اسلام کیوں سچا مذہب ہے؟

القاسمی وقار احمد خان

عرب خانہ بدوشوں کو آب وگیاہ گھاٹیوں میں جہالت، قحط سالی اور جنگ مارے ڈال رہی تھیں۔ اس پر بڑے سرداروں کا جبر وتشدد، امن کا فقدان اور غیر منصفانہ دولت کی تقسیم مستزاد تھی۔ ان سب سے زیادہ ناقابل برداشت مشکلات تھیں، جو انہیں حد سے بڑھے ہوئے سود، حرام خوری، ناپ تول کی کمی اور زمانہ کی اذیتوں سے برداشت کرنا پڑتی تھیں۔

اس بھیانک مادہ پرستی، تنگ دلی وتنگ ظرفی اور فاسد نظام کا اثر یہ ہوا کہ سلیم طبیعتیں از خود ایک ایسی شائستہ اور ترقی یافتہ زندگی کے لیے تیار ہوگئیں، جو ان کی موجودہ زندگی کے معیار سے اعلی وارفع ہو؛ لیکن ابن خلدون کے قول کے مطابق عرب: “درشتی وخودداری، بلند ہمتی اور سرداری وسیاست کے لیے باہمی کشمکش کی بناء پر بہت مشکل سے آپس میں ایک دوسرے کی ماتحتی قبول کرنے والی قوم تھی؛ ان کے اغراض ومقاصد میں اتحاد وہم آہنگی بہت کم ہوتی تھی۔ ان وجوہ کی بناء پر کوئی طاقت ان پر اقتدار کلی حاصل نہیں کرسکتی تھی، تا وقت یہ کہ وہ دینی رنگ میں رنگی ہوئی نہ ہو؛ وہ خواہ نبوت وولایت ہو یا کوئی دوسری دینی کشش”۔

اس وقت ظہور اسلام ان حالات کا ایک لازمہ نتیجہ اور اس زندگی کا ایک واضح رد عمل تھا۔ اس چیز کی وضاحت بخوبی قرآن کے دیے ہوئے نام سے ہوتی ہے۔ وہ دین کو “اسلام” اور اس سے پہلے زمانہ کو “جاہلیت” کہتا ہے؛ اس لیے کہ یہ نام دونوں زندگیوں اور ذہنیتوں کی ابتداء وانتہاء کے پورے فرق کو ظاہر کرتے ہیں۔

جہالت کے معنی ہیں: حماقت، نادانی، خودپسندی وتکبر، پچ اور عصبیت وحمیت اور انہیں عادتوں پر جاہلیت میں دارومدار تھا۔ اسلام کے معنی ہیں: سلامتی، صلح پسندی، رواداری اور خدا کی تابع داری؛ اور یہی خصلتیں اس مذہب کی روح رواں ہیں، جو کہتا ہے: وَعِبَادُ الرَّحۡمٰنِ الَّذِيۡنَ يَمۡشُوۡنَ عَلَى الۡاَرۡضِ هَوۡنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ۞ (الفرقان: ٦٣) “اور خدا کے بندے وہ ہیں، جو زمین پر وقار وطمانیت سے چلتے ہیں اور جب ان سے جاہل لوگ ہم کلام ہوتے ہیں، تو: وہ سیدھی صلح پسند بات کہتے ہیں”۔

بہادری، جرأت وجاں بازی، فضول کرچی اور بربادی تک پہنچا دینے والی سخاوت، قبیلہ کی بہی خواہی ووفاداری میں مر مٹنا، بدلہ لینے میں سنگ دلی، خویش واقارب میں سے کسی پر قولی یا عملی زیادتی کرنے والے سے انتقام لے کر چھوڑنا؛ یہی وہ اوصاف ہیں، جو زمانہ جاہلیت میں معیار فضیلت وبرتری تھے؛ لیکن اسلام نے بنی نوع انسان کے لیے، جو بلند اخلاقی معیار پیش کیا، اس کے اہم عناصر خدا کے سامنے جھکنا، گڑگڑانا، فروتنی، بے بسی اور عاجزی کا اظہار کرنا، اس کے احکام کی تابع داری کرنا، دولت سے اجتناب، فخر وغرور سے اجتناب اور صبر وشکر ہیں۔ خدا تعالی کا فرمان ہے: اِنَّ اَكۡرَمَكُمۡ عِنۡدَ اللّٰهِ اَ تۡقٰٮكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ خَبِيۡرٌ ۞ (الحجرات: ۱۳) “تم میں سب سے زیادہ باعزت اللہ کے نزدیک وہ ہے، جو تم سب سے زیادہ پرہیز گار ہے”۔

دین اسلام کی تعلیمات انتہائی سادہ، آسان اور فطرت کے عین مطابق ہے۔ اسلام نہ ہی تو اپنے پیروکاروں پر اس قدر سختی کا قائل ہے کہ ان کے لیے ہر چیز کو حرام قرار دے کر انہیں دنیاوی نعمتوں سے کنارہ کش ہونے کی ترغیب دے، جیسا کہ بعض صوفیا کا رجحان ہے اور نہ ہی ایسی آزادی کا علمبردار ہے کہ وہ ان کو تمام حدود وقیود سے عاری کردے کہ وہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں۔

اسلام مادر پدر آزاد معاشرہ ہرگز پسند نہیں کرتا اور نہ اس سنہرے دین میں ‘جنگل کا قانون’ روا ہے؛ بلکہ حلال وحرام، جائز وناجائز اور صحیح وغلط کی پہچان کے لیے کچھ قواعد و ضوابط مقرر ہیں، جو قرآن وحدیث کے دلائل سے بآسانی اخذ کیے جاسکتے ہیں؛ بشرط یہ کہ کتاب وسنت کو معیار بناکر کوشش کرنے والے علمائے ربانی موجود ہوں، تاکہ تعصب سے پاک اور ذاتی لالچ سے بالاتر رہنمائی میسر آسکے۔

اہل جاہلیت جن وجوہات میں گمراہی کا شکار ہوگئے تھے؛ ان میں سے ایک حلال وحرام کا بھی معاملہ تھا، جس میں وہ اس طرح الجھ گئے کہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال کربیٹھے۔ مشرکین اور اہل کتاب دونوں کا طرز عمل یکساں تھا؛ یہ گمراہی دونوں انتہاؤں پر تھی: ایک انتہا پر وہ، جس پر برہمنیت، مسیحی رہبانیت اور وہ مذہبیت تھی، جس کے نزدیک جسم کو اذیت دینا روا تھا اور جس نے اچھے رزق اور زینت کی چیزوں کو حرام کردیا تھا اور بعض راہبوں کے نزدیک تو پاؤں دھونا اور حمام میں داخل ہونا بھی باعث گناہ تھا۔ دوسری انتہا پر فارس کا مزدک مذہب تھا، جس نے مکمل اباحیت کا نعرہ بلند کیا؛ اس مذہب میں ہر چیز جائز تھی؛ یہاں تک کہ عزت وحرمت بھی، جس کو انسان فطرتا مقدس مانتا ہے۔

زمانہ جاہلیت میں عربوں نے حلت وحرمت کا بالکل غلط معیار قائم کر رکھا تھا؛ ان کے نزدیک شراب نوشی، سودخوری، عورتوں سے بدسلوکی اور قتل اولاد جیسے اعمال جائز تھے۔ انہوں نے قتل اولاد جیسے فعل کو خوشنما بنانے کے لیے کچھ باتیں گھڑ لی تھیں، جن کو وجہ جواز بنا کر پیش کرتے تھے، مثلا: فقر وفاقہ کا اندیشہ، لڑکی کی پیدائش کا باعث عار ہونا اور اپنے معبودوں کے تقرب کے لیے اولاد کو بھینٹ چڑھانا وغیرہ۔

عجیب بات ہے کہ ایک طرف انہوں نے اپنے جگر گوشوں کو قتل کرنا یا زندہ درگور کرنا بالکل جائز کرلیا تھا اور دوسری طرف انہوں نے کھیت اور چوپائے جیسی بہت سی پاکیزہ چیزیں اپنے اوپر حرام کرلیں تھیں اور طرفہ تماشا یہ کہ اس حلت وحرمت کو انہوں نے اللہ کی طرف منسوب کرکے دینی حیثیت دے دیا تھا؛ لیکن اللہ تعالی نے ان کی ان افترا پردازیوں کو یکسر باطل قرار دیا: وَقَالُوۡا هٰذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ‌ۖ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ بِزَعۡمِهِمۡ وَاَنۡعَامٌ حُرِّمَتۡ ظُهُوۡرُهَا وَاَنۡعَامٌ لَّا يَذۡكُرُوۡنَ اسۡمَ اللّٰهِ عَلَيۡهَا افۡتِرَآءً عَلَيۡهِ ‌ؕ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ۞ (الانعام: ۱۳۸) “وہ کہتے ہیں یہ چوپائے اور یہ کھیت ممنوع ہے، ان کو صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں، جنہیں اپنے زعم کے مطابق ہم کھلانا چاہیں اور کچھ چوپائے ایسے ہیں، جن کی پیٹھیں حرام کردی گئی ہیں اور کچھ چوپایوں پر وہ اللہ کا نام نہیں لیتے اس پر افترا کرتے ہوئے۔ اللہ عنقریب انہیں اس افتراپردازی کا بدلہ دے گا”۔

اسلام آیا، تو: گمراہی اور حلال وحرام کے معاملہ میں یہ بے راہ روی موجود تھی۔ اس نے اس کی اصلاح کی طرف توجہ کی اور پہلا قدم یہ اٹھایا کہ تشریع کے اصول مقرر کیے اور ان کو حلت وحرمت کی اساس بنایا، جس کے نتیجہ میں اعتدال وتوازن پیدا ہوا اور عدل کا صحیح معیار قائم ہوا۔ نیز اس کی بدولت امت مسلمہ گمراہی اور انحراف کی راہ اختیار کرنے والے “دائیں اور بائیں” گروہوں کے درمیان امت وسط (اعتدال پر قائم رہنے والی امت) قرار پائی، جسے اللہ تعالی نے خیر امت کے لقب سے نوازا۔ (مستدرک حاکم: ۱ / ۳۵، سلسلة الأحاديث الصحيحة: رقم الحديث: ٤٩٠. المعجم الصغير للطبراني: ١ / ٩٥، رقم الحديث: ٢٦٤)

alqasmiwaqar@gmail.com

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com