جناب مولانا محمود حسنی ندویؒ اک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

محمد عمر عابدین

(المعہد العالی الإسلامی حیدرآباد)

مولانا محمود حسنی ندوی اب ہمارے درمیان نہیں رہے، عمر عزیز کی کم و بیش پچاس بہاریں گزار کر وہ داغ فراق دے گئے، جہان بے ثبات سے منہ موڑ کر جہان ثبات و زیست  کی جانب  ہولیے۔

بچھڑا کچھ اِس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی

اِک شخص سارے شہر کو ویران کرگیا

مولانا مرحوم اخلاقی قدروں کے آئینہ دار، خاندانی روایتوں کے پاسدار اور ‘حسنی’ نسبتوں کے تاجدار تھے، تواضع و انکساری کے پیکر اور مہمان نوازی کے خوگر تھے، جو ان سے ملتا ان کا ہوجاتا تھا، سادگی و درویشی میں ڈھلے اور قلندرانہ رنگ و آہنگ میں سجے سجائے تھے، سنجیدگی و متانت کے ساتھ ساتھ، تبسم آمیز لب و لہجہ ان کی شخصیت کا عکس خاص تھا۔ ان گونا گوں خوبیوں کی وجہ کر نہ جانے کتنوں کے دل و دماغ؛ ان کے قائل و مائل ہوگئے۔

ہم نے ان کی شخصیت کی جلوہ سامانی اور “مجلس ذکر” کی سحرانگیزی کو رائے بریلی کی خانقاہ میں دیکھا، بڑے وجد و جذب کے ساتھ ذکر کرتے، دل کے تاروں کو چھیڑ دیتے، اہل دل کو آہ اور واہ کی منزلوں سے گزار تے، کوئی پارسا ہو کہ سیاہ کار اس “روحانی لمس” سے محروم نہ رہتا۔

وہ خانوادہ “علم اللہ” کے چشم و چراغ اور اس کی علمی و فکری روایت کے مشعل بردار تھے، “صلاح و صلاحیت” کا حسین امتزاج رکھتے تھے، تصوف و سلوک ان کے مزاج و مذاق کا حصہ ہی نہیں خاصّہ بھی تھا، مگر ذکر وفکر کی گرما گرمی نے؛ علم و قلم کی گہما گہمی اور صحرا نوردی میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے لوح و قلم کی قیمتی جاگیریں چھوڑ گئے۔

انہیں  بزرگوں کی تاریخ اور سوانح عمری سے خوب دلچسپی تھی، سینکڑوں صفحوں پر مشتمل کئی کتابیں لکھ ڈالیں، متعدد بزرگوں کے خاکے “سپرد خاک” ہونے سے پہلے سپرد قلم  کردیے اور حیات جاوداں عطا کی۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ہندوستان میں “کاروان تحفظ شریعت” کے روح رواں اور میر کارواں ہیں، اس پر آشوب دور میں ان کی موجودگی و رہنمائی کتنے ہی فتنوں کو دبائے اور کتنے ہی اختلافات پر بند لگائے ہوئے ہے، مولانا محمود حسنیؒ ان ہی کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے، وہ حضرت مولانا کے مزاج شناس، حاضر باش اور خدمت گزار بھی تھے، ظاہر ہے باغباں ہی کسی “شاخ آرزو” کے سوکھنے کا غم محسوس کر سکتا ہے، اور بات زخم دو زخم کی نہیں، بلکہ صورت حال یہ ہے :

          “ایک دو زخم نہیں جسم ہے سارا چھلنی”

گزشتہ چند برسوں میں آپ کے کئی عزیز بچھڑے اور بچھڑتے چلے گئے،

حضرت مولانا عبد اللہ حسنیؒ

حضرت مولانا واضح رشید حسنیؒ

جناب مولانا حمزہ حسنیؒ

اور اب جناب مولانا محمود حسنیؒ۔

ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔

بار الہا ان سب کو جوار رحمت میں جگہ دے اور بال بال مغفرت فرمائے۔

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب اور دیگر پسماندگان کی خدمت میں اس دل سوگوار کی جانب سے حرف تعزیت اور دعائے مغفرت پیش ہے۔

اس کار گہ حیات میں انسان کتنے ہی خواب دیکھتا ، منصوبے بناتا اور خاکے تیار کرتا ہے، مگر یہ سب ریگ رواں اور فریب نظر سے زیادہ کچھ نہیں، خدا جانے کب دل کی ڈھرکن تھم جائے، نبض ہستی ڈوب جائے، اور سانسوں کا یہ سفر رک جائے، حقیقت یہ ہے کہ “أنتم سلفنا و نحن بالأثر” کوئی طلسماتی جملہ نہیں بلکہ ایمانی بیانیہ ہے، جو غفلت شعاری، خدا فراموشی اور خود فریبی سے انسان کو باہر نکالتا ہے۔

حدیث کا یہ شہ پارہ نہ جانے کسی فرنگی شاعر John Donne تک کیسے پہنچ گیا، اس نے

یہی بات اپنے انداز میں یوں کہی ہے:

“Any man’s death diminishes me, because I am involved in mankind, and therefore never send to know for whom the bells tolls”

(کسی بھی آدمی کی موت مجھے گھلا دیتی ہے، کیونکہ میں انسانی سماج کا حصہ ہوں، اس لئے یہ نہ پوچھو کس کی موت کا اعلان ہورہا ہے؟ _

کیونکہ کسی کی موت کا اعلان در اصل آپ کی موت کا اعلان ہے)۔

جنہیں گزرنا تھا وہ گزر گئے، مگر یہ “جگ بیتی” کبھی بھی “آپ بیتی” بن سکتی ہے !!

اللهم إنا نسألك توبة مقبولة قبل الموت، و كلمة طيبة عند الموت .

Omarabedeen@gmail.com

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com