مولانا وحید الدین خان ایک مفکر ایک مصنف

26

بدر الحسن القاسمی
مولانا وحید الدین خان صاحب بھی اپنی زندگی کے ایام پورےکرکے اس دار فانی سے رخصت ہو گئے اناللہ وانا الیہ راجعون
وہ ایک اچھے قلم کار اورممتاز انشاپرداز تھے ، اپنی زندگی میں وہ کئی مراحل سے گزرے ایک زمانہ میں وہ مولانا ابوالاعلی مودودی کی جماعت کے معتمد افراد میں شمار کئے جاتے تھے مرکزی شوری کے رکن بھی تھے اور انکے بعض مضامین جماعت کے نصاب کی کتاب” تعمیری ادب “کا حصہ تھے ، پھر مودودی صاحب کے فکر سے اختلاف ہوا تو انہوں نے طویل خط وکتابت کی جس میں دو “انا “کا ٹکڑا ؤ یہاں تک پہنچا کہ مودودی صاحب کو یقین ہوگیا کہ اب یہ قابو سے باہر جا چکے ہیں اب انکی فہمائش ممکن نہیں رہی اور انکو یہ یقین ہوگیا کہ مودودی صاحب کے پاس میرے اشکال کا جواب نہیں ہے نتیجتاً 15سال کے بعد وہ جماعت سے علاحدہ ہوگئے ، پھر ان کی منزل ندو ةالعلماء کا ادارہ تحقیقات بھی بنا اور اس زمانہ میں مولاناابو الحسن علی ندوی صاحب کی شخصیت کے بعض پہلو سے اپنے تاثرکا بھی اظہارفرمایا ، پھر جلدہی انکی منزل مولانا اسعد مدنی کی جمعیت علماء بن گئی اور وہ ہفت روزہ ” الجمعیہ “کے ایڈیٹر بنائے گئے جبکہ روز نامہ الجمعیہ کے ایڈیٹر نامور اور بزرگ صحافی جناب عثمان فارقلیط صاحب تھے ۔
ہفت روزہ الجمعیہ وحید الدین خاں صاحب کی ادارت میں بیحد مقبول ہوا اسکے پہلے صفحہ پر کسی واقعہ یا خبر سے انکے نتیجہ اخذکرنے کا انداز نرالا تھا اسکے پڑھنے کیلئے نوجوانوں میں خاص طور پر اشتیاق پایا جاتاتھا اس سے ذوق عمل پیدا ہوتا کر کو جلا ملتی، وہ ریڈر ڈائجسٹ وغیرہ میں شائع شدہ بعض خبروں سے بہترین اور تعمیری نتائج مستنبط کرتے تھے اس نے خاص طور پر ہفت روزہ کو کافی مشہور و مقبول بنادیا تھا اور جمعیت سے قریب ہونے کی وجہ سے دارالعلوم دیو بند میں بھی انکی آمد ورفت کا دروازہ کھل گیاتھا چنانچہ استاذ گرامی مولانا وحید الزماں کیرانوی صاحب کی معیت میں دارالعلوم کی دار الحدیث میں انکی تقریریں بھی ہونے لگیں ۔ انہوں نے مولانا کیرانوی صاحب سے انٹرویو بھی لیا تھا ، پھر جمعیت سے بھی الگ ہوکراپنی ا سابقہ ڈگر پر آگئے ۔
ان کی کتابوں میں “علم جدید کا چیلنج” بیحد مقبول ہوئی جو ادارہ تحقیقات سے شائع ہوئی تھی اور اس کا عربی ترجمہ” الاسلام یتحدی” بھی عرب دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا جس میں انکے لائق بیٹے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کی کوششوں کو بھی دخل ہے جن کے لیبیا اور مصر کے علمی وثقافتی حلقوں سے تعلقات ا چھے تھے ، کرنل معمر القذافی کی ” الکتاب الاخضر “کے اردو ترجمہ نے انکو بڑی حد تک کسی کا ماتحت رہ کر یا کسی ادارہ سے وابستہ ہو کر کام کرنے کی ضرورت سے بے نیاز کردیاتھا ، نظام الدین میں انکی کوٹھی ہی انکے آفس اور الرسالہ کے دفتر اور ان کی تصنیفات کے دارالنشر کیلئے کافی تھی ۔ انہوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں، جن میں سیرت کی کتاب قرآن کریم کی عوامی اور دعوتی انداز کی مختصر تفسیر اور تجدید دین وغیرہ کے موضوعات شامل ہیں، انہوں نے تبلیغی تحریک کے نام سے بھی ایک رسالہ لکھاہے اور تبلیغی جماعت کے بعض بزرگوں سے وہ ملتے بھی رہتے تھے ۔ جماعت اسلامی اور عصر حاضر کی دوسری اسلامی سیاسی تحریکوں اخوان وغیرہ کے سخت ناقد تھے ۔
مودودی صاحب کی چار بنیادی اصطلاحوں پر تنقید میں ان کو سبقت حاصل ہے بعد میں دین کی تفہیم و تشریح کے عنوان سے جو کچھ لکھاگیا ہے وہ ان کی کتاب پڑھنے کے بعد ہی لوگوں نے لکھا ہے ۔
ان کی کتاب” تعبیر کی غلطی “کے نام سے چھپی تھی شروع میں مودودی صاحب کے ساتھ خط وکتابت کی تفصیل ہے ۔
پچھلے سالوں میں ان کا رویہ مسلم مسائل میں بیحد سلبی ہوگیا تھا فسادات وغیرہ میں مسلمانوں ہی کو ذمہ دار ٹھہرانے کا رویہ انہوں نے اپنالیا تھا اسلئے مسلم دشمنوں کے حلقہ میں انکی پذیرائی بڑھ گئی تھی جو کسی طرح ان کے شایان شان بات نہیں تھی، ان کی تحریریں عام طور پر حشو وزوائد سے پاک اور اچھی نثر کا نمونہ ہواکرتی تھیں، انہوں نے بہت سے نزاعی مسائل بھی چھیڑے ہیں کسی زمانہ میں ایک طویل مضمون تاریخ ندوہ سے شبلی کے اخراج کے عنوان سے لکھ دیا ۔
تفسیر کا نام ہی انہوں نے ایسا رکھا ہے جسکی طرف علمی نکات کے خوگر علما ء کی توجہ نہیں ہوسکتی ، تجدید دین کا تخیل بھی مودودی صاحب کی طرح علماء کی تنقید کی زد پر رہاہے، کوئی مسقل تحریک برپا کرنے میں تو وہ کامیاب نہیں رہے لیکن انہوں نے خود کو مودودی صاحب کی سطح کے قائد اور مولاناابو الحسن علی ندوی کے درجہ کے داعی سے کم تر کبھی نہیں سمجھا بلکہ اپنے آپ کو استثنائی قسم کا داعی مہدی اور مسیح کے طرز کا مصلح بناکر بھیجے جانے کا اشارة ذکر کرتے رہے ۔
انہوں نے تحریری کام بہت کیا ہے اورفکری غلطیاں بھی بعض بڑی اور پہاڑ جیسی ہیں دلوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے دعاء ہے کہ اللہ تعالی انہیں جنت نصیب کرے اور دین کی غلط سمجھ سے لوگوں کو محفوظ رکھے آمین ۔
خان صاحب سے اپنی بعض ملاقاتوں کا ذکر میں نے النخیل کے” احوال مطالعہ” نمبر میں کیا تھا انکی تفصیل وہاں دیکھی جاسکتی ہے، ان کی گفتگو کا انداز عموماً فلسفیانہ باتیں بیشتر ناقدانہ اورتحریریں خوبصورت ہی نہیں بڑی حد تک ساحرانہ ہوتی تھیں ۔
مولانا وحید الدین خاں نے طویل عمر پائی 1925 م میں پیدا ہوئے2021م وفات پائی اور ہوش سنبھالنے کے بعد سے وفات تک برابر لکھتے ہی رہے ، ان کی لکھی ہوئی کتابوں اور تحریروں کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کرلینا چاہیے :
1 – “علم جدید کا چیلنج”جسے بعد میں “مذھب اور جدید سائنس کے نام سے شائع کیا گیا اور اس کا عربی ترجمہ “الاسلام یتحدی” کے نام سے متعارف ہے وہ مفید ہے اور اسی سلسلہ کی بعض دوسری تحریریں بھی جن میں استدلال کا نیا انداز اختیارکیا گیا ہے ۔
2 – وہ کتابیں جو انہوں نے مہدی مسیح دجال اور بعض دیگر علامات قیامت کے بارے میں لکھی ہیں بعض نصوص کا انکار کیا اور بعض کی ایسی تاویل کی ہے جو شرعی اصولوں کے قطعی خلاف ہے ۔
اسی طرح وہ تحریریں جو غلام احمد قادیانی جیسے کذاب اور دگر مدعیان نبوت کے بارے میں لکھی ہیں وہ انتہائی گمراہ کن ہیں ان سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے ۔
3 – وہ تحریریں جن میں اسلام کی تعلیمات کے بعض حصہ کو ناقابل عمل اور عیسائیت کی بعض تعلیمات کو ان پر ترجح دینے کی بات کہی گئی ہے وہ بھی دیوانہ کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی” ان الدین عند اللہ الاسلام ”
4 – جہاد کے الغاء اور ہر حال میں دشمنوں کے ظلم کو برداشت کرنے کی تلقین فلسطینیوں کو اپنے حق سے یھودیوں کے حق میں دست بردار ہونے کے بارے میں یہی کہا جاسکتا کہ اس کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے انکی رائےہے:
ومن یھن یسھل الھوان علیه
وما لجرح بميت ايلا م
اب وه اس دنيا ميں نہیں رہے دعاء ہے کہ رب کائنات انکی لغزشوں کو معاف کر ے اور جو اچھے کام انہوں نے کئے ہیں انکو قبولیت سے نوازے اور امت مسلمہ کو فکرو عقیدہ کی گمراہیوں سے محفوظ رکھے ۔
مرنے والے کے محاسن علمی اوصاف یااخلاقی خو بیوں کے ذکر کرنے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے لو گ جنکی غلطیاں متعدی ہوں اور لوگوں کی طرف سے مبالغہ آمیز تحریریں آرہی ہوں اور ان کے بارے میں سکوت سے دین کے نقصان کا اندیشہ ہو وہاں غلطیوں سے لوگوں کو آگاہ بھی نہ کیا جائے ، پھر توعلم الجرح والتعدیل کی اساس ہی منہدم ہو جائے گی ۔