیہ سلطنت میں بھی ہر قوم کا پرسنل لاء محفوظ رہا اور مسلمانوں پر ان کے شرعی قوانین نافذرہے۔ انگریزی حکومت کے تسلط کے بعد بھی انہوں نے عدم مداخلت کی پالیسی جاری رکھی لیکن یہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی تھی،ان کے دل کی آواز نہیں تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت انہوں نے فقہ اسلام کواگریزی زبان کا جامہ پہنانا شروع کیا، جس کے ذریعہ انہوں نے اہم مآخذ اسلامی بزبان انگریزی تیار کئے، جن حضرات نے قانون اسلامی کے مآخذ کو انگریزی زبان میں منتقل کیا وہ انگریزی زبان سے ناواقف، قانونِ اسلامی کے اصل سرچشموں سے نابلد، شریعت کے مزاج سے ناآشنا ہونے کے علاوہ اسلام کے بارے میں معاندانہ ذہن بھی رکھتے تھے۔ ان مآخذ کی تیاری کے بعد ۱۸۳۳ء اور ۱۸۵۵ء میں گورنمنٹ کی جانب سے دو کمیشن مقرر ہوئے اور دونوں ہی نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان قاضیوں کے ذریعہ فیصلہ کے طریقے کو موقوف کردیا جائے اور پھر ۱۸۶۴ء میں ہائی کورٹ ایکٹ کے ذریعہ پرانی عدالتیں منسوخ ہوگئیں اور قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا، گویا یہ قانون شریعت کو غیرموثر بنانے کی بالواسطہ کوشش تھی،عہدۂ قضاء کے ختم ہونے کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء کی حیثیت کو جو نقصان پہونچا وہ ظاہرہے، چنانچہ ۱۸۶۶ء میں فوجداری کا قانون ختم ہوا پھر قانون شہادت اور قانون معاہدات منسوخ ہوئے اور بالآخر مسلمانوں کے معاشرتی قوانین میں تبدیلی کی راہیں ہموار کی جانے لگیں۔
قیام دارالعلوم دیوبندکے بعد
۱۸۶۶ء میں قیام دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہی حضرت نانوتویؒ نے عائلی قوانین کے اجراء کی فکر کی اس لئے کہ دارالعلوم دیوبند ایک تعلیمی ادارہ کے ساتھ ساتھ ایک علمی اور دینی تحریک بھی تھی، جہاں اشاعت علوم نبویؐ کے ساتھ اسلامی تہذیب و تمدن کی بقاء اور تحفظ شریعت کی جد و جہد بھی، اس تحریک کا ایک مؤثر اور قابل ذکر حصہ تھا۔ چنانچہ حضرت نانوتویؒ نے دارالعلوم دیوبندمیں ہی غیررسمی انداز سے عہدہ قضاء قائم فرمایا جس کے لئے حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتویؒ بحیثیت قاضی مقرر ہوئے، جس کے تحت پرسنل لاء کے عائلی مسائل اور الجھے ہوئے معاملات شرعی اصول پر طے ہونے لگے۔ بالآخر تغیر احوال نے اس نظام کے دور بھی ختم کردیا لیکن تحفظ مسلم پرسنل لاء کی جو داغ بیل حضرت نانوتویؒ نے ڈالی تھی وہ دلوں کی زمین میں قائم ہوچکی تھی۔
ابھی انگریزی اقتدار پر نصف صدی بھی نہ گذری تھی کہ ہندوستانیوں میں سیاسی حقوق طلبی کا داعیہ پیدا ہوا، عامۃً سیاسی جماعتوں نے سیاسی مطالبات شروع کئے اور مذہبی مطالبات نظر انداز کردئیے جس سے دینی حقوق یعنی پرسنل لاء کے کالعدم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا، پیش آمدہ احوال کے مدنظر فخر الاسلام حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ مہتمم خامس دارالعلوم دیوبند کی سربراہی میں علماء دیوبند کا ایک وفد میمورنڈم لے کر دہلی پہونچا۔ جس میں یہ صراحت تھی کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل میں گورنمنٹ کوئی ایسا ایکٹ وضع نہ کرے جو شرعی قوانین سے متصادم ہو۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی تھا کہ ہندوستان میں پرسنل لاء کے اجراء کے لئے محکمہ قضا قائم کیا جائے، چوں کہ مسائل شرعیہ کی تنفیذ کے لئے مسلم حاکم شرط ہے، اس لئے قاضیوں کا انتخاب اہل سنت والجماعت سے ہو اور اس کونسل میں ہر فرقہ کے علماء نمائندے اور ممبر ہوں اور مسائل کا فیصلہ ہر فرقہ کے اپنے فقہی اصول کی بنیاد پر ہو۔
دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ مذہبی شعائر، مساجد، مدارس، مقابر،اوقاف، خانقاہوں اور دیگر دینی رفاہِ عام کے اداروں کی حفاظت و نگرانی اور نظم و نسق کے لئے شیخ الاسلام کا عہدہ قائم کیا جائے جو تمام شعائر کو تنظیم کے ساتھ لے کر چلنے کا ذمہ دار ہو۔ ان مطالبات پر اس وقت کے پانچ سو علماء نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔
۱۹۲۹ء میں مسلم اوقاف کی تنظیم کا مسئلہ اٹھا جو پرسنل لاء ہی کا ایک جز تھا۔ گورنمنٹ نے ایک کمیٹی مقرر کی جس نے اوقاف سے متعلق استفسارات ملک کے مختلف حلقوں میں بھیجے، یہ استفساری مراسلہ دارالعلوم کو بھی موصول ہوا، جس کا جواب اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم سادس حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی نے دیا۔
۱۹۳۰ء میں حضرت حکیم الاسلامؒ سے دارالعلوم دیوبندکے اہتمام کی سپردگی کے بعد مراسلت کا سلسلہ حضرت حکیم الاسلامؒ سے قائم ہوا، اس دورانیہ میں حضرت نے مسائل وقف سے متعلق تفصیلات مرتب کرائیں، علاوہ ازیں اس موقع سے حضرت نے بذاتِ خود ’’انصاف فی قانون الاوقاف‘‘نامی رسالہ بھی پوری جماعت کی طرف سے مرتب فرمایا جس پر تمام اکابر علماء کے دستخط ثبت ہوئے۔ یہ تمام کارروائی ایک کتابچہ کی صورت میں بھی طبع کرائی گئیں اور ممبران اسمبلی کے نام بھی روانہ کی گئیں۔اسی دور میں شاردا ایکٹ کا مسئلہ اٹھا جو پرسنل لاء کا ایک مستقل جزء تھا۔ اسی موقع سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے مستقل رسالہ مرتب فرمایا جس میں شاردا بل کے بنیادی محرکات اور عمر نکاح کے شرعی قانون میں ترمیم کئے جانے کی تردید کے ساتھ پیش کردہ اشکالات کا حل بھی تھا۔ ادھر عائلی مسائل کو قوانین شرع کے مطابق طے کرنے کے لئے حضرت مولانا محمد سجاد صاحبؒ نے بہار میں ’’امارتِ شرعیہ‘‘ قائم فرمائی۔ یہ امارت گویا مسلم پرسنل لاء کی عملی صورت تھی۔ آزادئ ہند سے کچھ قبل علماء دیوبند کی طرف سے حضرت تھانویؒ نے رسالہ ’’الحیلۃ الناجزہ‘‘ شائع فرمایا، جس کی بنیاد پر حضرت حکیم الاسلامؒ نے دارالعلوم دیوبند میں علماء کی ایک کمیٹی قائم فرمائی، جس نے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے باب میں اصول شرع کی روشنی میں فیصلے کرکے سینکڑوں عورتوں کی مشکلات کا قرار واقعی حل پیش فرمایا، گویا ایک طرف دارالعلوم دیوبند تعلیمی محاذ سر کرتے ہوئے ترقیات کی طرف گامزن تھا وہیں دوسری جانب ملت اسلامیہ ہندیہ کی دینی قیادت اور تحفظ دین کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔(ماخوذ از خطبۂ صدارت، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ، بموقعہ تاسیس آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ(
انقلاب ہند کے بعد
آزادئ ہند کے بعد دستور ہند میں اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ گویا مذہبی آزادی کے حق نے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی ضمانت دی۔ معزز عدالتیں اسے تسلیم بھی کرتی رہیں۔ ملکی دستور کے رہنما اصول میں جو ہدایات شامل تھیں اس میںیہ بات بھی تھی کہ ملک میں بتدریج یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی حالاں کہ دستور ساز کونسل کے بعض مسلم ممبران نے اعتراض بھی کیا مگر اسے قبول نہیں کیا گیا۔ مسلم اداروں اور زعماء کی آواز کو بھی معمولی اہمیت دی گئی اور سنی ان سنی کردی گئی۔ اس لئے یہ دفعہ جوں کی توں باقی رہی اور پھر تغیر احوال سے حکومت کے تیور سامنے آنے لگے اور اس دفعہ پر عمل کی کوشش بہتر ہوتی گئی۔ ۱۹۵۰ء میں ہندو کورٹ بل پیش کیا گیا، اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ ہندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں اسے ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کیا جائے گا، گویا ایک بار پھر مسلم عائلی مسائل میں دخل اندازی کی کوششوں کا آغاز ہوگیا۔ ساتھ ہی اپنے آپ کو مسلم کہلانے والے کچھ لوگ بھی پرسنل لاء میں ترمیم و تبدیلی کا نعرہ لے کر کھڑے ہوگئے، جو شرعی مسائل کو لادینی فکر، معاشی اور سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھتے اور سوچتے تھے،ان ہی دنوں حکیم الاسلامؒ نے دارالعلوم دیوبند میں پرسنل لاء کا علمی جائزہ لینے اور پیش کردہ شبہات کی جواب دہی کے لئے حضرات اساتذہ و اربابِ افتاء کی ایک کمیٹی بنام ’’پرسنل لاء کمیٹی‘‘ بنائی ۔ ارکانِ کمیٹی کے لئے آپ نے چند امور بطور اصول بھی مرتب فرمائے تاکہ ان کی روشنی میں مدلل دفاع کا فریضہ انجام دیاجاسکے۔ امکانی حد تک پرسنل لاء کے زیر بحث مسائل کی جمع و ترتیب کے ساتھ اشکالات و شبہات کے شرعی جوابات کا مواد فراہم کرکے مرتب کردیاگیا، گویا حضرت حکیم الاسلامؒ نے بایں طور تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں ایک اہم پیش رفت فرمائی۔
۱۹۶۲ء میں مہاراشٹر اسمبلی کے ایک مسلم ممبر حسن علی حمدانی کی جانب سے ایک سے زائد شادی پر پابندی کے عنوان سے مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کو ایک باقاعدہ بل کی شکل میں پیش کیا گیا، گویا اس طرح ایک بار پھر مسلم پرسنل لاء پر براہِ راست کھل کر حملہ کیا گیا، جس کے ذریعہ دفعہ ۴۴ کی آڑ میں پوشیدہ ارادے بھی کھل کر سامنے آگئے۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ مرکزی وزیر قانون نے مسلم پرسنل لاء میں اصلاحات کی خاطر کمیشن کے تقرر کا اعلان کردیا، پھر حکومت سے وابستہ افراد نے بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرنا شرع کیا۔ اس موقع پر تمام جماعتوں، اداروں، تحریکوں حتی کہ عوام و خواص کے ہر گروہ نے اورہر طبقہ نے حکومت کے ارادوں کو بھانپ لیا اور اصلاح کے نام سے پرسنل لاء کے خاتمہ کے منصوبوں کی مذمت کی، ہر قسم کی ترمیم و اصلاح کو مداخلت فی الدین قرار دے کر مسلم پرسنل لاء کی جگہ یکساں سول کوڈ یا اس کے مماثل قانون کے نفاذ کو مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول قرار دیا لیکن مسلمانوں کا یہ ملک گیر احتجاج بھی صدا بصحرا ثابت ہوااور ۶؍ستمبر ۱۹۶۴ء کو مہاراشٹر اسمبلی میں یک زوجگی کے نفاذ پر بل پیش ہوا۔ ۷؍جولائی ۱۹۷۲ء میں دوبارہ ایک سے زائد شادی پر پابندی کی آڑ میں مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا بل پیش ہوا۔ اور اس طرح ایک بار پھر مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ، طرح طرح کے مفروضہ من گھڑت اور مضحکہ خیز دلائل کی آڑ لے کر شریعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا۔ وہیں ان ہی دنوں ۱۹۷۲ء میں راجیہ سبھا میں متبنی بل پیش ہوا، جس میں وزیر قانون نے یہ اعلان کیا کہ یہ قانون یکساں شہری قانون کی حیثیت سے تمام شہریوں پر نافذ ہوگایعنی اس کا اطلاق ملک کے تمام شہریوں پر بشمول مسلمان کے ہوگا۔
یہ وہ احوال تھے جس سے ملت اسلامیہ ہندیہ دوچار تھی، ادھر مسلمانوں کی ہر جماعت، تنظیم اور اداروں نے پرزور الفاظ میں یہ اعلان شروع کیا کہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی دین اسلام میں مداخلت ہے۔ یکساں سول کوڈ یا اس کے مماثل کوئی قانون مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔
تاسیس مسلم پرسنل لاء بورڈ
دارالعلوم دیوبند جو ملتِ اسلامیہ ہندیہ کا دھڑکتا ہوا دل اور مسلمانوں کا ایک عظیم دینی و اسلامی قلعہ ہے، اس نے مسلمانانِ ہند کو پیش آمدہ مسائل کے حل سے کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے، بلکہ دینی مسائل کے حل کے ساتھ ملی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا، اسلامی احکام اور شریعت کے دفاع میں سینہ سپر رہا اور قابل قدر کارنامہ انجام دیا جس کے لئے آزادی ہند سے پہلے بھی مسلم پرسنل لاء کے سلسلے میں جدوجہد کرتا رہا۔ چنانچہ حضرت حکیم الاسلامؒ نے ۱۳؍۱۴؍مارچ ۱۹۷۲ء کو دارالعلوم دیوبند میں ایک نمائندہ اجتماع منعقد کیا، جس میں حضرت حکیم الاسلامؒ نے درج ذیل ارکان بطور خاص مدعو کئے۔
(۱)حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب(۲)حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب (۳)حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی صاحب (۴)حضرت مولانا حامد الانصاری غازی صاحب (۵)ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب (۶)جناب بشیر احمد ایڈوکیٹ صاحب وغیرہم ۔ اس خاص اجتماع میں مسلم پرسنل لاء سے متعلق تمام امور زیر بحث آئے۔ ان اعتراضات پر بھی غور و خوض کیا گیا جو مسلم پرسنل لاء کو بدنام کرنے کے سلسلے میں اٹھائے جارہے تھے۔ نیز قوانین شرعیہ کے نہ صرف دفاع اور تحفظ بلکہ تحفظ کے حقیقی راستے یعنی ان کے عملی نفاذ کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔
اس اجتماع کے بعد ایک مشترکہ بیان شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ:
’’ اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے، اس کا نظام انسانی زندگی کے تمام ہی شعبوں پر حاوی نیز ہر دور اور ہر ملک کے انسانوں کے لئے یکساں طور پر فلاح کا ضامن ہے۔ اسلام کی بنیادی کتاب قرآن کریم ہے اور اسلامی نظام کی واضح اور کامل تعبیر و تشریح سنت رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ہے۔ ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کے تحت جو معاملات آتے ہیں اور جس کے بارے میں اصل قانون شریعت نافذ ہے۔ اس اجتماع کے خیال میں وہ خالصتاً مذہبی معاملات ہیں، جس پر امت کی امتیازی حیثیت اور ملی و تہذیبی انفرادیت کی بقاء موقوف ہے۔ قانون شریعت ’’مسلم پرسنل لاء ‘‘کے بجائے مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی کوشش یا بالواسطہ قانون سازی کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش، مذہب و تہذیب کی آزادی پر حملہ ہوگا جسے مسلمانانِ ہند کسی قیمت پر گوارہ نہیں کرسکے‘‘۔(۱ماخوذ از خطبۂ صدارت، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ، بموقعہ تاسیس آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)
علاوہ ازیں طویل ترین بیان جاری کیا گیا ، حضرت حکیم الاسلامؒ کی قیادت میں دارالعلوم دیوبند کا یہ اجتماع ملت اسلامیہ کے وجود کے لئے ایک تاریخ ساز کنونشن کا نقطہ آغاز بن گیا۔ اسی اجتماع میں مسلم پرسنل لاء کنونشن کے انعقاد کے لئے ایک تیاری کمیٹی بنائی گئی جس کے کنوینر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مدظلہٗ مقرر ہوئے۔اس کنونشن کا ہدف تھا کہ مسلم پرسنل لاء کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی اور تحقیقی جواب دینا، نیز مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور مکاتب فکر اور طبقات فکر پر مشتمل ایک آل انڈیا پیمانہ کا کنونشن منعقد کرنا۔
مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا مشورہ بمبئی سے اٹھا تھاتو اس وقت مہاراشٹر کی مسلم جماعتوں نے اس کی مذمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اسی کے پیش نظر تیاری کمیٹی کی نظریں کنونشن کے لئے بمبئی کی طرف اٹھنے لگیں۔۲۱؍اگست ۱۹۷۲ء کو اس کمیٹی کے ۱۴؍ارکان کا ایک وفد حضرت حکیم الاسلامؒ کی معیت میں بمبئی پہنچا۔ پھر ۲۴؍اگست ۱۹۷۲ء کو مسلمانانِ بمبئی کا ایک نمائندہ اجتماع منعقد ہوا، اس اہم اور تاریخی اجتماع میں بالاتفاق ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کنونشن کے شہر بمبئی میں انعقاد کا قطعی اور آخری فیصلہ لیا گیا، جس طرح مہاراشٹر سے مسلم پرسنل لاء کے خلاف آواز بلندہوئی تھی، اسی طرح مہاراشٹر سے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے ایک تاریخ ساز قدم بڑھا اور اسی اجتماع میں کنونشن کی انتظامیہ کمیٹی کا قیام عمل میںآیا۔ انتظامیہ کمیٹی نے ناگزیر اقدامات کئے اور اس کے اقدامات سودمند ثابت ہوئے، پھر انتظامیہ کمیٹی کی ایک عام نشست میں انتظامیہ کمیٹی کو باقاعدہ مجلس استقبالیہ میں تبدیل کردیا گیا۔ بالآخر ۲۷؍۲۸؍دسمبر ۱۹۷۲ء کو سرزمین بمبئی میں ایک تاریخ ساز کنونشن منعقد ہوا، جس کو مسلمانانِ ہند کے تمام مکاتب فکر کی بھرپور تائید حاصل ہوئی اور اس اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کا فیصلہ لیا گیااس اجلاس میں برصغیر ہند نے اتحاد امت کا ایسا نظارہ اس سے قبل نہیں دیکھا تھا، اس اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام ہی مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات تھیں، اس اجلاس میں حضرت حکیم الاسلامؒ نے تمام حاضرین کے شکریہ کے ساتھ ایک طویل ترین تاریخ ساز خطبۂ صدارت پیش فرمایا، ۷؍اپریل ۱۹۷۲ء کو حیدرآباد میں منعقدہ اجلاس میں بورڈ کی باضابطہ تشکیل عمل میں آئی، جس میں باتفاق رائے حضرت حکیم الاسلامؒ بورڈ کے پہلے صدر اور حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ گویا مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے حضرت نانوتویؒ کے دور سے جاری جدوجہد اورپھر حضرت حکیم الاسلامؒ کی تڑپ، سعئ پیہم اور جہد مسلسل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرکے ایک مستحکم تنظیم کی صورت میں معرض وجود میںآئی۔ یعنی بورڈ کا قیام مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحفظ کے لئے عرصے سے جاری کوششوں کا تتمہ تھا۔ گویا بہ ایں معنی بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ حضرت حکیم الاسلامؒ کی ذات ہی قیام آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اولین محرک اور ذریعہ بنی، جن کی آفاقی متفق علیہ شخصیت نے تمام مسالک و مکاتب کی نمائندہ شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا، تحفظ دین و شریعت یعنی تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں یہ آپ کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جسے فراموش کرنا یقیناًعظیم ناانصافی ہے، تاقیام قیامت بورڈ سے حضرت حکیم الاسلامؒ 

اور 

تاسیس مسلم پرسنل لاء بورڈ

 

مولانا محمد اظہار الحق قاسمی

استاذ دار العلوم وقف دیوبند

اس فناء پذیر کائنات میں خلعت دوام ان ہی کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی انفرادیت اور امتیاز کے دیے جلائے جاتے ہیں, جو اقلیم سخن کے تاجدار اور علم و عمل، فکرو فن کے شہسوار ہوتے ہیں، جن کے فیض سے سیرتیں بنتی اور ڈھلتی ہیں وہ عزو افتخار کی پیشانی پر طرۂ امتیاز بن کر ہمیشہ زندہ و جاوید رہتے ہیں۔ 

حکیم الاسلامؒ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی شخصیت ان ہی دوائر علمیہ کی ایک ایسی آفاقی اور ہمہ جہت حیثیت کی تھی جن کی قابل تقلید زندگی، جہد مسلسل، حسن عمل، اخلاص و وفاء اور جذب و تحمل سے عبارت کے ساتھ دیگر بہت سے حسین عنوانات سے لبریز تھی، یقیناًان کی حیات کا ہر باب بحر بیکراں اور بعد والوں کے لئے نشانِ منزل ہے، حضرت حکیم الاسلامؒ کی حیات کا ایک عظیم الشان باب تو دارالعلوم دیوبند کا ساٹھ سالہ دورِ اہتمام ہے، مزید برآں تحفظ دین و شریعت اور دفاع دین کی خاطر آپ کی عظیم و ناقابل فراموش خدمات بھی تاریخ کا ایک عظیم باب اور بعد والوں کے لئے مشعل راہ ہے ۔ 

انقلابِ ہند سے پہلے تحفظ دین

ہندوستان میں مسلم قوانین اور خاص کر مسلم پرسنل لاء کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مسلم عہد حکومت سے قبل ہندو عہد میں بھی مسلمانوں کے یہاں شرعی قوانین ہی کا نفاذ تھا اور اس کے لئے منجانب حکومت مسلمان قاضی و والی مقرر ہوا کرتے تھے جسے ’’ہنرمند‘‘ یا ’’ہنرمن‘‘ کہا جاتا تھا۔ قدیم سیاحوں کی کتب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔مغلیہ سلطنت میں بھی ہر قوم کا پرسنل لاء محفوظ رہا اور مسلمانوں پر ان کے شرعی قوانین نافذرہے۔ انگریزی حکومت کے تسلط کے بعد بھی انہوں نے عدم مداخلت کی پالیسی جاری رکھی لیکن یہ صرف ایک سیاسی حکمت عملی تھی،ان کے دل کی آواز نہیں تھی۔ اس حکمت عملی کے تحت انہوں نے فقہ اسلام کواگریزی زبان کا جامہ پہنانا شروع کیا، جس کے ذریعہ انہوں نے اہم مآخذ اسلامی بزبان انگریزی تیار کئے، جن حضرات نے قانون اسلامی کے مآخذ کو انگریزی زبان میں منتقل کیا وہ انگریزی زبان سے ناواقف، قانونِ اسلامی کے اصل سرچشموں سے نابلد، شریعت کے مزاج سے ناآشنا ہونے کے علاوہ اسلام کے بارے میں معاندانہ ذہن بھی رکھتے تھے۔ ان مآخذ کی تیاری کے بعد ۱۸۳۳ء اور ۱۸۵۵ء میں گورنمنٹ کی جانب سے دو کمیشن مقرر ہوئے اور دونوں ہی نے یہ تجویز پیش کی کہ مسلمان قاضیوں کے ذریعہ فیصلہ کے طریقے کو موقوف کردیا جائے اور پھر ۱۸۶۴ء میں ہائی کورٹ ایکٹ کے ذریعہ پرانی عدالتیں منسوخ ہوگئیں اور قاضی کا عہدہ ختم ہوگیا، گویا یہ قانون شریعت کو غیرموثر بنانے کی بالواسطہ کوشش تھی،عہدۂ قضاء کے ختم ہونے کی وجہ سے مسلم پرسنل لاء کی حیثیت کو جو نقصان پہونچا وہ ظاہرہے، چنانچہ ۱۸۶۶ء میں فوجداری کا قانون ختم ہوا پھر قانون شہادت اور قانون معاہدات منسوخ ہوئے اور بالآخر مسلمانوں کے معاشرتی قوانین میں تبدیلی کی راہیں ہموار کی جانے لگیں۔ 

قیام دارالعلوم دیوبندکے بعد

 ۱۸۶۶ء میں قیام دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہی حضرت نانوتویؒ نے عائلی قوانین کے اجراء کی فکر کی اس لئے کہ دارالعلوم دیوبند ایک تعلیمی ادارہ کے ساتھ ساتھ ایک علمی اور دینی تحریک بھی تھی، جہاں اشاعت علوم نبویؐ کے ساتھ اسلامی تہذیب و تمدن کی بقاء اور تحفظ شریعت کی جد و جہد بھی، اس تحریک کا ایک مؤثر اور قابل ذکر حصہ تھا۔ چنانچہ حضرت نانوتویؒ نے دارالعلوم دیوبندمیں ہی غیررسمی انداز سے عہدہ قضاء قائم فرمایا جس کے لئے حضرت مولانا یعقوب صاحب نانوتویؒ بحیثیت قاضی مقرر ہوئے، جس کے تحت پرسنل لاء کے عائلی مسائل اور الجھے ہوئے معاملات شرعی اصول پر طے ہونے لگے۔ بالآخر تغیر احوال نے اس نظام کے دور بھی ختم کردیا لیکن تحفظ مسلم پرسنل لاء کی جو داغ بیل حضرت نانوتویؒ نے ڈالی تھی وہ دلوں کی زمین میں قائم ہوچکی تھی۔

ابھی انگریزی اقتدار پر نصف صدی بھی نہ گذری تھی کہ ہندوستانیوں میں سیاسی حقوق طلبی کا داعیہ پیدا ہوا، عامۃً سیاسی جماعتوں نے سیاسی مطالبات شروع کئے اور مذہبی مطالبات نظر انداز کردئیے جس سے دینی حقوق یعنی پرسنل لاء کے کالعدم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوا، پیش آمدہ احوال کے مدنظر فخر الاسلام حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ مہتمم خامس دارالعلوم دیوبند کی سربراہی میں علماء دیوبند کا ایک وفد میمورنڈم لے کر دہلی پہونچا۔ جس میں یہ صراحت تھی کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل میں گورنمنٹ کوئی ایسا ایکٹ وضع نہ کرے جو شرعی قوانین سے متصادم ہو۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی تھا کہ ہندوستان میں پرسنل لاء کے اجراء کے لئے محکمہ قضا قائم کیا جائے، چوں کہ مسائل شرعیہ کی تنفیذ کے لئے مسلم حاکم شرط ہے، اس لئے قاضیوں کا انتخاب اہل سنت والجماعت سے ہو اور اس کونسل میں ہر فرقہ کے علماء نمائندے اور ممبر ہوں اور مسائل کا فیصلہ ہر فرقہ کے اپنے فقہی اصول کی بنیاد پر ہو۔

دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ مذہبی شعائر، مساجد، مدارس، مقابر،اوقاف، خانقاہوں اور دیگر دینی رفاہِ عام کے اداروں کی حفاظت و نگرانی اور نظم و نسق کے لئے شیخ الاسلام کا عہدہ قائم کیا جائے جو تمام شعائر کو تنظیم کے ساتھ لے کر چلنے کا ذمہ دار ہو۔ ان مطالبات پر اس وقت کے پانچ سو علماء نے توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔ 

۱۹۲۹ء میں مسلم اوقاف کی تنظیم کا مسئلہ اٹھا جو پرسنل لاء ہی کا ایک جز تھا۔ گورنمنٹ نے ایک کمیٹی مقرر کی جس نے اوقاف سے متعلق استفسارات ملک کے مختلف حلقوں میں بھیجے، یہ استفساری مراسلہ دارالعلوم کو بھی موصول ہوا، جس کا جواب اس وقت دارالعلوم دیوبند کے مہتمم سادس حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانی نے دیا۔

۱۹۳۰ء میں حضرت حکیم الاسلامؒ سے دارالعلوم دیوبندکے اہتمام کی سپردگی کے بعد مراسلت کا سلسلہ حضرت حکیم الاسلامؒ سے قائم ہوا، اس دورانیہ میں حضرت نے مسائل وقف سے متعلق تفصیلات مرتب کرائیں، علاوہ ازیں اس موقع سے حضرت نے بذاتِ خود ’’انصاف فی قانون الاوقاف‘‘نامی رسالہ بھی پوری جماعت کی طرف سے مرتب فرمایا جس پر تمام اکابر علماء کے دستخط ثبت ہوئے۔ یہ تمام کارروائی ایک کتابچہ کی صورت میں بھی طبع کرائی گئیں اور ممبران اسمبلی کے نام بھی روانہ کی گئیں۔اسی دور میں شاردا ایکٹ کا مسئلہ اٹھا جو پرسنل لاء کا ایک مستقل جزء تھا۔ اسی موقع سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ نے مستقل رسالہ مرتب فرمایا جس میں شاردا بل کے بنیادی محرکات اور عمر نکاح کے شرعی قانون میں ترمیم کئے جانے کی تردید کے ساتھ پیش کردہ اشکالات کا حل بھی تھا۔ ادھر عائلی مسائل کو قوانین شرع کے مطابق طے کرنے کے لئے حضرت مولانا محمد سجاد صاحبؒ نے بہار میں ’’امارتِ شرعیہ‘‘ قائم فرمائی۔ یہ امارت گویا مسلم پرسنل لاء کی عملی صورت تھی۔ آزادئ ہند سے کچھ قبل علماء دیوبند کی طرف سے حضرت تھانویؒ نے رسالہ ’’الحیلۃ الناجزہ‘‘ شائع فرمایا، جس کی بنیاد پر حضرت حکیم الاسلامؒ نے دارالعلوم دیوبند میں علماء کی ایک کمیٹی قائم فرمائی، جس نے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے باب میں اصول شرع کی روشنی میں فیصلے کرکے سینکڑوں عورتوں کی مشکلات کا قرار واقعی حل پیش فرمایا، گویا ایک طرف دارالعلوم دیوبند تعلیمی محاذ سر کرتے ہوئے ترقیات کی طرف گامزن تھا وہیں دوسری جانب ملت اسلامیہ ہندیہ کی دینی قیادت اور تحفظ دین کا فریضہ انجام دے رہا تھا۔(ماخوذ از خطبۂ صدارت، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ، بموقعہ تاسیس آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ(

انقلاب ہند کے بعد

آزادئ ہند کے بعد دستور ہند میں اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عقیدہ رکھنے، عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ گویا مذہبی آزادی کے حق نے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی ضمانت دی۔ معزز عدالتیں اسے تسلیم بھی کرتی رہیں۔ ملکی دستور کے رہنما اصول میں جو ہدایات شامل تھیں اس میںیہ بات بھی تھی کہ ملک میں بتدریج یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی حالاں کہ دستور ساز کونسل کے بعض مسلم ممبران نے اعتراض بھی کیا مگر اسے قبول نہیں کیا گیا۔ مسلم اداروں اور زعماء کی آواز کو بھی معمولی اہمیت دی گئی اور سنی ان سنی کردی گئی۔ اس لئے یہ دفعہ جوں کی توں باقی رہی اور پھر تغیر احوال سے حکومت کے تیور سامنے آنے لگے اور اس دفعہ پر عمل کی کوشش بہتر ہوتی گئی۔ ۱۹۵۰ء میں ہندو کورٹ بل پیش کیا گیا، اس موقع پر وزیر قانون نے کہا کہ ہندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں اسے ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کیا جائے گا، گویا ایک بار پھر مسلم عائلی مسائل میں دخل اندازی کی کوششوں کا آغاز ہوگیا۔ ساتھ ہی اپنے آپ کو مسلم کہلانے والے کچھ لوگ بھی پرسنل لاء میں ترمیم و تبدیلی کا نعرہ لے کر کھڑے ہوگئے، جو شرعی مسائل کو لادینی فکر، معاشی اور سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھتے اور سوچتے تھے،ان ہی دنوں حکیم الاسلامؒ نے دارالعلوم دیوبند میں پرسنل لاء کا علمی جائزہ لینے اور پیش کردہ شبہات کی جواب دہی کے لئے حضرات اساتذہ و اربابِ افتاء کی ایک کمیٹی بنام ’’پرسنل لاء کمیٹی‘‘ بنائی ۔ ارکانِ کمیٹی کے لئے آپ نے چند امور بطور اصول بھی مرتب فرمائے تاکہ ان کی روشنی میں مدلل دفاع کا فریضہ انجام دیاجاسکے۔ امکانی حد تک پرسنل لاء کے زیر بحث مسائل کی جمع و ترتیب کے ساتھ اشکالات و شبہات کے شرعی جوابات کا مواد فراہم کرکے مرتب کردیاگیا، گویا حضرت حکیم الاسلامؒ نے بایں طور تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں ایک اہم پیش رفت فرمائی۔ 

۱۹۶۲ء میں مہاراشٹر اسمبلی کے ایک مسلم ممبر حسن علی حمدانی کی جانب سے ایک سے زائد شادی پر پابندی کے عنوان سے مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کو ایک باقاعدہ بل کی شکل میں پیش کیا گیا، گویا اس طرح ایک بار پھر مسلم پرسنل لاء پر براہِ راست کھل کر حملہ کیا گیا، جس کے ذریعہ دفعہ ۴۴ کی آڑ میں پوشیدہ ارادے بھی کھل کر سامنے آگئے۔ پھر بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ مرکزی وزیر قانون نے مسلم پرسنل لاء میں اصلاحات کی خاطر کمیشن کے تقرر کا اعلان کردیا، پھر حکومت سے وابستہ افراد نے بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کرنا شرع کیا۔ اس موقع پر تمام جماعتوں، اداروں، تحریکوں حتی کہ عوام و خواص کے ہر گروہ نے اورہر طبقہ نے حکومت کے ارادوں کو بھانپ لیا اور اصلاح کے نام سے پرسنل لاء کے خاتمہ کے منصوبوں کی مذمت کی، ہر قسم کی ترمیم و اصلاح کو مداخلت فی الدین قرار دے کر مسلم پرسنل لاء کی جگہ یکساں سول کوڈ یا اس کے مماثل قانون کے نفاذ کو مسلمانوں کے لئے ناقابل قبول قرار دیا لیکن مسلمانوں کا یہ ملک گیر احتجاج بھی صدا بصحرا ثابت ہوااور ۶؍ستمبر ۱۹۶۴ء کو مہاراشٹر اسمبلی میں یک زوجگی کے نفاذ پر بل پیش ہوا۔ ۷؍جولائی ۱۹۷۲ء میں دوبارہ ایک سے زائد شادی پر پابندی کی آڑ میں مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا بل پیش ہوا۔ اور اس طرح ایک بار پھر مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ، طرح طرح کے مفروضہ من گھڑت اور مضحکہ خیز دلائل کی آڑ لے کر شریعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا۔ وہیں ان ہی دنوں ۱۹۷۲ء میں راجیہ سبھا میں متبنی بل پیش ہوا، جس میں وزیر قانون نے یہ اعلان کیا کہ یہ قانون یکساں شہری قانون کی حیثیت سے تمام شہریوں پر نافذ ہوگایعنی اس کا اطلاق ملک کے تمام شہریوں پر بشمول مسلمان کے ہوگا۔

یہ وہ احوال تھے جس سے ملت اسلامیہ ہندیہ دوچار تھی، ادھر مسلمانوں کی ہر جماعت، تنظیم اور اداروں نے پرزور الفاظ میں یہ اعلان شروع کیا کہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی دین اسلام میں مداخلت ہے۔ یکساں سول کوڈ یا اس کے مماثل کوئی قانون مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔

تاسیس مسلم پرسنل لاء بورڈ

دارالعلوم دیوبند جو ملتِ اسلامیہ ہندیہ کا دھڑکتا ہوا دل اور مسلمانوں کا ایک عظیم دینی و اسلامی قلعہ ہے، اس نے مسلمانانِ ہند کو پیش آمدہ مسائل کے حل سے کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے، بلکہ دینی مسائل کے حل کے ساتھ ملی قیادت کا فریضہ بھی انجام دیا، اسلامی احکام اور شریعت کے دفاع میں سینہ سپر رہا اور قابل قدر کارنامہ انجام دیا جس کے لئے آزادی ہند سے پہلے بھی مسلم پرسنل لاء کے سلسلے میں جدوجہد کرتا رہا۔ چنانچہ حضرت حکیم الاسلامؒ نے ۱۳؍۱۴؍مارچ ۱۹۷۲ء کو دارالعلوم دیوبند میں ایک نمائندہ اجتماع منعقد کیا، جس میں حضرت حکیم الاسلامؒ نے درج ذیل ارکان بطور خاص مدعو کئے۔ 

(۱)حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمن صاحب(۲)حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب (۳)حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی صاحب (۴)حضرت مولانا حامد الانصاری غازی صاحب (۵)ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب (۶)جناب بشیر احمد ایڈوکیٹ صاحب وغیرہم ۔ اس خاص اجتماع میں مسلم پرسنل لاء سے متعلق تمام امور زیر بحث آئے۔ ان اعتراضات پر بھی غور و خوض کیا گیا جو مسلم پرسنل لاء کو بدنام کرنے کے سلسلے میں اٹھائے جارہے تھے۔ نیز قوانین شرعیہ کے نہ صرف دفاع اور تحفظ بلکہ تحفظ کے حقیقی راستے یعنی ان کے عملی نفاذ کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔

اس اجتماع کے بعد ایک مشترکہ بیان شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ:

’’ اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے، اس کا نظام انسانی زندگی کے تمام ہی شعبوں پر حاوی نیز ہر دور اور ہر ملک کے انسانوں کے لئے یکساں طور پر فلاح کا ضامن ہے۔ اسلام کی بنیادی کتاب قرآن کریم ہے اور اسلامی نظام کی واضح اور کامل تعبیر و تشریح سنت رسول اللہ صلي الله عليه وسلم ہے۔ ’’مسلم پرسنل لاء‘‘ کے تحت جو معاملات آتے ہیں اور جس کے بارے میں اصل قانون شریعت نافذ ہے۔ اس اجتماع کے خیال میں وہ خالصتاً مذہبی معاملات ہیں، جس پر امت کی امتیازی حیثیت اور ملی و تہذیبی انفرادیت کی بقاء موقوف ہے۔ قانون شریعت ’’مسلم پرسنل لاء ‘‘کے بجائے مشترکہ سول کوڈ کے نفاذ کی کوشش یا بالواسطہ قانون سازی کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء کو آہستہ آہستہ ختم کرنے کی کوشش، مذہب و تہذیب کی آزادی پر حملہ ہوگا جسے مسلمانانِ ہند کسی قیمت پر گوارہ نہیں کرسکے‘‘۔(۱ماخوذ از خطبۂ صدارت، حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ ، بموقعہ تاسیس آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)

علاوہ ازیں طویل ترین بیان جاری کیا گیا ، حضرت حکیم الاسلامؒ کی قیادت میں دارالعلوم دیوبند کا یہ اجتماع ملت اسلامیہ کے وجود کے لئے ایک تاریخ ساز کنونشن کا نقطہ آغاز بن گیا۔ اسی اجتماع میں مسلم پرسنل لاء کنونشن کے انعقاد کے لئے ایک تیاری کمیٹی بنائی گئی جس کے کنوینر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مدظلہٗ مقرر ہوئے۔اس کنونشن کا ہدف تھا کہ مسلم پرسنل لاء کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات کا علمی اور تحقیقی جواب دینا، نیز مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور مکاتب فکر اور طبقات فکر پر مشتمل ایک آل انڈیا پیمانہ کا کنونشن منعقد کرنا۔

مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کا مشورہ بمبئی سے اٹھا تھاتو اس وقت مہاراشٹر کی مسلم جماعتوں نے اس کی مذمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اسی کے پیش نظر تیاری کمیٹی کی نظریں کنونشن کے لئے بمبئی کی طرف اٹھنے لگیں۔۲۱؍اگست ۱۹۷۲ء کو اس کمیٹی کے ۱۴؍ارکان کا ایک وفد حضرت حکیم الاسلامؒ کی معیت میں بمبئی پہنچا۔ پھر ۲۴؍اگست ۱۹۷۲ء کو مسلمانانِ بمبئی کا ایک نمائندہ اجتماع منعقد ہوا، اس اہم اور تاریخی اجتماع میں بالاتفاق ایک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کنونشن کے شہر بمبئی میں انعقاد کا قطعی اور آخری فیصلہ لیا گیا، جس طرح مہاراشٹر سے مسلم پرسنل لاء کے خلاف آواز بلندہوئی تھی، اسی طرح مہاراشٹر سے مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے ایک تاریخ ساز قدم بڑھا اور اسی اجتماع میں کنونشن کی انتظامیہ کمیٹی کا قیام عمل میںآیا۔ انتظامیہ کمیٹی نے ناگزیر اقدامات کئے اور اس کے اقدامات سودمند ثابت ہوئے، پھر انتظامیہ کمیٹی کی ایک عام نشست میں انتظامیہ کمیٹی کو باقاعدہ مجلس استقبالیہ میں تبدیل کردیا گیا۔ بالآخر ۲۷؍۲۸؍دسمبر ۱۹۷۲ء کو سرزمین بمبئی میں ایک تاریخ ساز کنونشن منعقد ہوا، جس کو مسلمانانِ ہند کے تمام مکاتب فکر کی بھرپور تائید حاصل ہوئی اور اس اجلاس میں باتفاق رائے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قیام کا فیصلہ لیا گیااس اجلاس میں برصغیر ہند نے اتحاد امت کا ایسا نظارہ اس سے قبل نہیں دیکھا تھا، اس اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام ہی مکاتب فکر کی نمائندہ شخصیات تھیں، اس اجلاس میں حضرت حکیم الاسلامؒ نے تمام حاضرین کے شکریہ کے ساتھ ایک طویل ترین تاریخ ساز خطبۂ صدارت پیش فرمایا، ۷؍اپریل ۱۹۷۲ء کو حیدرآباد میں منعقدہ اجلاس میں بورڈ کی باضابطہ تشکیل عمل میں آئی، جس میں باتفاق رائے حضرت حکیم الاسلامؒ بورڈ کے پہلے صدر اور حضرت مولانا منت اللہ رحمانی صاحبؒ پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔ گویا مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے لئے حضرت نانوتویؒ کے دور سے جاری جدوجہد اورپھر حضرت حکیم الاسلامؒ کی تڑپ، سعئ پیہم اور جہد مسلسل نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرکے ایک مستحکم تنظیم کی صورت میں معرض وجود میںآئی۔ یعنی بورڈ کا قیام مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحفظ کے لئے عرصے سے جاری کوششوں کا تتمہ تھا۔ گویا بہ ایں معنی بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ حضرت حکیم الاسلامؒ کی ذات ہی قیام آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اولین محرک اور ذریعہ بنی، جن کی آفاقی متفق علیہ شخصیت نے تمام مسالک و مکاتب کی نمائندہ شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا، تحفظ دین و شریعت یعنی تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں یہ آپ کا ایسا عظیم الشان کارنامہ ہے جسے فراموش کرنا یقیناً عظیم ناانصافی ہے، تاقیام قیامت بورڈ سے تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں ہورہی کوششوں (چاہے ان کا تعلق متبنیٰ بل کی واپسی سے ہو یا نسبندی کے مسئلہ سے ، اوقاف پر انکم ٹیکس کے مسئلہ ہو یا شاہ بانو کیس یا بابری مسجد کا معاملہ، ملت کی رہنمائی کے لئے مسلم پرسنل لاء کے تحت نظامِ قضاء کا قیام ہو یا اصلاح معاشرہ اور تحفظ دین کے لئے دیگر کوششیں) کا اجراء انشاء اللہ حضرت حکیم الاسلام علیہ الرحمہ کو پہنچتا رہے گا۔

تحفظ مسلم پرسنل لاء کے باب میں ہورہی کوششوں (چاہے ان کا تعلق متبنیٰ بل کی واپسی سے ہو یا نسبندی کے مسئلہ سے ، اوقاف پر انکم ٹیکس کے مسئلہ ہو یا شاہ بانو کیس یا بابری مسجد کا معاملہ، ملت کی رہنمائی کے لئے مسلم پرسنل لاء کے تحت نظامِ قضاء کا قیام ہو یا اصلاح معاشرہ اور تحفظ دین کے لئے دیگر کوششیں) کا اجراء انشاء اللہ حضرت حکیم الاسلام علیہ الرحمہ کو پہنچتا رہے گا۔