مولانا نور عالم خلیل الامینی کی رحلت: علم وقلم کا مہر درخشاں غروب ہوگیا

13

ڈاکٹر جسیم الدین

(گیسٹ فیکلٹی شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی) 

استاذ الاساتذہ مولانا نور عالم خلیل امینی کی وفات سے اتنا مغموم و محزون ہوں کہ شیرازۂ خیال کو یکجا کرنے سے خود کو قاصر پارہا ہوں، دو دن گزرجانے کے بعد آج کچھ سپرد قرطاس کرنے کی ہمت جٹائی ہے ، یہاں یادوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے، استاذ محترم کی کس کس خوبی کو شمار کراؤں اور کس سے صرف نظر کروں، حقیقت یہ ہے کہ آپ کی شخصیت کا ہر پہلو اس کا متقاضی ہے کہ الگ الگ عنوان سے لکھا جائے۔ آج صرف استاذ محترم کی یادیں باقی رہ گئی ہیں، موت سے کس کو رستگاری ہے، ہم مرنے کے لیے ہی پید ا ہوئے ہیں ،لیکن مقام تأ سف یہ ہے کہ بعض قد آور شخصیت اتنی جلدی آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے کہ چہار سو اندھیرا اٹھتا نظر آتا ہے، استاذ محترم بھی ایک نازک مرحلہ میں ہم سب سے بچھڑ گئے ، یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آپ اتنی جلدی ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائیں گے، رمضان شروع ہونے سے قبل ہی ہوئی بات چیت میں جو شگفتگی تھی وہ یہ بتارہی تھی کہ آپ کی صحت کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے ، البتہ حضرت مولانا ولی رحمانی کی وفات پر اظہار رنج وغم کرتے ہوئے اپنے اس کرب کا بھی برملا اظہار کیا کہ ’پتہ نہیں یہ کورونا ہم سے کتنے لعل وگہر کو چھین لے گا، میرے بہت مخلص اورمجھ سے بے لوث محبت کرنے والے ڈاکٹر عبد القادر شمس قاسمی ،گزشتہ سال اسی وبا کی نذر ہوگئے اوررواں سال پھر بڑی تیزی سے اس وبانے کئی قدر آور شخصیات کو اپنا نوالہ بنالیاہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔اللہ تعالی ہم سب کواپنے حفظ وامان میں رکھے ‘۔اسی گفتگو کے چند دن بعد سوشل میڈیا پر آپ کی صحت کے لیے دعا کی اپیل نظر سے گزری ،میں نے فوراً مولانا کے چھوٹے صاحبزادے مولانا ثمامہ نور سے بذریعہ واٹس ایپ مزاج پرسی کی ،انھوں نے وائس کال کے ذریعہ یہ اطلاع دی کہ ہاں ابو کی طبیعت ناساز ہے ،لیکن خطرے سے باہر ہیں، اس پیغام کو سن کر کچھ راحت ملی، لیکن پھر دوسرے دن طبیعت میں غیر معمولی خلجان کی خبریں پاکر ذہنی طور پر کرب میں مبتلا ہوگیا کہ ہونہ ہو کوئی انہونی خبر سننے کو ملےاور آخر کاروقت سحر 3 مئی بمطابق 20 رمضان المبارک وقت سحر میرٹھ شہر میں واقع آنند اسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہنے کی خبر گشت کرنے لگی۔انا الیہ وانا الیہ راجعون۔

راقم السطور کو آپ کی ذات والا صفات سے سناشائی تو اسی وقت ہوگئی جب 1998 میں شمالی بہار کی قدیم دینی درسگاہ مدرسہ امدادیہ اشرفیہ طیب نگر راجو پٹی سیتامڑھی میں زیر تعلیم تھا ، یہاں کے محنتی طلبہ میں خوشخط بننے کا شوق تھا،مجھے بھی یہ شوق جامعہ اسلامیہ قاسمیہ دارالعلوم بالاساتھ سے ہی استاذ محترم مولانا سمیع احمد شمسی نائب مہتمم جامعہ اسلامیہ قاسمیہ بالاساتھ کی توجہ اور عنایت سے ملاتھا، امدادیہ اشرفیہ جاکر اس شوق کو مزید پروان چڑھایا،لیکن یہاں عربی خوشخطی کے لیے حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل امینی کی کتاب’خط رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں‘ معلم کا فریضہ انجام دے رہی تھی ،لیکن اس وقت میرے پاس یہ کتاب دستیاب نہیں تھی ،دیوبند سے جب مذکورہ کتاب منگوانے کا ارادہ کیا تو یہاں کے مؤقر استاذ مفتی اسلم صاحب سنہپوری نے یہ مشورہ دیا کہ میں مولانا نور عالم خلیل امینی کی تازہ تصنیف ’حرف شیریں‘ بھی منگوا لوں۔یہ دونوں کتابیں میں نے دیوبند سے منگوالیں، خط رقعہ سے تو بعد میں استفادہ کیا، لیکن ’حرف شیریں‘ کا حرف حرف میرے لوح دل پر مولانا کی عظمت ورفعت کے نقوش مرتسم کردیے اور یہ ارمان دل میں سجانے لگا کہ کب دیوبند جاؤں گا اور اس مقناطیسی شخصیت کی سحر آفریں تحریر سے جس طرح مسحور ہوا، ویسے ہی سحر انگیز بالمشافہ گفتگو کا موقع کب میسر آئے گا۔وقت گزرتا گیا اور میں بھی جلالین شریفین پڑھ کر مشکاۃ المصابیح (درجہ ہفتم عربی) میں داخلہ کے لیےدیوبند کا رخت سفر باندھ لیا۔اللہ اللہ کرکے میرا داخلہ بھی مطلوبہ درجے میں ہوگیا۔اور یہ میری سعادت مندی و نیک بختی ہےکہ 2002 میں دورۂ حدیث (فضیلت) میں امتیازی نمبر سے کامیاب ہونے کے بعد تکمیل افتا میں داخلہ لینے کے بجائے تکمیل ادب عربی میں داخلہ لیا ، تاکہ ادیب دوراں حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل الامینی کے چشمۂ صافی سے سیرابی حاصل کرکے عربی زبان کو صحیح پڑھنے اور لکھنے پر قادر ہوجاؤں۔ اللہ اللہ کرکے 2003 میں شعبۂ تکمیل ادب عربی میں داخلہ پاکر حضرت الاستاذ کی خوشہ چینی کا شرف حاصل کرلیا۔ یوں تو 2000 میں دار العلوم دیوبند میں عربی سال ہفتم (موقوف علیہ) میں داخلہ ملتے ہی اس قدر فرحاں وشاداں تھا کہ زندگی میں اب تک اس خوشی کا تقابل کسی دوسری خوشی نہیں کیا جاسکتا۔یہاں کے پرکیف علمی و روحانی ماحول میں جبال العلم اساتذہ سے کسب فیض کا موقع میسر آیا۔ فضیلت کے بعد جب تکمیل ادب عربی میں داخلے کی کارروائی مکمل ہوگئی ، تعلیمی سال کا آغاز ہوتے ہی ادب کی کلاس میں جب حضرت الاستاذ کا ورود مسعود ہوا تو بے پناہ خوشی ہوئی ، نہایت نفیس شیروانی ، موٹے فریم کا چشمہ ، اس کےاندر سے جھانکتی ہوئی بڑی بڑی آنکھیں، علی گڑھ پائجامہ، پالیش سے چمچماتا ہوا لیدر کے جوتے، ساتھ میں دائیں بائیں دوطلبہ کی معیت ۔ اس شان کے ساتھ جب کلاس روم میں آپ کا نزول اجلال ہوا تو جی بھر کر پہلے آپ کے سراپا کو دیکھتا رہا اور مسحور ہوتا گیا۔ جب تکلم کا سلسلہ شروع ہوا تو خوشی مزید دوچند ہوگئ۔آپ کی پرکیف تقریر نے عربی زبان کی اہمیت وافادیت کے تئیں جوش وجذبہ سے سرشار کردیا۔ اور پڑھانے کے انداز نے اپنا گرویدہ بنالیا۔ عبارت خوانی میں تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ عربی کا نطق صحیح اور پرکیف لہجہ نے سمجھوکہ اپنا اسیر بنا لیا۔ آپ طلبہ سے عبارت خوانی میں زبان کی صحت کے ساتھ لہجہ پر بھی خاص توجہ مرکوز رکھتے تھے۔پھر نثر جدید میں عربی تعبیرات و محاورات کا استعمال اس طرح کرواتے کہ سال کے اختتام تک تکمیل ادب عربی میں داخل ہر طالب علم اس قدر خود اعتمادی میں آجاتاکہ وہ بلاتکلف مختلف موضوعات پر بولنے اور لکھنے میں کسی طرح کا کوئی پریشر اور تکلف محسوس نہیں کرتا۔ آپ کا انداز تدریس سے ایسا محسوس ہوتاکہ آپ کی ذات میں مولانا وحید الزماں کیرانوی کی شخصیت حلول کرگئی ہے۔ان کا عکس جمیل آپ کی ذات میں نمایاں طور پر نظر آتا۔ پورے سال اسباق کی پابندی اور وقت مقررہ پر حاضری آپ کا معمول تھا۔ دوران درس آپ کے بولتے ہوئے فقروں میں ایک مسکراہٹ ہوتی اور کبھی کبھی طلبہ پر کیے جانے والے طنز لطیف سے پورا درس قہقہ زار بن جاتا۔ سال کے اختتام تک پہنچتے پہنچتے حضرت الاستاذ کی بارعب شخصیت سے یک گونہ قربت بھی ہوگئی اور آپ کے دولت کدے پر بھی گاہے بگاہے حاضری کا شرف حاصل ہوتا رہا اور ہر ملاقات میں آپ نے نظام زندگی کو مرتب کرنے کے حوالے درس وعبر سے مالامال کیا، معمولی معمولی باتوں کو اس اہمیت سے پیش کرتے کہ اب اس کا ادراک ہوا کہ عملی زندگی میں آنے کے بعد آپ کی بتائی ہوئی سبق آموز باتیں کس قدر کار آمد ثابت ہوئیں۔

 اب جب کہ دارالعلوم کے احاطہ سے نکلے ہوئے ایک عرصہ گذر چکا ہے ، لیکن حضرت الاستاذ کی تحریروں سے استفادہ کرتے ہوئے بذریعہ فون مزاج پرسی کی سعادت ملتی رہی۔گزشتہ سال جب حضرت لاستاذ کو عربی زبان وادب میں نمایاں خدمات کے عوض صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا گیا تو یہ حسن اتفاق ہے کہ ایک میرے ادب عربی کے دارالعلوم کے استاذ اور دوسرے میرے شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی کے میرے استاذ پروفیسر محمد نعمان خان کو بھی صدر جمہوریہ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا، اس طرح سے میرے دو نو ں اداروں کے عظیم اساتذہ کو ایوارڈ ملنا جہاں دیگر لوگوں کے لیے باعث فرحت و انبساط تھا، وہیں مجھے دہری خوشی تھی کہ میرے دونوں عظیم المرتبت اساتذہ کو بیک وقت صدر جمہوریہ ایوارڈ سے نوازا جارہا ہے، حضرت الاستاذ مولانا نور عالم خلیل امینی جب ایوارڈ قبول کرنے کے لیے دہلی تشریف لائے تو اس وقت مجھے ملاقات کی شدید خواہش تھی، لیکن حضرت الاستاذ کی عدیم الفرصتی نے ملاقات سے روک دیا ، اور یوں حضرت اسی دن شام کو دیوبند واپس ہوگئے۔ تاہم میں نے حضرت الاستاذ سے موبائل پر بات چیت کرکے ایوارڈ کی حصولیابی پر اظہار مسرت کیا اور صحت و عافیت کے آپ کی درازی عمر کی دعا کی۔ حضرت الاستاذ کی ذرہ نوازی کا سلسلہ یوں بھی جاری تھا کہ گاہے بگاہے ’الداعی‘ جیسے معیاری مجلہ میں مجھ جیسے بے بضاعتوں کے مضامین کو جگہ دیتے رہے۔

آپ کی ادارت میں دار العلوم دیوبند سے شائع ہونے والے رسالہ ”الداعی” کی برصغیر میں نکلنے والے دیگر مجلات و رسائل کے مقابلے دو نمایاں خصوصیات ہیں۔ پہلی تو اس کی ظاہری خوب صورتی ہے اور دوسری خصوصیت اس کا مواد سے لبریزہونا ہے،کیوں کہ اس کا سرِورق اور اس کا مرکزی لوگو اپنے وقت کے عظیم خطاط خلیق ٹونکی کا تیار کردہ ہے۔ اس کے مشمولات حضرت الاستاذکے ذوق کی بلندی کو بتاتے ہیں تو سرورق کی تزئین اور طباعت کی آراستگی آپ طبیعت کی نفاست پر دلالت کرتی ہے۔ آپ اپنے شان دار اور شستہ ادبی اسلوب کے لیے مشہور ہیں، جو خالص عربی رنگ سے مزین ہوتا تھا۔عجمیت زدہ عربی نہیں ہوتی تھی ۔الداعی میں ’اشراقۃ‘ حضرت الاستاذ مولانا نورعالم خلیل الامینی دامت برکاتہم کا ایک دائمی قلمی شاہ کار ہوا کرتا تھا، جس میں آپ الفاظ و محاورے کچھ اس طرز سے ڈھالتے تھے جیسے سُنار موتیوں اور زیورات کو ڈھالتا ہے۔ ”کلمۃ العدد” اور ”کلمۃ المحرر‘‘’ یہ دونوں بھی آپ کے جادوئی قلم سے ہی نکلتے تھے۔درحقیقت استاذ محترم مولانا نور عالم خلیل الامینی ہندوستان کے مایۂ ناز ادیب تھے۔ آپ عظیم مردم ساز شخصیت مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی نور اللہ مرقدہ کےنہ صرف خاص شاگرد، بلکہ ان کا عکس جمیل تھے۔ یوں تو آپ کو عربی ادب سے شروع ہی سے کافی شغف رہا ہے؛ لیکن علامہ وحید الزماں کیرانوی کی صحبتِ کیمیا اثر اور غیر معمولی تدریسی صلاحیت اور تخلیقی مواہب نے حضرت الاستاذ کے اندر ہمیشہ کے لیے ادب کی چنگاری بھڑکادی، جس نے آپ کی لسانی اور ادبی صلاحیتوں کو کندن بنا دیا، اورآپ عربی ادب کے میدان میں واقعی نورِ عالم (دینا کے لیے روشنی) کی حیثیت سے ابھرے۔

آپ کی ذات اسلاف کا نمونہ تھی، اس قسم کے لوگ تاریخ کے اوراق میں تو ملتے ہیں، مگر انسانوں کے غول میں نہیں، جن لوگوں کو مرنا چاہیے ان کی رسی مشیت ایزدی دراز کررہی ہےاور جنھیں مدتوں زندہ رہنا چاہیے وہ جلد ہی داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں، صیاد اجل گھات میں بیٹھا ہوا ہے ان کی زندگی کا شکار کرلیتاہے:

وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھودیے

ڈھونڈا تھا آسمان نے جنھیں خاک چھان کے

بلاشبہ آپ کی زندگی اہل علم ودانش کے لیے علم و معرفت کا سرچشمہ تھی، آپ کے چشمۂ صافی سے نہ جانے مجھ جیسے کتنے تشنہ لبوں نے سیرابی حاصل کی ۔اور اپنے علم وادب سے ایک کائنات کو فیضیاب کررہے ہیں۔آپ اپنی تحریروں میں احساس کی جمالیاتی لہروں کو دل کا خون دے کر پیش کرتے تھے جو قاری کو مسحور کیے بغیر نہیں رہتی۔آپ مجلسی آدمی نہیں تھے ، لیکن جس مجلس میں ہوتے میر مجلس ہوتے۔نفاست مولانا کی طبیعت ثانیہ تھی، نزاکت بھی ان کی زندگی کا احاطہ کیے ہوئی تھی، وہ خلقی طور پر نفیس و نازک تھے، یہاں تک کہ بول چال ،لب ولہجہ میں بھی یہی خصوصیات ملحوظ رکھتے ۔وہ نہ صرف شیشہ ہائے دل سے بھی زیادہ نرم ونازک الفاظ بولتے ،بلکہ مزاجاً بھی اسی نہج پر چلتے۔ مولانا کی بات چیت اتنی شستہ ورفتہ ہوتی کہ کوثر وتسنیم کی لہریں نچھاور ہوتیں اور لہجہ اتنا پیارا کہ الفاظ اس کی تاثیر بیان کرنے سے معذور ہیں۔ قدرت نے مولانا کو عجم کا حسن طبیعت اور عرب کا سوز دروں دے کر پیدا کیا تھا، مولانا کی ذات نگہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پرسوز کا مرقع تھی۔آپ کی رحلت ایک عظیم انسان کی موت نہیں، بلکہ ایک فقید المثال ادارہ کی موت ہے۔آخری وقت تک آپ نے قلم و کاغذ اور کتاب و قرطاس کے ساتھ زندگی بسر کی، وہ پڑھتے پڑھتے اور لکھتے لکھتے پروردگار حقیقی سے جاملے، آپ کی رحلت سے ایک ایسا وجود اٹھ گیاکہ شاید پورے ملک میں علم وقلم کے اعتبار سے ان کے رتبہ ومقام کا ایک شخص بھی نہیں، ان کےاشہب قلم سے بیسیوں مفید سے مفید تر کتابیں منظر عام پر آکر شرف قبولیت حاصل کرچکی ہیں۔،آپ کا وجود علم وقلم کا گنج گراں مایہ تھا، جب تک زندہ رہے عربی وا ردو کے افق ادب پر مثل آ فتاب چمکتے رہے ۔

استاذ محترم کی شخصیت پر لکھنے کے بہت سے پہلو ہیں جن پر لکھنے والے انشاء اللہ خوب لکھیں گے، میں بھی لکھوں گا، فی الحال میں استاذ مکرم کے اہل خانہ بالخصوص آپ کے صاحبزادے اسامہ نور، عمارہ نور، ثمامہ نور، صاحبزادیاں اوران سب کی والدہ محترمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ جل شانہ استاذ محترم کو جنت الفردوس نصیب فرمائے، آپ کی زریں و سنہری خدمات کوشرف قبولیت عطا فرمائے اور دار العلوم دیوبند کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔

رابطہ : 9711484126