بنگال: ’گولی مارو ‘ نعرے پر بی جے پی کارکنان کو گرفتار کرنے والے افسر ہمایوں کبیر کا استعفیٰ

10

کولکاتا کے نزدیک چندن نگر کے پولیس کمشنر ہمایوں کبیر نے کہا کہ وہ ذاتی وجوات سے استعفی دے رہے ہیں، ان کی دسمبر کے مہینے میں ہی انسپکٹر جنرل کی رینک پر ترقی ملی تھی

کولکاتا: بنگال میں سیاسی مظاہرہ کے دوران گولی مارو کا نعرہ لگانے والے بی جے پی کارکنان کو گرفتار کرنے والے پولیس افسر ہمایوں کبیر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ کبیر کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفی دے رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ہمایوں کولکاتا کے نزدیک چندن نگر کے پولیس کمشنر ہیں اور دسمبر کے مہینے میں ہی انہیں انسپکٹر جنرل کی رینک حاصل ہوئی تھی۔

دراصل، 21 جنوری کو بنگال میں بی جے پی کی ریلی کے دوران جب کچھ پارٹی کارکنان نے ’گولی مارو‘ کا نعرہ لگایا تو انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ انہیں تشدد بھڑکانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے مقامی بی جے پی لیڈر سریش شا اور دو دیگر کو اس نعرےبازی کی ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے کچھ گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا تھا۔ اس ریلی کی قیادت بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری اور ہگلی سے بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ لاکٹ چٹرجی کر رہی تھیں۔

ترنمول کانگریس میں ممتا کے مقرب خاص سمجھے جانے والے سویندو ادھیکاری نے گزشتہ مہینے ہی پارٹی کو خیرباد کہا ہے۔ اس کے بعد ٹیم ایم سی کا دامن چھوڑنے والے لیڈران کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ سوگتا رائے کا کہنا ہے کہ نعرے بازی کے حوالہ سے ہوئی گرفتار پوری طرح پولیس کا معاملہ ہے اور ان کی پارٹی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اس گرفتاری کے واقعہ پر سوال اٹھے تھے کیونکہ ٹی ایم سی کارکنان نے بھی کولکاتا میں ایک دن پہلے ہی اسی طرح کی نعرے بازی کی تھی اور ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ ٹی ایم سی حکومت نے یہ مسئلہ الیکشن کمیشن کے سامنے بھی اٹھایا تھا، وہیں بی جے پی کے اس معاملہ میں جانبداری کا الزام عائد کر دیا۔

بنگای جے پی کے سربراہ دلیپ گھوش نے کہا تھا کہ برسر اقتدار پارٹی پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جب ان کی جانب سے مشتعل بیان بازی ہوگی تو اس پر رد عمل ہونا فطرتی ہے۔