’دَل بَدل‘ پر صرف پارلیمنٹ کو ہی قانون بنانے کا اختیار: سپریم کورٹ

’دَل بَدل‘ پر صرف پارلیمنٹ کو ہی قانون بنانے کا اختیار: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنّا نے دَل بدل قانون پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے لیے قانون بنانا کیسے ممکن ہے، جب کہ یہ پارلیمنٹ کے حلقہ اختیار میں ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک سماعت کے دوران یہ سوال کیا کہ عدالت عظمیٰ کے لیے قانون بنانا کیسے ممکن ہے، جب کہ یہ پارلیمنٹ کے حلقہ اختیار میں ہے۔ دراصل چیف جسٹس این وی رمنّا کی صدارت والی بنچ ایک ایسی عرضی پر سماعت کر رہی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ مرکزی حکومت کو ہدایت دے کہ وہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین کو بتائیں کہ یہ لوگ ’دَل بدل‘ (ایک پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں جانا) کرنے والے اراکین پارلیمنٹ/اراکین اسمبلی کے خلاف داخل نااہلی عرضیوں پر طے مدتی طریقے سے فیصلہ سنائے۔
رنجیت مکھرجی کے ذریعہ داخل عرضی میں عدالت سے پورے ہندوستان میں دَل بدل کے معاملوں میں فیصلہ لینے کے ایک یکساں عمل کے لیے سربراہان کی گائیڈ لائنس سے متعلق ہدایت دینے کی بھی گزارش کی گئی۔ عرضی دہندہ کے وکیل نے کہا کہ عرضی گائیڈ لائنس کے لیے داخل کی گئی ہے تاکہ دَل بدل کے معاملوں پر فوری اور طے مدتی طریقے سے کارروائی ہو۔ بنچ نے کہا کہ ’’ہم قانون کیسے بنا سکتے ہیں؟ اس کے لیے ایک الگ ادارہ (پارلیمنٹ) ہے۔‘‘
بنچ نے وکیل سے کہا کہ کرناٹک کے اراکین اسمبلی کی نااہلی سے متعلق معاملے میں بھی یہی ایشو اٹھایا گیا تھا، جسے عدالت نے خارج کر دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’میں کرناٹک رکن اسمبلی معاملے میں پہلے ہی اپنی رائے ظاہر کر چکے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہ ایشو اٹھایا گیا تھا اور سینئر وکیل کپل سبل نے بھی یہی دلیل دی تھی۔‘‘ بنچ نے کہا ہے کہ اس ایشو کو پارلیمنٹ پر فیصلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا، اور وکیل کو معاملے میں فیصلہ پڑھنے ور پھر عدالت میں واپس آنے کو کہا۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے کی اگلی سماعت دو ہفتہ بعد طے کی ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ ’’نجی اور سیاسی فائدہ کے لیے یہ بڑے پیمانے پر اور غلط سیاسی دَل بدل، ہندوستانی جمہوریت کی جڑ پر حملہ کرتے ہیں، اور آئین کی شق 21 کے تحت ہندوستانی شہری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔‘‘ عرضی دہندہ نے عدالت سے سیاسی دَل بدل سے متعلق ایشوز پر فیصلہ کرتے وقت اسمبلی اسپیکرس کی طرف سے بلاوجہ تاخیر کی جانچ کی گزارش کی تھی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *