اے اہلِ ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو!

اے اہلِ ادب آؤ یہ جاگیر سنبھالو!

نایاب حسن
عربی زبان کے بافیض استاذ اور یگانۂ عصر ادیب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی گزشتہ کم و بیش چالیس سال سے ایشیا کی عظیم دانش گاہ دارالعلوم دیوبند سے اشاعت پذیرعربی ماہنامہ’’الداعی‘‘کے مدیر اعلیٰ (رئیس التحریر) ہیں اور اس طویل عرصے میں ان کی بے مثال ادارتی صلاحیت، قابلِ رشک ادبی ذوق و نفاست اور گہری علمی و فکری بصیرت کی بدولت اس رسالے کو ہندوستان ہی نہیں ، عالمی سطح پر وقار و اعتبار حاصل ہوا ہے اور آج بے دریغ یہ کہا جاسکتا ہے کہ برصغیر اور دیارِ عجم ہی نہیں ، عالمِ عربی کے رسائل و مجلات میں بھی ’’ الداعی ‘‘ کی ایک الگ آن بان اور شان ہے ۔ اس رسالے میں جہاں منتخبِ روزگار علما ، مفکرین اور ادبا کی قابلِ قدر تحریریں شائع ہوتی ہیں ، وہیں خود مولانا کا اداریہ ، خاص مضمون اور سوانحی تحریریں دلچسپی سے پڑھی جاتی ہیں اور ان سے اہلِ شوق خوب استفادہ کرتے ہیں ۔
اس رسالے کے آخر میں ایک کالم ’’ إشراقۃ ‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت پابندی سے شائع ہوتا ہے ، جسے مولانا ہی لکھتے ہیں اور یہ کالم زبان و بیان کے علاوہ مضمون و مواد کے اعتبار سے بھی نہایت ہی شگفتہ و شایستہ ہوتا ہے ؛ بلکہ کہنا چاہیے کہ یہ ایک رنگارنگ کالم ہے اور اس میں کبھی مولانا کسی اہم ادبی موضوع پر گل افشانی کرتے ہیں تو کبھی کسی علمی و مذہبی مسئلے کی دلنشیں توضیح پیش کرتے ہیں ،کبھی اس کالم میں مولانا کی حساس و فیاض طبیعت اپنی جولانیاں دکھاتی ہے تو کبھی ان کے تجربات ہمیں زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں ۔ اس میں مولانا کبھی کسی فکری موضوع پر نکتہ آفرینی کرتے ہیں تو کبھی کوئی اہم سماجی مسئلہ اور اس کے اطراف و مباحث ان کی تحریر کا موضوع ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اس کالم میں لکھا گیا مولانا کا مضمون ادبیت کی اوج اور حسنِ نگارش کی معراج پر ہوتا ہے ۔ لفظوں میں روانی ایسی اور جملوں میں سلاست اس قدر کہ آپ بے تکان پڑھتے اور لطف اندوز ہوتے چلے جائیں ، مولانا اس میں حسبِ موقع عربی زبان کے ایسے خوب صورت مترادفات ، تعبیرات ، استعارات و تشبیہات استعمال کرتے ہیں، جنھیں پڑھ کر ذوق و وجدان پر سرور طاری ہوجاتا ہے ۔ جو لوگ الداعی اور خصوصاً اس کا اشراقہ پڑھتے ہیں ، وہ اس کے لفظوں کی لطافت و شیرینی اور مواد کی معنویت و فکر انگیزی دونوں کے قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ۔
دراصل اِس وقت میں اسی ’’ اشراقہ ‘‘ کے زیر عنوان تحریر کیے گئے مولانا کے نہایت قیمتی مضامین کے بارے میں ایک بہت ہی مسرت بخش اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ عن قریب وہ مضامین مولانا کی نظرِ ثانی و ایڈٹنگ کے بعد کتابی شکل میں زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آنے والے ہیں ۔ اس کتاب کی مجموعی پانچ جلدیں ہیں ، ہر جلد تقریباً سوا پانچ سو صفحات پر مشتمل ہے اور مجموعی صفحات 2600 ہیں ۔ مختلف و متنوع موضوعات پر کسی ہندوستانی عربی ادیب کی نثری نگارشات کا ایسا ضخیم اور منفرد ذخیرہ اب تک میری نظروں سے نہیں گزرا ہے ۔ اس اعتبار سے بھی یہ ایک منفرد کتاب ہوگی ۔ مولانا نے اوسط ذہن رکھنے والے قارئین کے لیے مشکل الفاظ پر اعراب لگانے کا بھی خاص اہتمام کیا ہے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ مولانا کی طبیعت کیسی نفیس و لطیف ہے اور ان کا جمالیاتی شعور کتنا اعلیٰ ہے ، اس کا اظہار نہ صرف وہ اپنے سبق ، عام و خاص گفتگو اور تحریروں میں کرتے ہیں ؛ بلکہ ان کی کتابوں کی ظاہری آرایش و زیبایش ، طباعت اور جلد بندی وغیرہ پر بھی اس کی واضح چھاپ نظر آتی ہے ، سو امید ہی نہیں ، یقین ہے کہ مولانا کی تازہ کتاب بھی ان کی گزشتہ تصانیف کی طرح نہ صرف مواد ؛ بلکہ طباعتی حسن و کشش میں بھی اپنی مثال آپ ہوگی ۔
پیشگی بکنگ کرنے والوں کے لیے خصوصی رعایت کے ساتھ پانچ ضخیم جلدوں پر مشتمل اس علمی ، ادبی و فکری شہ پارے کی قیمت محض دو ہزار روپے رکھی گئی ہے ۔ مجھے امید ہی نہیں ، یقین ہے کہ مولانا نور عالم خلیل امینی کے فکر و قلم کے خوشہ چیں ؛ بلکہ تمام اصحابِ ذوق ، خصوصاً مدارس و جامعات سے تعلق رکھنے والے عربی زبان و ادب کے شائقین ، کتاب بینی اور قلم و قرطاس کی ہم نشینی کے عادی احباب یہ کتاب ضرور حاصل کرنا چاہیں گے ۔ کتاب کے آرڈر وغیرہ کے سلسلے میں تفصیلات معلوم کرنے کے لیے ادارہ علم و ادب دیوبند سے اس نمبر پر رابطہ کریں : 9520255550

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *