حفظ قرآن کریم، ایک عظیم نعمت، ایک نایاب تحفہ

ڈاکٹر محمد سعید انور قاسمی

 قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہے جس کے الفاظ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کئے گئے،جو تواتر کے ساتھ منقول ہے، جس کی ابتداءسورہ فاتحہ سے ہوتی ہے اور جو سورہ ناس پر ختم ہوتا ہے۔تواتر سے نقل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانے میں اتنے لوگوں نے اسے نقل کیا ہے کہ بظاہر ان سب کا جھوٹ پر متفق ہونا ممکن ہی نہیں۔ قرآن کریم کو سب سے پہلے لوحِ محفوظ پر اتارا گیا ہے۔ ماہِ رمضان کی ایک بابرکت رات لیلۃ القدر میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسبِ ضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کریم مکمل نازل ہوا۔ قرآن کریم کا تدریجی نزول اُس وقت شروع ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال تھی۔ قرآن کریم کی سب سے پہلی جو آیتیں غارِ حرا میں اُتریں، وہ سورۂ علق کی ابتدائی آیات ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن کریم ہے۔ بغیر سمجھے بھی لاکھوں لوگ ہر وقت اس کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہوں پر اپنے پاک کلام کے لیے قرآن کا لفظ استعمال کیا ہے: ”إنَّہ لَقُرآن کَرِیم “ (الواقعہ: ۷۷)۔ اسی طرح فرمایا: ”بَل ہُوَ قُرآن مَّجِید“ (البروج:۲۱)۔

 دنیا کے تمام مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے علاوہ توراة،زبور، انجیل اور کچھ صحیفے بھی نازل فرمائے ہیں۔خود قرآن عظیم الشان نے بتایا ہے کہ رسول خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والے دیگر آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اسی کے ساتھ قرآن کریم نے ہی ان کتابوں میں تحریف و تاویل کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کےتعلق سے اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ ہم اس کلام کی حفاظت خود کریں گے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ” بے شک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے“۔ (سورة الحجر، آیت نمبر 9) ایک دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ”جن لوگوں نے قرآن کریم کاا نکار کیا جب کہ وہ ان کے پاس آ چکا ہے، (ان کا حال بھی اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے) اور یقینا یہ بڑی با وقعت کتاب ہے۔ اس میں نہ آگے سے جھوٹ داخل ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے۔ یہ حکمت والے بہت ہی قابل تعریف خدا کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے“۔ (سورة فصلت: آیت نمبر 41-42) یہ بات کہ ”اس میں نہ آگے جھوٹ داخل ہو سکتا ہے نہ پیچھے سے “محاورہ کے طور پر ہے ،یعنی اللہ رب العزت نے اس کتاب کی حفاظت کا ایسا انتظام کیا ہے کہ اس میں کسی رد و بدل کا امکان ہی نہیں۔ یعنی سابقہ کتابوں کی طرح اس کتاب میں تحریف و تاویل کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

 عہد نبوی میں قرآن کریم کی حفاظت دو پہلووَں سے کی گئی۔ حفظ کے ذریعے اور کتابت کے ذریعے۔ جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اہل عرب بہت کم پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ آج کی طرح اس وقت لکھنے پڑھنے کے وسائل کاغذ وغیرہ بھی آسانی سے میسر نہیں تھے اور لوگ کسی بھی چیز کو محفوظ رکھنے کے لئے اسے یاد کر لیا کرتے تھے۔ اس دور میں یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا۔ اہل عرب یوں بھی اپنی حیرت انگیزقوت حافظہ کے لئے پوری دنیا میں جانے جاتے تھے۔ طویل قصا ئد، مشہہورجنگوں کے واقعات، نسب نامے، حتی کہ اپنے جانوروں کے پشت ہا پشت کے نسب نامے زبانی یاد رکھتے تھے۔ چنانچہ جب قرآن نازل ہوا تو اسے شوق و ذوق سے یاد کرنا شروع کردیا۔ صحابہ کرام کو قرآن یاد کرنے کا اس قدر شوق تھا کہ ہر شخص ایک دورسرے سے آگے بڑھنے کی فکر میں رہتا۔ اسی محنت اور کوشش کا نتیجہ تھا کہ عہد نبوی میں ہی حفاظ صحابہ کی ایک بڑی تعداد وجود میں آ گئیتھی۔ روایات میں تقریبا چالیس صحابہ کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے پورا قرآن یاد کر لیا تھا۔ یہ تعداد بھی فقط ان ناموں کی ہے جو زیادہ مشہور ہوئے ورنہ ان کے علاوہ صحابہ کی ایک بڑی تعداد ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیحیات میں ہی قرآن کریم حفظ کرلیا تھا۔ حفاظ صحابہ کی تعداد کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غزوہ بیر معونہ میں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ہوا تھا تقریبا ستر حفاظ صحابہ کی شہادت کا ذکر ملتا ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے کچھ ہی دنوں بعد ہونے والی جنگ یمامہ میں بھی اتنے ہی حفاظ شہید ہوئے تھے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی صحابہ کی ایک بڑی تعداد نے پورا قرآن حفظ کر لیا تھا۔ایسے صحابہ کا تو کوئی شمار ہی نہیں جنہوں نے قرآن کریم کے متفرق حصے یاد کر رکھے تھے۔ حفاظ کی یہ تعداد عہد بہ عہد بڑھتی ہی رہی اور اس طرح ایک بڑی تعداد کے ذریعہ سینہ بہ سینہ قرآن کریم منتقل ہوتا رہا۔غرضیکہ قرآن کی حفاظت کے لیے سب سے پہلے حفظِ قرآ ن پر زور دیا گیا اور اُس وقت کے لحاظ سے یہی طریقہ زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد تھا۔

 قرآن کریم کی حفاظت کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کو لکھوانے کا بھی خاص اہتمام فرمایا، چنانچہ نزولِ وحی کے بعد آپ کاتبینِ وحی کو لکھوادیا کرتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب قرآن کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ کاتبِ وحی کو یہ ہدایت بھی فرماتے تھے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں فلاں آیات کے بعد لکھا جائے۔ اس زمانہ میں کاغذ دستیاب نہیں تھا، اس لیے یہ قرآنی آیات زیادہ تر پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں، کھجور کی شاخوں، بانس کے ٹکڑوں، درخت کے پتوں اور جانور کی ہڈیوں پر لکھی جاتی تھیں۔ کاتبینِ وحی میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، خلفاءراشدین رضی اللہ عنہم، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خاص طور پر ذکر کیے جاتے ہیں۔

 حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کا ماہر جس کو خوب یاد ہو، خوب پڑھتا ہو، اُس کا حشر قیامت کے دن فرشتوں کے ساتھ ہوگا“۔ (بخاری) حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دن صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ، جیسا کہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرتا تھا، پس تیرا مرتبہ وہی ہے جہاں آخری آیت پر پہنچے۔“ (مسلم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”جو شخص قرآن پڑھے اور اس پر عمل کرے،اس کے والدین کو قیامت کے دن ایک تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی۔ اگر وہ آفتاب تمہارے گھروں میں ہو تو کیاگمان ہے تمہارا اُس شخص کے بارے میں جو خود اس پر عمل پیرا ہو؟“ (ابوداود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے قرآن کریم میں مہارت حاصل کرلی ہو، وہ معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگاجو سفیر اور نیکوکار ہیں اور جو شخص قرآن کریم اَٹکتا ہوا پڑھتا ہے، اور اس میں دقت اُٹھاتا ہے، اس کے لیے دو اجر ہیں۔“ (بخاری) ماہر وہی کہلاتا ہے جس کو یاد بھی خوب ہو اور پڑھتا بھی خوب ہو۔حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن ہر شئے سے افضل ہے، جس نے قرآن کی تعظیم کی اس نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کی اور جس نے قرآن کی بے قدری (اور توہین) کی اس نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ناقدری کی، حاملینِ قرآن (حفاظ اور علما) اللہ تعالیٰ کی رحمت کے احاطہ میں ہیں، کلام اللہ کی عظمت اور قدر کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نور میں ملبوس ہیں، جنہوں نے ان سے دوستی رکھی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دوستی رکھی، جنہوں نے ان سے دشمنی رکھی بے شک انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حق کی ناقدری کی۔“ (الجامع لاحکام القرآن للقرطبیؒ)

 حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: ”وہ شخص جس (کے دل) میں قرآن مجید کا تھوڑا سا حصہ بھی نہیں وہ ویران گھر کی مانند ہے۔“ (مسند احمد، وجامع الترمذی)

 دل میں قرآن کریم تو اس شخص کے ہوگا جس نے اس کو یاد کیا ہوگا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشادفرمایا:”بے شک جنت کے درجات قرآن کی آیات کی تعدادکے برابر ہیں، پس حفاظِ قرآن میں سے جو جنت میں داخل ہوگا اور پورا قرآن پڑھے گا اس سے اوپر کوئی نہیں ہوگا۔“(بیہقی)

 ان قرآنی آیات اور احادیث کا مطالعہ پوری طرح واضح کرتا ہے کہ قرآن مجید کے قیامت تک کے لیے مکمل ضابطہ? حیات ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو آخری دن تک اصل صورت میں محفوظ رکھنے کا حکم فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اصل متن کو انسانی تحریف سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کے تحفظ کی ذمہ داری خود لی ہے۔

 جمہور علماءاہل سنت والجماعت کے نزدیک اتنا قرآن کریم حفظ کرنا جس سے نماز ادا ہوجائے، ہر مسلمان عاقل بالغ پر فرض ہے اور مکمل قرآن کریم حفظ کرنا فرضِ کفایہ اور باعثِ اجر وثواب ہے۔

 دنیا جانتی ہے کہ آج بھی حفاظتِ قرآن کا محفوظ ذریعہ حفظِ قرآن ہی ہے ۔قرآن کریم کی حفاظت سے مراد اس کے الفاظ اور معانی دونوں کی حفاظت ہے۔ کیونکہ آیت میں ”لَحَٰفِظُونَ“ مطلق لایا گیا ہے، جس سے اُصولِ عربیت کے مطابق حفاظت کا فردِ کامل مراد لیا جانا ضروری ہے اور حفاظتِ کاملہ وہی ہے جو لفظ اور معنی دونوں کو شامل ہو۔ اُمت میں تاقیامت ایسے حفاظِ قرآن پیدا ہوتے رہیں گے جو اس کے ہر حرف اور معنی کی حفاظت کرتے رہیں گے۔تفسیرِقرطبی میں امام قرطبیؒ نے اسی آیت کے تحت یحییٰ بن اکثم کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ خلیفہ مامون الرشید کے دربار میں بڑے بڑے فقہائ، علما اور ماہرین جمع ہوکر مختلف مسائل پر بحث کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایسی ہی ایک بحث چل رہی تھی کہ ایک نہایت ہی وجیہ اورخوبصورت شخص محفل میں شامل ہوا اور اس نے نہایت فصیح وبلیغ زبان اور عالمانہ انداز میں بحث میں حصہ لیا۔ اختتامِ مجلس پر خلیفہ مامون الرشید نے کہا کہ تم اسرائیلی ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں! خلیفہ مامون نے کہا: تم مسلمان ہوجاؤ تو ہم تمہاری بہت قدرومنزلت کریں گے، اس شخص نے کہا کہ میں اپنے آباءواجداد کا مذہب چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور چلا گیا۔ راوی کہتا ہے کہ ایک سال بعد وہ مسلمان ہوکر مجلس میں شامل ہوا اور فقہی بحث میں بھرپور اور احسن انداز سے حصہ لیا۔ جب مجلس برخاست ہوئی تو مامون الرشید نے اس سے دریافت کیا کہ کیا تم وہی شخص نہیں جو گزشتہ سال بھی یہاں آئے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں وہی شخص ہوں۔ خلیفہ نے پوچھا کہ تم نے اسلام کیسے قبول کرلیا؟ اس شخص نے جواب دیا کہ آپ کے پاس سے جانے کے بعد میں نے چاہا کہ میں مختلف مذاہب پر تحقیق کروں۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ میرا خط اچھا ہے، اس مقصد کے لیے میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ میں نے نہایت عمدہ خط میں تورات کے تین نسخے لکھے اور اس میں کہیں کہیں کمی زیادتی کردی۔ وہ نسخے میں نے کنیسہ میں پیش کیے تو انہوں نے مجھ سے خرید لیے، پھر میں نے بڑی خوش خط کتابت کے ساتھ انجیل کے تین نسخے تیار کیے اور ان میں کمی زیادتی کردی، وہ میں نے عیسائیوں کے سامنے پیش کیے، تو انہوں نے بھی مجھ سے خرید لیے۔ پھر میں نے قرآن کو بھی بہت اچھے خط میں تحریر کیا اور حسبِ معمول تین نسخے تیار کرکے ان میں بھی تحریف کردی۔ پھر جب میں نے ان نسخوں کو مسلمان کتب فروشوں کی خدمت میں پیش کیا تو انہوں نے ان کی تحقیق کی۔جب انہیں معلوم ہوا کہ ان نسخوں میں کمی زیادتی ہوئی ہے تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا۔ پھر یہ شخص کہنے لگا کہ جب انہوں نے یہ صورت حال دیکھی تو مجھے اس بات پر یقین آگیا کہ قرآن پاک ہی ایک واحد کتاب ہے جو ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے اور یہی اس کی صداقت کی دلیل ہے۔ اس پر میں نے اسلام قبول کرلیا۔ (تفسیر قرطبی)

 چونکہ قرآن کریم آخری کتاب ہے اور ہمیشہ کے لیے ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا اور ایسی حفاظت فرمائی کہ آج تک شرق وغرب میں اس کے لاکھوں حافظ موجود ہیں اور وہ تواتر کے ساتھ روئے زمین کے مسلمانوں کی زبانوں پر یکساں محفوظ ہے۔ ایک لفظ یا زبرزیر کا فرق نہیں۔ بفرضِ محال اگر قرآن کریم کے تمام مکتوبی اور مطبوعی نسخے روئے زمین سے معدوم ہوجائیں تب بھی قرآن کریم کا ایک جملہ اور ایک کلمہ بھی نہ ضائع ہوسکتا ہے اور نہ بدلا جاسکتا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com