فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ

علیزے نجف
آلودگی کسی بھی طرح کی ہو یہ انسانی زندگی اور اس کی صحت کے لئے مضر ہے اس سے انسان کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے آلودگی کی بہت ساری قسمیں ہیں انھیں میں سے ایک فضائی آلودگی بھی ہے فضائی آلودگی کو صحت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ کیوں کہ ہر انسان انھیں فضاؤں میں سانس لینے پہ مجبور ہوتا ہے سانس ہر وقت جاری رہنے والا عمل ہے اور اس پہ ہی انسانی بقا کا انحصار ہے۔ ماہرین انسانی صحت پر فضائی آلودگی کے مخصوص ذرات کے اثرات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔ فضائی آلودگی کو تیزی سے رپورٹ کیا جا رہا ہے کہ اگر ہمیں لاکھوں لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچانے سے روکنا ہے تو ہمیں اسے بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی جس نے 1960 کی دہائی اور اس سے پہلے کی ‘مٹر سوپر’ دھند کا تجربہ کیا ہو اسے اس موضوع سے تھوڑا سا تعارف کی ضرورت ہے، لیکن برطانیہ میں 1956، 1963 اور 1993 کے کلین ایئر ایکٹس نے اس کو حل کیا ہے آخر کار ہمیں وہ خوفناک موسمی حالات اب نظر نہیں آتے۔
لیکن اب جب کہ ہم کوئلہ زیادہ نہیں جلاتے وہ چمنیاں جو کالا دھواں اُٹھ رہی ہیں وہ ماضی کی بات ہے‎ اس کے باوجود بھی فضائی آلودگی ایک بڑے مسئلے کی صورت سامنے ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ 50 کی دہائی کے مقابلے اب حالات بہت بہتر ہیں لیکن ہم اب بھی فضائی آلودگی کے مسئلے کو ختم کرنے سے بہت دور ہیں۔ ‎موٹر کار اور ڈیزل سامان کی نقل و حمل ایک اہم عنصر ہے۔‎ اور خارج ہونے والی نقصان دہ گیسیں بہت کم واضح ہوتی ہیں اس لیے پوشیدہ رہتی ہیں۔
فضائی آلودگی ان دنوں ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ ہماری صحت پر بھی بہت سے منفی اثرات مرتب کرتی ہے جس کی وجہ سے سانس اور دل کے امراض میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے فضائی آلودگی انسانی صحت کو متعدد طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے۔
ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق، وسط سے طویل مدت میں دنیا کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے، وہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ فضائی آلودگی اس سنگین مسئلہ کا ایک حصہ ہے اور یہ روئے زمین پر رہنے والے انسانوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
فضائی آلودگی کا بنیادی اثر پھیپھڑوں پر دیکھا جا سکتا ہے۔ فضائی آلودگی کی ہی وجہ سے سانس کی نالی میں خارشیں ہوتی ہیں اور انسان کے مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتی ہیں۔ اگر کوئی پہلے سے ہی مخصوص مادوں سے حساس یا الرجک ہے تو فضائی آلودگی اس حالت کی علامات کو بڑھا سکتی ہے۔‎ فضائی آلودگی سے صحت مند لوگوں کے متاثر ہونے کے بھی امکانات ہوتے ہیں ایک مدت تک آلودہ فضا میں سانس لینے سے صحتمند انسان کو کئی طرح کے امراض میں مبتلا کر دیتا ہے اس سے سانس کی دائمی بیماریوں جیسے ایمفیسیما، دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری، دمہ وغیرہ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ‎
فضائی آلودگی کے قلیل مدتی اثرات میں کھانسی، چھینکیں، آنکھوں، ناک، جلد کی جلن وغیرہ شامل ہیں۔ ہوا میں موجود آلودگی سر میں درد یا چکر کا باعث بھی بن سکتی ہے جو کہ تیز دھوپ میں بڑھ سکتی ہے۔ آپ کو قلیل مدتی بیماریاں ہو سکتی ہیں جیسے برونکائٹس یا نمونیا۔ بچے، بزرگ اور کم قوت مدافعت والے افراد اس کے علاوہ آؤٹ ڈور ورکرز، حاملہ خواتین اور پہلے سے نظام تنفس اور امراض قلب کے شکار افراد زیادہ خطرے میں ہیں۔ متاثرین کا یہ ایک بڑا تناسب ہے جس کو قطعاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مجموعی طور پہ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اس وقت فضائی آلودگی انسانی زندگی کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے اس کی وجہ سے نظام صحت متاثر ہوتا ہے جس کے علاج و معالجہ کے لئے ہر انسان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خرچ ہو جاتا ہے اس کے علاوہ یہ یہ انسانی زندگی کے دورانیے کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ہوا میں ہر وہ ذرہ جو انسانی صحت کو متاثر کرسکتا ہے یا ماحول پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے اسے فضائی آلودگی قرار دیا گیا ہے۔ذراتی آلودگی ، کار بن مونوآکسائیڈ ، سلفر ڈائی آکسائیڈ ، نائٹروجن آکسائیڈ ، اور سیسہ وہ اہم فضائی آلودگی کے عناصر ہیں جو انسانی صحت کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ماحولیاتی نظام کو بھی اوران سے مختلف قسم کے کینسر سمیت متعدد بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ‎

ذراتی آلودگی فضائی آلودگی کا بڑا حصہ ہے، ایک عام سی تعریف میں وہ ہوا میں پائے جانے والے ذرات کا مرکب ہیں۔ ذراتی آلودگی زیادہ تر پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کے آغاز اور بڑھنے سے براہ راست وابستہ ہے، چھوٹے سائز کے ذرات تنفس کے نچلے حصے تک پہنچ جاتے ہیں اور اس طرح پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا باعث بننے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔
ہندوستان میں فضائی آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے سوئزر لینڈ کی ایئر کوالٹی ٹکنالوجی کمپنی آئی کیو ایئر کی 2019 میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی سے 30 سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں سے21 شہر ہندوستان کے تھے ان شہروں میں دہلی سرفہرست ہے دیوالی کے آتے ہی آلودگی میں واضح اضافے کو نوٹ کیا گیا ہے اس لئے اس بار پہلے سے ہی بہت سے احتیاطی اقدامات اٹھائے گئے جس کے تحت پٹاخوں اور پرالی وغیرہ پہ پابندی عائد کر دی گئی اس کے باوجود بھی اس میں خاطر خواہ کمی واقع نہیں ہو سکی فضائی آلودگی میں 51 فیصد انڈسٹریل پولوشن 27 فیصد گاڑیوں اور 17 فیصد پرالی اور 5 فیصد دوسری متفرقات شامل ہیں
اب ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حتمی حل کیا ہے فضائی آلودگی سے حفاظت کے حوالے سے کالج آف لندن کے ماحولیاتی صحت کے پروفیسر فرینک کیلی کا کہنا ہے، ’’اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماسک پہن کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آلودہ فضا میں سانس لینے کے لیے تیار ہیں جبکہ ہمیں آلودگی ختم کرنے کے لیے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے‘‘۔ بےشک یہ پہلو قابل غور ہیں کیوں کہ مسائل سے نظریں چرا کر یا اس کا عارضی حل تلاش کر کے آپ مسائل کو شکست نہیں دے سکتے ماسک بھی ایک عارضی حل ہے فضائی آلودگی کے بڑھ جانے کی وجہ سے اکثر جگہوں پہ لوگ اپنے گھروں میں بھی ماسک لگاتے ہیں کھڑکیوں کو بند رکھتے ہیں لیکن زیادہ مدت تک ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کیوں کہ تازہ ہوا انسان کے لئے ضروری ہے۔
برٹش یونیورسٹی آف ایسیکس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق کسی بھی سرسبز و شاداب ماحول میں ورزش کرنا یا وقت گزارنا انسان کی ذہنی صحت بہتر بناتاہے اور خود اعتمادی میں اضافہ کرتا ہے۔ اگرچہ درختوں کی موجودگی اور فضائی آلودگی میں کمی سے متعلق تحقیقات کا سلسلہ جاری ہےلیکن پارک میں گزارے گئے فراغت کے لمحات آپ کو فضائی آلودگی سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
صرف ٹیکنالوجی آلودگی کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ہمیں اپنی عادات کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ آلودگی کو کم کرنے کے لیے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ لیں ، چلیں ، یا موٹر سائیکل پر سوار ہوں۔ بجلی ، پانی اور پلاسٹک کا استعمال کم کریں۔
فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ تمام ممالک متحد ہو کے اس کے سدباب کی کوشش کریں اور ان تمام چیزوں کا متبادل لانے کی کوشش کریں جو فضائی آلودگی کا انڈیکس بڑھانے کی اہم وجہ ہیں اور اس کے ساتھ افراد کو بھی اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے انفرادی سطح پہ وہ ہر اس چیز سے بچنے کی کوشش کریں جو فضائی آلودگی پیدا کرنے کی وجہ بن رہی ہیں کیوں کہ ایسا کرنے میں سب کی بھلائی ہے۔ اگر ایک طرف حکومت اس مسئلے پہ قابو پانے کی کوشش کر رہی ہو اور عوام اپنی سابقہ طرز پہ ان سرگرمیوں سے باز نہیں آ رہے ہوں تو ایسے میں حکومتی کوششوں کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں پیدا کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ تمام انسانوں کا ہے اس لئے سب کے تعاون اور تعامل سے ہی اس کا حل ہونا ممکن ہے۔ کرہء ارض ہمارا مشترکہ گھر ہے انسانیت اور فطرت کے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے تمام انسانوں اور ممالک کو بھی مل کر کام کرنا چاہئے اور فطرت کی خوبصورتی اور اس کے توازن کے لئے تیزی کے ساتھ کام کرنا چاہئے انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی خاطر ہمیں اعلی معیار کی انسانی ترقی کا ایک نیا سفر شروع کرنا چاہئے عالمی پائیدار ترقی کے لئے انسان دوست تبدیلی کی طرف قدم بڑھایا جائے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com