عمر خالد گینگسٹر نہیں جو ہتھکڑی لگائی جائے، عدالت میں پولیس کی عرضی خارج

عمر خالد گینگسٹر نہیں جو ہتھکڑی لگائی جائے، عدالت میں پولیس کی عرضی خارج

ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئی اس عرضی میں 2020 کے دہلی فسادات کے ملزمین خالد اور سیفی کو ’پیچھے کی جانب سے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی‘ لگانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔
دہلی کی ایک عدالت نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم عمر خالد اور سماجی کارکن خالد سیفی کو ہتھکڑی لگا کر ذیلی عدالتوں میں پیش کرنے کی اجازت دینے کی پولیس کی عرضی خارج کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ گینگسٹر نہیں ہیں جو انھیں ہتھکڑی لگا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔
ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو کے سامنے سماعت کے لیے پیش کی گئی اس عرضی میں 2020 کے دہلی فسادات کے ملزمین خالد اور سیفی کو ’پیچھے کی جانب سے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی‘ لگانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عرضی میں کہا گیا کہ وہ ’زیادہ جوکھم والے قیدی‘ ہیں۔ جج نے اس عرضی کو خارج کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ دہلی پولیس اور جیل اتھارٹی کے اعلیٰ افسران نے بغیر طریقہ کار اختیار کیے اور دماغ لگائے یہ درخواست داخل کی۔
ایڈیشنل سیشن جج نے گزشتہ 5 جون کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ ’’جن ملزمین کو بیڑیاں اور ہتھکڑیاں لگا کر پیش کرنے کی اجازت مانگی گئی، وہ پرانے کسی معاملے میں قصوروار قرار نہیں دیے گئے ہیں۔ وہ گینگسٹر بھی نہیں ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ اس وقت اس عرضی کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ کووڈ-19 کے سبب ملزمین کو جسمانی طور پر عدالت میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *