آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اپنے بیان کو عملی جامہ پہنائیں، قول وعمل میں تضاد نہیں ہونا چاہیئے: ڈاکٹر منظور عالم

آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اپنے بیان کو عملی جامہ پہنائیں، قول وعمل میں تضاد نہیں ہونا چاہیئے: ڈاکٹر منظور عالم

نئی دہلی: (پریس ریلیز) آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کا یہ بیان اہم ہے کہ مذہب کے نام پر کسی طرح کی تفریق نہیں برتی جانی چاہیئے، سبھی بطور انسان برابر ہیں ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ صرف ہندوستان نہیں بلکہ دنیا بھر کے انسان برابر ہیں ، سبھی انصاف ، مساوات ، آزادی اور بھائی چارہ کے حقدار ہیں ۔ مذہب ، ذات اور نسل کے نام پر کسی طرح کی کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیئے ،یہ اسلام کا بنیادی اصول ہے اور قرآن کریم میں اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت بھی ایسی باتیں کررہے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ذات اور نسل کی بنیاد پر بھید بھاؤ کرنے کے بجائے سبھی کو مساوات ، انصاف اور آزادی کا حقدار سمجھیں گے ۔قرآن کریم میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ قول وعمل میں تضاد نہیں ہونا چاہیئے لیکن آر ایس ایس کے قول وعمل میں بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے اس لئے موہن بھاگوت کو چاہیئے وہ قول وعمل میں یکسانیت لائیں ،جوکہتے ہیں اس پر عمل بھی کریں ۔
ڈاکٹر محمد منظو رعالم نے مزید کہاکہ ماب لنچنگ پر آر ایس ایس سربراہ کا بیان عملی طور پر ثابت ہونا چاہیئے ۔ قانون کی حکمرانی اصل ہے ۔ عوام کے دلوں میں قانون کا احترام اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کا خوف پیدا ہونا چاہیے لیکن عوام کے دلوں میں ایسا نہیں ہے ۔ یہ کیسے ہوگا اس کی فکر مندی ضرور ی ہے ۔ ماب لنچنگ کے خلاف بولنے کے ساتھ جو عناصر اس میں ملوث پائے گئے ہیں اس کے خلاف سنگھ پریوار کا رویہ مشفقانہ رہاہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ عملی قدم اٹھایا جائے ، ایسے بیانات سے صرف گمراہ نہ کیا جائے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ بطور ہندوستانی شہری سبھی ایک ہیں ، اتحاد ،محبت اور یکجہتی قائم رہنی چاہیئے ۔ مسلمانوں کی یہی سوچ اور فکر ہمیشہ رہی ہے ۔ اسی جذبہ کی بنیاد پر مسلم دورحکومت میں ہندوستان کی ہمہ جہت ترقی ہوئی ۔ انگریزوں کے خلاف مسلمان بر سر پیکار رہے اور آج بھی مسلمان اس ملک کیلئے بے دریغ قربانیاں دے رہے ہیں لیکن اکثریتی طبقہ کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیاگیاہے کہ مسلمان اس ملک کے شہری نہیں ہیں جس کی وجہ سے حالات خراب ہوئے ہیں، تناؤ اور نفرت کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتاہے ۔ ملک کی ترقی اور کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ اکثریتی طبقہ نفرت ، تشدد اور عصبیت کے بجائے امن ومحبت کے ساتھ مسلمانوں سے ہاتھ ملائے ۔ قرقہ پرستی ، کمیونلزم اور تشدد کی راہ پر نہ چلے ۔ تبھی بھارت کی ترقی ہوگی ۔ امن وسکون کی فضاء میسر ہوگی ، ملک کی طاقت میں اضافہ ہوکا اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ ملے گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *