کرپشن اور ہمارا پاکستان

کرپشن اور ہمارا پاکستان

صائمہ رحمان

پاکستانی عوام سال ہا سال سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں ہر جگہ کرپشن، رشوت، سفارش اور اقربا پروری کا بازار گرم ہے۔ دنیائے کرپشن میں پاکستان کہاں ہے اس حوالے سے آج ہم ایک جائزہ لیتے ہیں۔کرپشن کے خلاف حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باوجود پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی ہے اور عالمی درجہ بندی میں 3 درجہ تنزلی کے بعد پاکستان 120ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل مختلف ممالک میں کرپشن،رشوت ستانی اور بددیانتی پر سروے کر کے اپنی رپورٹ بناتی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ کرپشن نے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتوں کو خاندانی آمریت اور غیر جمہوری ڈھانچوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ ترجیحی بنیاد پر احتساب کا ایسا موثر نظام وضع کرے جس سے عوام کو یہ اختیار مل سکے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کا احتساب کر سکیں تاکہ ملکی سا لمیت کو لاحق خطرات سے نمٹا جاسکے۔ رپورٹ کیمطابق پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن محکمہ پولیس میں ہے۔عسکری اداروں میں کرپشن تقابلی طور پر کم ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر جمہوری سیاسی جماعتیں حصول انصاف کا کمزور نظام اور قانون کے نفاذ میں موجود انتظامی خامیوں کی وجہ سے شہریوں میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا جارہا ہے جس وجہ سے حکومت پر انکے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی اکثریت انتہائی بدعنوان ہیں انکی وجہ سے بھی ملکی اداروں میں کرپشن بڑھ رہی ہے۔

ایک اندازے کیمطابق پاکستا ن میں روزانہ تقریباََ سات ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے۔اس حوالے سے اگر ملک میں ہونے والی کرپشن کا حساب لگایا جائے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ بدعنوانیوں کے خاتمہ کیلئے نئے قوانین کا اطلاق کرے اور کرپشن کیخلاف آواز اٹھانے والوں کے تحفظ کو یقینی بنائے پاکستان میں کرپشن کی روک تھام کیلئے ایک آئینی ادارہ بنایا گیا ہے جسے قومی احتساب بیورو کہا جاتا ہے۔یہ ادارہ ملک سے کرپشن، مالیاتی جرائم کے خاتمے اور اقتصادی دہشت گردی “Economic Terrorism” کو روکنے کا سب سے بڑا اور بااختیار ادارہ ہے۔ قومی احتساب بیورو جسے زبان عام میں نیب کہا جاتا ہے۔ آئینی اعتبار سے ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس ادارے کی بنیاد ی ذمہ داری ملک کے سرکاری اور نجی اداروں میں انفرادی یا اجتماعی طور پر ہونے والی بد عنوانیوں، کرپشن اور مالیاتی جرائم پر نظر رکھنا ہے، اس میں ملوث افراد کیخلاف تحقیق و تفتیش کرنا اور نامزد افراد کو گرفتار کر کے انہیں سزائیں دلوانا شامل ہے۔ اس حوالے سے نیب کو وزیر اعظم، کابینہ کے ارکان، ممبران پارلیمنٹ،سیاستدان، بیورکریٹ، تاجر، سرمایہ دار،بینکار،دفاعی اور کارپوریٹ

 اداروں سے منسلک تمام افراد کیخلاف کارروائی کا حق ہے۔

نیب کا قیام پندرہ سال قبل 16نومبر1999کو ہوا، اس کا صدر دفتر اسلام آبا دمیں ہے۔ جبکہ چاروں صوبوں میں اسکے ذیلی دفاتر کام کر رہے ہیں۔ کام کی نوعیت کے اعتبار سے نیب میں دوپرنسپل آفیسرز ہوتے ہیں ایک چیئرمین کہلاتا ہے جبکہ دوسرے کو پراسیکیوٹر جنرل آف اکاونٹیبلٹی کا نام دیا گیا ہے۔نیب کا چیئرمین Investigationکا سربراہ ہے جبکہ پراسیکیوٹر جنرل کا کام Prosecution کرنا ہے۔ نیب کے چیئرمین کے عہدے کی مدت چار سال ہے۔ رائے عامہ کا خیال ہے کہ چیئرمین نیب کی پوزیشن کوئی سیاسی پوسٹ نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی با اختیار اور پر کشش عہدہ ہے۔ ا نکی ذمہ داری ہے کہ وہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس عمل میں نیب کی حیثیت ایک عدالتی معاون کی سی ہوتی ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے لے کر اب تک کئی کھرب روپے قومی خزانے کو واپس دلائے ہیں۔یہ رقم مختلف ادوار میں سیاستدانوں، بیورو کریٹس نے بد عنوانی اور کرپشن کے تحت حاصل کی تھی۔نیب لاہور نے تین سال میں کتنی ریکوری کی؟ کارکردگی رپورٹ نیب لاہور نے اپنی تین سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جس کیمطابق نیب نے پلی بارگین کے تحت 15 ارب 81کروڑ 70 لاکھ روپے ریکور کیے۔

 پاکستان میں کرپشن کم کرنے کے لیئے ہر سطح پر سنجیدگی کے ساتھ قوائدوضوابط کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور ہندوستان کا جائزہ لیا جائے جتنی کرپشن کم ہوگی اتنی ہی معشیت بہتر ہوجائے گی۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی سربراہ ڈیلیا فریرا روبیو حکومت کی کرپشن پر مایوسی اور اداروں پر عدم اعتماد اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہمیں شفاف سیاسی قیادت کی ضرورت ہے، حکومتوں کو سیاسی جماعتوں میں پیسے کے ذریعے کرپشن اور سیاسی نظام پر اثر انداز ہونے والے ذاتی مفادات جیسے مسائل کا فوری حل نکالنا ہو گا۔

قومی احتساب بیورو کی طرف سے 153 ارب روپے کی ریکوری کے دعوے کی نیب کی ریکوری کی حقیقت کیا ہے؟نیب کی درجہ بندی کے مطابق ریکوری آٹھ مد میں ہوتی ہے:والنٹری ریٹرن،پلی بارگین،بینکوں کے قرضوں کا معاملہ جو نیب دیکھ رہا ہے ہے وہ قرضے جو سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رپورٹ کیے

قرضوں کی ری سٹرکچرنگ یا ری شیڈولنگ،پنجاب کوآپریٹو بورڈ لمیٹڈ (پی سی بی ایل) کے مقدمے میں ریکوری،عدالت کی طرف سے عائد جرمانے،’ان ڈائریکٹ‘ طریقے سے ریکوری۔

وزیراعظم عمران خان نے بتایاکہ مسلم لیگ ن نے 10 سال میں 2.6 ارب روپے جبکہ پی ٹی آئی نے 192 ارب روپے مالیت کی ریاستی زمین واگزار کرائی اور مسلم لیگ ن نے دس سالوں میں 430 ملین روپے جبکہ پی ٹی آئی نے 2.35 ارب روپے کیش ریکور کروائے۔ نیب نے 2018 سے 2020 تک 484 ارب روپے کی لوٹی دولت برآمد کی۔

  عام شہریوں ا ور طالب علموں میں کرپشن کیخلاف آگاہی پیدا کرنے کیلئے نیب نے ایک سال کے دوران جو اقدامات کیے ہیں انکے تحت 400 سے زیادہ ایسی سوسائٹیاں بنائی ہیں جو ملکی یونیورسٹیوں، کالجز اور سکولوں میں کرپشن کیخلاف شعور اجاگر کر رہی ہیں۔ نیب کے چیئرمین نے نیب کے ادارے کومزید فعال بنانے کیے Quantified Grading System کا اجراء بھی کیا۔ جس کے تحت نیب کے افسران اور اہلکاروں کی کارکردگی کا تعین سائنسی بنیادوں پر شفاف انداز میں ہو گا۔

نیب کی کارکردگی کو مزید فعال اور موثر بنانے کیلئے جن اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسکے تحت نیب سے منسلک افراد کی کرائمز کی جڑوں خاص طور پروائٹ کالر کرائمز اور کک بیکس کے جرائم کا سراغ لگانے کیلئے اعلیٰ تربیت کا اہتمام اور عملے کی تنخواہوں اور کارکردگی کی بنیاد پر انہیں خصوصی انعام و اکرام دینا ضروری ہے۔ اسکے علاوہ کرپشن کے خاتمے کیلئے رقوم کی ادائیگی کے نظام کو دستاویزی بنانا اور بینکوں میں ان لائن کے نظام کو لازماً نامزد کرنا ضروری ہے۔جن ممالک میں کرپشن کم ہے اس کا راز یہی ہے کہ وہاں عدالتیں آزاد ہیں اور قانون سب کیلئے برابر ہے مجھے یقین ہے کہ اگرہم ملک کی عدلیہ کو آزادی سے کام کرنے دیں اور اسکے احکامات پر فوری عمل کریں تو ہم بھی بہت جلد کرپشن فری ملک بننے کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں کہ یہی خلقِ خدا اور پاکستان کی پکار بھی ہے۔

email: saima.arynews@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *