مدارس والے میڈیا والوں کا سامنا کس طرح کریں؟

اظہارالحق بستوی

جب سے مدارس کے سروے کا قضیہ شروع ہوا ہے میڈیا والوں کو ایک نیا مسالہ ہاتھ لگ گیا ہے۔ جسے دیکھو وہ کبھی بھی اور کہیں بھی منھ اٹھاکر مدرسوں میں گھسا چلا آ رہاہے اور جو سامنے مل جا رہا ہے چاہے وہ طالب علم ہو، استاذ یا ذمے دار، ان سے اوٹ پٹانگ سوالات کر رہا ہے۔

یوپی تک چینل کی ٹیم نے چند دنوں پہلے ہمارے مدرسے میں بھی دستک دی اور ہمارے مہتمم جناب مولانا طارق شمسی صاحب سے اور ناچیز سے بھی انٹرویو لیا۔ کچھ ساتھیوں نے انٹرویو کے بارے میں جاننے کے بعد مجھ سے کہا کہ مدارس میں میڈیا والوں کے آنے پر کس طرح سوال وجواب کیا جائے اس موضوع پر تفصیل سے لکھوں۔ اسی پس منظر میں یہ تحریر معرض وجود میں آ رہی ہے۔

ذیل میں دس نکاتی فارمولا پیش خدمت ہے جس میں میڈیا کو جواب دینے کے طریقے کے ساتھ سروے کے سلسلے میں بھی کچھ اہم بات پیش کی گئی ہیں:۔

(1) کسی کا انٹرویو لینے کے لیے میڈیا والوں کی یہ ذمے داری بنتی ہے کہ وہ پہلے سے وقت لیں۔ چناں چہ اگر میڈیا والوں کی کال آئے اور وہ وقت مانگیں تو آپ اپنے حساب سے کوئی مناسب وقت دے دیں۔ یا اگر کوئی عذر ہو تو آپ انھیں سلیقے سے منع کردیں یا دوسرا کوئی وقت دے دیں۔ بلا وقت لیے اگر وہ آجائیں تو آپ ان کو منع بھی کرسکتے ہیں مگر اس صورت میں بھی اپنے اعتماد کا مظاہرہ کریں نہ کہ فرار کا۔ ان سے ان کے کیمرے پر کھل کر کہیں کہ آپ بلا وقت لیے ہوئے آئے ہیں اور یہ ہماری مصروفیت کا وقت ہے اس لیے ہم اس وقت انٹرویو نہیں دے سکتے۔ آپ وقت لے کر آئیں ہم آپ کے تمام سوالوں کا کھل کر جواب دیں گے۔

(2) یاد رکھیں کہ انٹرویو سے فرار بسا اوقات الٹا پڑ جاتا ہے اس لیے انٹرویو لینے کوئی بھی آئے اس کی آئی ڈی چیک کرلیں۔ اگر وہ واقعی رپورٹر ہے تو اس کو وقت دے دیں اور اس سے بات کریں۔ انسانی بل کہ اسلامی بنیادوں پر اس کو چائے ناشتہ ضرور کرائیں۔ یہیں سے وہ کافی حد تک ڈاؤن ہو جائے گا۔ اخلاقیات کا مظاہرہ بہت سے سنگ دلوں میں نرمی کے بیج بو دیتاہے۔

انٹرویو کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں کیوں کہ اس وقت وہ کبھی کبھی اور کہیں بھی آسکتے ہیں۔ انٹرویو کے ممکنہ سوالات پر غور کرکے جوابات ذہنی طور پر تیار رکھیں۔ ہر سوال کا سیدھا جواب دینے سے گریز کریں۔ منطقی اور استدلالی گفتگو کریں۔ سوالات کو اچھے سے سمجھیں اور اس سے متعلق بات کرنے میں کسی طرح کی کمزوری کا مظاہرہ نہ کریں۔ حکومت اور سرکار کے بارے میں صراحتاً منفی تبصرہ کرنے سے بالکلیہ گریز کریں ورنہ اس سے میڈیا کو کچھ نیا شوشہ بھی مل سکتا ہے نیز آپ پر کارروائی ہو سکتی ہے۔ ہنس اور مسکرا کر جواب دیں۔ چہرے پر بشاشت رکھیں۔ مستقبل کے لیے لوکل میڈیا یونٹ سے بہتر تعلقات بنا کر چلیں۔ اس کے بہت سے فائدے ہوتے ہیں اور وہ عموماً آپ کے حساب کا انٹرویو کرتے ہیں بل کہ آپ جیسا اور جو بولیں وہ سنتے اورجھیلتے ہیں۔

(3) میڈیا والوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ڈائریکٹ کسی کلاس میں گھس جائیں۔چناں چہ اگر وہ ڈائرکٹ کسی کلاس میں پہنچ جائیں تو آپ یا استاذ انھیں کلاس سے فوری طور پر نکال دیں؛ کیوں کہ کسی بھی باہر کے شخص کو قانوناً یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ درسگاہ میں جاری کلاس کے اندر آکر ڈسٹرب کرے۔اسی طرح ملکی حقوق اطفال کے اعتبار سے بھی بچوں کے والدین کی منظوری کے بغیر ان کی ویڈیو یا فوٹو بنانا اور شیر کرنا قانوناً جرم ہے۔لہذا آپ میڈیا والوں کو درسگاہ میں گھسنے نہ دیں۔ اور اگر گھس جائیں تو بچے اور اساتذہ بغیر ہنگامہ کئے ان کو نکالنے کی کوشش کریں پھر بھی نہ مانیں تو سب خاموشی اختیار کریں۔ مناسب سمجھیں تو اس کے خلاف کرنے پر ایف آئی آر بھی درج کرائیں کہ آپ کی اجازت کے بغیر وہ درس گاہ میں گھس گئے۔ دس جولائی کو شائع شدہ ایک گورنمنٹ آرڈر میں اس طرح کی بات لکھی ہوئی ہے۔

(4) اپنے طلبہ اور اساتذہ کوسمجھا دیں کہ وہ میڈیا والوں سے بات نہ کریں۔ بل کہ اگر میڈیا والے آپ کی غیر موجودگی میں ادارے کے اندر آجائیں اور طلبہ سے سوالات کرنے لگیں تو طلبہ ہر گز ان کی کسی بات کا جواب نہ دیں بل کہ وہ کہہ دیں کہ مہتمم صاحب/پرنسپل صاحب/ ناظم صاحب ابھی موجود نہیں ہیں آپ ان سے وقت لے کر بات کریں۔ ہر طالب علم کو یہ جملہ رٹا دیں کہ ” آپ مہتمم صاحب سے بات کریں۔ وہ ہزار کوشش کریں گے کہ طلبہ و اساتذہ سے کچھ سوالات کرلیں اور طلبہ و اساتذہ کچھ جوابات دے دیں مثلاً یہی کہ بیٹا! بھارت کا صدر جمہوریہ کون ہے؟ یوپی کا وزیر اعلی/گورنر کون ہے؟ آپ کو کھانے میں کیا ملتا ہے وغیرہ مگر طلبہ ہر سوال کے جواب میں صرف یہی کہیں کہ: آپ مہتمم/پرنسپل صاحب سے بات کریں۔ طلبہ و اساتذہ صاف لفظوں میں مکمل اعتماد کے ساتھ منع کردیں۔ نہ بھاگیں، نہ چُھپیں، نہ ڈریں اور نہ دبیں۔

 (5) ہوسکے تو مدرسے کے کسی صاحب لسان کو اپنے مدرسے کا ترجمان نامزد کردیں جو میڈیا والوں سے بات کرے اور وہ ذہنی طور پر کچھ متعین جوابات کے ساتھ تیار رہے۔ ترجمان کو سمجھنے کے بقدر ہندی بھی آنی چاہیے۔ سوالات کچھ بھی کیے جائیں مگر جوابات متعین ہوں۔ ان کے علاوہ امور پر کوئی جواب نہ دیں۔ غیر متعلق امور پر بھی لب کشائی سے احتیاط کریں۔

بات کرنا جس طرح ایک آزاد ہندوستانی ہونے کے ناطے ہمارا حق ہے اسی طرح بات نہ کرنا اور کسی کا جواب نہ دینا بھی ایک حق ہے. لہذا جو جواب تیار نہ ہو یا جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو وہاں غلط جواب نہ دے کر “نو کمنٹس” بول کر سوال کو وہیں ختم کر دیں۔ جو کچھ بھی بات کریں اس کو کسی کے ذریعہ اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کروا کر رکھیں جس میں وہ رپورٹر اور اس کے ساتھ والے لوگ بھی کمیرہ فریم میں شامل رہیں۔

(6) جواب دیتے ہوئے سرکاری پرائمری اسکولوں وغیرہ کی حالت زار پر ضرور انھیں کھینچ کر لائیں۔ جن مدارس نے سرکار سے منظوری لے رکھی ہے ان کی حالت پر گفتگو کریں اور ان کے آدھنک (انگلش ریاضی سائنس) کے اساتذہ کے ساتھ ہو رہے غیر منصفانہ رویے پر بھی گفتگو کریں۔ ان سے پوچھیں کہ سرکار ان تین چار فیصد مسلم بچوں کی فکر اتنی زیادہ کیوں کر رہی ہے جو مدرسوں میں ہیں جب کہ مسلمان بچوں کا اچھا خاصہ طبقہ بالکل ناخواندہ ہے۔ ان سے نہ پڑھنے والے مسلم بچوں کا تناسب پوچھیں اور یہ بھی کہ ان کے لیے سرکار کیا کر رہی ہے اور کیا نہیں اور کیوں نہیں کر رہی ہے۔ سرکار کی طرف سے پوچھی گئی تفصیلات کے جوابات میڈیا والوں کو دینے سے گریز کریں بل کہ کہیں بھی کہ ہم آپ کو ان چیزوں پر جواب نہیں دے سکتے۔ آپ سرکار تھوڑی نا ہیں!

(7) سروے کے تعلق سے یوپی حکومت کا حکم نامہ آ چکا ہے۔ الحمد للہ اکثر مدارس تدیّن اور شفافیت کے ساتھ چلتے ہیں، نیز ایل آئی یو (لوکل انٹیلیجنس یونٹ) کے واسطے سے سرکار کو بھی سب پتہ رہتا ہے اس لیے انھیں اس حوالے سے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس سروے سے سرکار کی نیت کیا ہے اسے ارباب حل و عقد خوب سمجھ رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اپنے مکمل بچاؤ کے ساتھ صاف ستھرا ریکارڈ دیں جس سے متعلق مستقبل میں کوئی پریشانی کا امکان نہ رہے۔ اہل مدارس لوکل ارباب اختیار کو اعتماد میں لے کر قدم بڑھائیں تو کافی آسانی ہوگی۔

(8) اس موضوع پر اکابر علما اپنا خاکہ و پلان تیار کر رہے ہیں ضرورت ہے کہ ان کے قدم سے قدم ملا کر چلا جائے اور ان کی آواز پر لبیک کہا جائے۔ وہ جس بات کو طے کردیں اس کو من وعن مانا جائے کہ اسی میں ان شاء اللہ خیر پوشیدہ ہے۔

(9) سوال نامے میں نصاب تعلیم اور ذریعہ آمدنی والا خانہ بڑا اہم ہے۔ اس پر ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعدجواب دیا جائے۔ سوال نمبر دس اور گیارہ بھی بڑی باریکی سے بُنے گئے ہیں۔ ان پر بھی قانونی صلاح و مشاورت کے بعد جواب دیں۔

(10) دستور کی دفعہ 29 اور 30 کی رو سے مسلمانوں کا اپنے ادارے چلانا قانونی طور پر بالکل درست ہے اس لیے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ دو تین پرسنٹ کو دینیات میں ماہر بنانا ملّی تقاضا ہے ورنہ ہم مسلمانوں کو امام، مؤذن ، دینیات کے مدرس کہاں سے دے پائیں گے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ملک کے آر ٹی ای (رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ: حق تعلیم قانون) کے تحت بچوں کو بنیادی انگریزی حساب و غیرہ کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے اس لیے اس تعلیم کے لیے اپنے یہاں کچھ گنجائش پیدا کرنی ہوگی۔ اس سلسلے میں بھی غور خوض کرکے جواب دیں۔

دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ امت پر آیا ہوا یہ وقت بڑا سنگین ہے اس لیے مسلمانوں کو اپنے رب سے رشتہ استوار سے استوار تر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے اپنی تنہائیوں میں اپنے رب کے سامنے مدارس کے بقا کے لیے آنسو بہانے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ مدارس دینیہ نہ رہے تو ارتداد کے عمومی سیلاب میں سب کچھ بہہ کر صرف جھاگ چھوڑ جائے گا۔ اس لیے خوب دعائیں کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ساتھ دلوں کو مضبوط کرکے مدارس کی بقاء کے لیے تن من دھن کی بازی لگانے کی بھی ضرورت ہے۔

اللہ تعالی ہمارا حامی وناصر ہو۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com