ہندوستان کی سیاست میں مسلمانوں کا کردار کیا ہونا چاہئے!

186

ہم ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں بہت دانش مندی اور نزاکت کے ساتھ ایسے فیصلے لینے ہیں جس سے ہم بحیثیت قوم ایوان بالا کے مکینوں کو اپنی بیداری اور اہمیت کا احساس دلا سکیں
سیف الاسلام مدنی
ایک لمبے عرصے سے ہندوستان کے مسلمان سیاسی اعتبار سے اپنے آپکو تنہا محسوس کررہے ہیں اور اس بات کا احساس انہیں خوب ہے کہ مسلمان آزادی کے بعد سے ہی کس طرح نظر انداز کئے گئے ہیں نہ صرف نظر انداز کئے گئے بلکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے کبھی مسلمانوں کو ملک کا اول درجہ کا شہری نہیں سمجھا ہر اعتبار سے ان پر مظالم کئے گئے انکا قتل عام کیا گیا ہزاروں فساد کرائے گئے جن میں لاکھوں قتل اور لاکھوں بے گھر ہوئے لیکن سکیولرازم کا دم بھرنے والوں نے کبھی اس قوم کی جانب توجہ نہیں کی اس کے درد کا علاج اور فکرو غم کا مداوا نہیں کیا
یوں تو اس ملک میں مسلمانوں کے خلاف سوتیلا رویہ شروع سے ہی رہا آج کے حالات اور اور بعد آزادی کے حالات میں زیادہ کوئی فرق نہیں سردار پٹیل جیسے لوگ آزادی کے بعد ہی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے لگے تھے اور انہیں مطعون کیا جانے لگا تھا کانگریس نے اپنے اصولوں کو قائم نہیں رکھا جس بنیاد پر انڈین نیشنل کانگریس وجود میں آئی تھی وہ بعد آزادی ہی تبدیل ہوگیا ۔
ایک تبصرہ میری نظر سے گذرا جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب انڈیا ونس فریڈم کے تعلق سے لکھا ہے کہ جس نے مولانا آزاد کی یہ کتاب پڑھی ہے اسے ملک کے موجودہ حالات پر متحیر نہیں ہونا چاہئے ۔
ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس پارٹی جس کے پرچم تلے ملک آزاد ہوا جو ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم کی سب سے بڑی دعویدار ہے، اس کے دستورکا تقاضا تھا کہ وہ اس مسئلہ میں سب سے زیادہ حساس ہوتی اور دستور کی پاسداری کرتی، مگر واقعات ومشاہدات بتاتے ہیں کہ اسی کانگریس پارٹی کے زیرِ اقتدار دستور کی سب سے زیادہ پامالی ہوئی ہے اور اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے اور انہیں کے نقش قدم پر ملک کی دیگر سیاسی پارٹیاں بھی چلتی رہیں ،
اب ضرورت ہے کہ مسلمان اپنی موجودگی کا احساس دلائیں اور اپنی سیاسی قیادت خود پیدا کریں ،ظاہر ہےیہ بات لکھنے میں جتنی آسان ہے عملی میدان میں اتنی ہی مشکل کہ مسلمانوں کی قیادت ہو تو کون سی قیادت جسکو ملک کے تمام مسلمان تسلیم کرلیں یہ انتہائی مشکل کام ہےمسلمانوں کی مذہبی قیادتیں تو اپنی جگہ مسلم ہیں گو انہوں نے قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کی ہو یا نہ کی ہو، ہندوستان کی مسلم سیاسی قیادت میں ایک نام اسد الدین اویسی کا لیا جاسکتا ہے جو مسلمانوں کو انکے حقوق دلانے کی بات کرتے ہیں قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار، وروایات کی پاسداری انکا مشن ہے وہ مسلمانوں کو سیاسی غلامی سے نجات دلانے کی بات کرتے ہیں ایوان بالا تک مسلمانوں کو پہونچانے کی بات کرتے ہیں لیکن انکو بھی مذہبی قیادت کی اور سے کوئی حمایت نہیں ملی ممکن ہے لوگ انکی پالیسیوں سے متفق نہ ہوں تو سوال تو یہی ہے اور اسی کا جواب تلاش کرنا یے جس کے لئے مسلمان 70 سالوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے کہ آخر مسلمان کس کی پالیسیز اور کن پالیسیز پر متفق ہونگے کیا انڈین نیشل کانگریس کی پالیسی پر جسکی تباہ کاریاں مختصر میں اوپر لکھ چکا ہوں، میں نہیں کہتا کہ مسلمان مجموعی طور پر اویسی کا دامن تھام لیں لیکن اتنا ضرور لکھنا چاہونگا کہ ملکی اور مذہبی قیادتوں کو مل بیٹھنا چاہئے جمعیتہ علماء ہو یا مکمل مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی پرسنل لاء بورڈ ہو سب مل کر مسلمانوں کےاس مسئلے کو حل کریں اور اپنی سیاسی زمین تلاش کریں انٹلیکچؤل اور دانشور حضرات اس کو ترجیحی طور پر دیکھیں کیوں کے سیاست اور ایوان بالا تک رسائی جمہوری ملک میں بڑی طاقت رکھتا ہے یوپی کے الیکشن قریب ہیں اس سلسلے میں مسلمانوں کو حکمت عملی کے ساتھ اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے یوں تو کہنے کو اسمبلی اور پارلیامنٹ میں کئی مسلمان ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ انکا کردار کیا ہے وہ آزاد نہیں ہوتے مسلم مخالف فیصلوں میں یہ بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں اس لئے اپنی آزاد پارٹی آزاد ممبران اسمبلی و پارلیامنٹ ہونے چاہئے تاکہ آزادی کے ساتھ اپنی بات مضبوطی کے ساتھ اٹھا سکیں اس میں جتنی تاخیر کی جائےگی بازیابی میں اتنی ہی دشواری پیش آئےگی!
mdsaifulislammadni@gmail.com
8299649549

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com