کتب سماوی و دیگر مذہبی کتابوں کی تفہیم کی ایک مثبت اور معنی خیز کوشش

کتب سماوی و دیگر مذہبی کتابوں کی تفہیم کی ایک مثبت اور معنی خیز کوشش

پروفیسر اخترالواسع
اس بات کو دوہرانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ہندوستان اپنی مذہبی، تہذیبی، ثقافتی اور لسانی تکثیریت کے اعتبار سے دنیا میںایک منفرد حیثیت کا مالک ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام ہی مذہبی روایات یہاں موجود ہیں۔ ان سبھی مذہبوں کے تیر تہوار یہاں کی قومی زندگی کا دلکش حصہ ہیں۔ یہاں پر کچھ میلوں کے فاصلے کو طے کرتے ہی بانی اور پانی دونوں بدل جاتے ہیں۔ یہ ہندوستان ہی ہے جہاں سب ایک دوسرے کے دکھ اور سکھ میں برابر سے شریک ہوتے ہیں، جہاں کی وراثت ہی نہیں چولہا بھی سانجھا ہوتا ہے۔
کثرت میں وحدت یہاں کی سب سے بڑی خوبی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے مذہب اور ان کے مذہبی صحیفوں کو جاننے اور سمجھنے کا ایک تجسس بھی پیدا ہوتا ہے۔ اِدھر سیاست ہو یا معیشت، دونوں نے جو فیصلے اور دوریاں پیدا کی ہیںاس کے لئے بڑی آسانی سے مذہبی روایات و اقدار کو ذمہ دار قرار دے دیا ہے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ مذہب کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اللہ بھلا کرے پروفیسر مولانا سعود عالم قاسمی، ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا، جنہوں نے مذاہب کے نام پر جو دیواریں اٹھائی جا رہی ہیں، مختلف مذاہب کے صحیفوں کی تعلیمات کو جس طرح سے توڑ مروڑ کے پیش کیا جا رہا ہے، جس طرح مختلف مذاہب کے پیشواؤں کو مطعون کیا جا رہا ہے، اس سب کے پیش نظر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی سرپرستی اور رہنمائی نے ایک دو روزہ بین الاقوامی ویبینار منعقد کیا اور جس میں اس بات کی اپنی جیسی بھرپور کوشش کی کہ جن جن مذاہب کے پیشوا، اپنے اپنے مذاہب اور ان سے جڑی ہوئی کتابوں کو متعارف کرانے کے لئے جمع ہو سکتے ہیں، انہیں مدعو کیا جائے۔ اس ویبینار کا افتتاح پروفیسر طارق منصور نے کیا اور موضوع کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم ایک تکثیری سماج میں رہتے ہیں اور ہماری بہت ساری قدریں باہمی طور پر مشترک ہیں۔ ان مشترک قدروں پر ہم کو سنجیدگی اور مرکزیت کے ساتھ عمل کرناہوگا۔ اس کے نتیجے میں ایک صحت مند اور صالح معاشرے کی تشکیل عمل میں آ سکے گی۔ مذاہب کے سلسلے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کے لئے ان کی مقدس کتابوں کا مطالعہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا مقدس کتابوں کے مطالعے کے علاوہ ایک دوسرے کی تہذیب اور زبان کو جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس ویبینار کے محرک اور ڈائریکٹر پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی نے کہا کہ پرامن بقائے باہم کے لئے دوسرے مذاہب اور ان کی مقدس کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ عموماً لوگ اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ مذہبی کتابوں میں کس طرح کی درجہ بندی ہے۔ کون سی مذہبی کتابیں اساسی طور پر قانونی درجہ رکھتی ہیں اور کون سی کتابیں ہر مذہب میں ثانوی اہمیت کی حامل ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسی کے ساتھ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمام مذاہب میں جو مشترکہ اقدار ہیں وہ تمام انسانوں کا مشترکہ سرمایہ ہے اور اس لئے ان تمام روشن قدروں کو گہرائی سے سمجھنے اور فروغ دینے کے لئے مختلف مذاہب کی آسمانی اور دیگر مذہبی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے۔
راقم الحروف کو اس ویبینار میں مہمان خصوصی کے طور پر یاد کیا گیا تھا اور دراصل یہ ایک سعادت تھی جو میرے حصے میں آئی۔ میں ہمیشہ سے اس بات کا حامی رہا ہوں کہ ہم صرف کلمہ طیبہ پڑھ کر ہی مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہم اللہ کی توحید و کبریائی اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی آخری رسول کی حیثیت سے تائید اور توثیق نہ کریں، ان پر ایمان نہ لائیں اور ایسا کرتے ہی ہم فوراً ایمانِ مفصل پر اپنے اس ایمان و یقین کا اعلان نہ کر دیں جو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ہونا لازمی ہے۔ قرآن کے لفظوں میں ”ہم صرف ان رسولوں پر ایمان ہی نہیں لاتے بلکہ ان میں سے کسی میں فرق بھی نہیں کرتے۔ “میری نظر میں اس ویبینار کا علی گڑھ میں ہونا غیر فطری نہیں تھا۔ اس لئے کہ عہد اکبری میں رامائن اور مہابھارت کے جو فارسی تراجم ہوئے تھے ان کو سب سے پہلے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پبلی کیشنز دویژن نے ہی زیورِ طبع سے آراستہ کرایا تھا۔ یہ علی گڑھ کے پیردانا سرسید ہی تھے جنہوں نے قرآن کریم کے علاوہ انجیل مقدس کی بھی تفسیر لکھی تھی۔
اسلامک فقہ اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مذہبی عقائد میں اختلاف قیامت تک باقی رہیںگے۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے اور ایک دوسرے کے مذہب و ثقافت کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں مختلف مذاہب کی تفہیم کے لئے ادارہ سازی کرنی چاہیے تاکہ سماج میں ایک مثبت رویہ پروان چڑھ سکے۔
اس موقعہ پر میتھو ڈِسٹ چرچ کی نمائندگی کرتے ہوئے فادر جوناتھن لال نے کہا کہ ہندوستان کی خوبی یہ ہے کہ اس کی زیبائش تکثیریت سے عبارت ہے اور یہ تکثیریت مختلف مذاہب کے آئینے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں سے ہندوستان میں مذہبی اقدار، تہذیبی روایات، ایک دوسرے کے ساتھ پرامن بقائے باہم کے اصول کے تحت فروغ پاتے رہے ہیں۔ بھوٹان سے تعلق رکھنے والے بدھسٹ رہنما ڈاکٹر سمدھو چیتری نے بدھ مذہب کے عدم تشدد کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کے جمالیاتی پہلوو ¿ں کو نمایاں کیا۔ ہندو مذہب کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے سوامی پرمانند پوری جی مہاراج، صدر، وشو کلیان سیوا سنستھان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اسلام سے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے تاکہ اسلام کے بارے جو غلط باتیں لوگوں میں پائی جاتی ہیں وہ دور ہو سکیں۔ آنند فاو ¿نڈیشن نئی دہلی کے بانی پروفیسر بھائی بلدیپ سنگھ نے کہا کہ کس طرح سے سکھ گروو ¿ں نے ہماری سماجی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار سے روشنی لیتے ہوئے سکھ مذہب کو توانائی بخشی۔ اپنے صدارتی خطاب میں مشہور مذہبی دانشور اور سرسید اکیڈمی کے سیکریٹری پروفیسر سید محمد نقوی نے کہا کہ آج ساری دنیا میں مذہبی رواداری کی ضرورت ہے اور مذاہب کی مشترکہ اقدار کو فروغ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اس ویبنیار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں ڈاکٹر ندیم اشرف، ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی اور ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی جیسے نوجوانوں نے کھل کر حصہ لیا جو اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی نئی نسل خاص طور پر وہ جو دینی مدارس سے سندیافتہ بھی ہے وہ توسع، تفہیم اور رواداری کے راستے پر چل نکلی ہے اور بجا طور پر جو امید کی جا سکتی ہے کہ اس دنیا میں جو نقل و حمل کے ذرائع کی غیرمعمولی ترقی کے ذریعے زمین کی طنابیں کھنچ جانے سے ایک عالمی گاو ¿ں میں تبدیل ہو چکی ہے اس میں اسلام کا جو نمونہ دنیا کے لئے قابل قبول اور عملی طور پر کارگر ہوگا وہ ہندوستانی نمونہ ہوگا جہاں مسلمان ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے مذہبی، تہذیبی، ثقافتی اور لسانی تکثیریت والی جغرافیائی وحدت میں مفاہمت اور خیرسگالی کے ساتھ رہے ہیں، جو نہ دارالحرب ہے اور نہ دارالاسلام بلکہ دارالصلح اور دارالمعاہدہ ہے۔ جہاں آٹھ سو سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود مسلمان اقلیت میں رہے کیوں کہ قرآن کریم نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ یہ تھی کہ مذہب میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے اور تمہاراد ین تمہارے لئے ہے اور میرا دین میرے لئے ہے، پر ہمیشہ شعوری طور پر عامل رہے۔ اس ملک میں وہ حاکم بھی رہے اور محکوم بھی لیکن اب ۵۱اگست ۷۴۹۱ءسے وہ نہ حاکم ہےں اور نہ محکوم بلکہ اقتدار میں برابر کے شریک ہیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے اپنے سربراہ پروفیسر طارق منصور کی رہنمائی میں افہام و تفہیم، خیرسگالی اور مذہبی مکالمے کی جو نئی سبیل نکالی ہے وہ انتہائی مستحسن ہے۔ کیوں کہ ہم جس زمانے میں جی رہے ہیں وہ نہ مجادلے کا ہے نہ مناظرے کا بلکہ مکالمے کا ہے۔ آج اسلام اور مسلمانوں کی جو گھیرا بندی ہو رہی ہے اس سے نجات پانے کا یہی واحد راستہ ہے کہ:
گفتگو ختم نہ ہو بات سے بات چلے
(مضمون نگار مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس ہیں)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *