از سر نو تاریخ نویسی کا معاملہ

عبدالحمید نعمانی 

تاریخ ماضی کا ایسا بیانیہ اور رونما ہونے والے واقعات کو مستقبل کی طرف آنے کا عمل ہے جس پر حال کے افراد انسانی کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ہے، تاریخ میں صرف وہ نہیں ہوتا ہے جو ہمیں پسند اور محبوب و مرغوب ہو بلکہ وہ بھی ہوتا ہے جو ہمارے لیے اذیت ناک، ناپسندیدہ اور ناخوب ہے، وہ مٹھائی کا ڈبہ اور زہر کا پیالہ دونوں ہے، ہمارے ایک تعلق والے صاحب کتابیں پڑھنے کے لیے ہم سے لے جاتے تھے، خاص طور سے سفر پر جانے کے موقع پر، کہتے تھے کہ بھئی وہ کتاب دینا جس میں زوال اور اپنی شکست، تباہی کا ذکر نہ ہو، ہم نے کہا کہ نسیم حجازی کا جو ناول چاہیے اس میں بلکہ ان کے بیشتر ناولوں میں فتح و شکست اور عروج و زوال کی کہانی لکھی ہے، “اندھیری رات کے مسافر”اور تلوار ٹوٹ گئی”کے نام سے کیا نہیں لگتا ہے کہ بات کہاں سے شروع ہو کر کہاں پہنچی ہوگی اور کہانی کیا ہوگی، لیکن اندھیری رات کا مطلب بہت صاف ہے کہ پہلے روشن اور چمکتا دن ہوگا، ٹوٹی تلوار کا معنی ہے کہ پہلے تلوار صحیح سلامت، مضبوط، کاٹ دار اور خاص طرح کی ہوگی، تاریخ عموماً خاص قسم کی نمایاں چیزوں اور خواص کے ذکر کو اپنے دامن میں جگہ دیتی ہے ، جو تاریخ کا مطالعہ اور اس سے رشتہ قائم رکھنا اور کرنا چاہتا ہے اسے تیار رہنا چاہیے کہ اس کا سابقہ امرت اور زہر دونوں سے پڑے گا، تاریخ کے سمندر منتھن سے امرت اور وش (زہر ) دونوں نکلتے ہیں، یہ تو مقدر کی بات ہے کہ کس کے حصے میں کیا آتا ہے، بات اصل میں یہ ہے کہ آدرش وادی، سماج کو زہر سے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے بسا اوقات خود وش پان (زہر پی ) کر کے نیل کنٹھ بن جاتے ہیں، حالاں کہ زہر نکالنے میں راکشسوں کی بھی حصہ داری ہوتی ہے، لیکن وہ صرف امرت پانے کے چکر میں رہتے ہیں، یہی کچھ حال ہندوتو وادی عناصر کا بھی ہے، وہ بہت دنوں سے از سر نو اپنے حساب سے تاریخ لکھنے لکھانے کے منتر کا جاپ کرتے آ رہے ہیں، لیکن ان کو یہ زیادہ معلوم نہیں ہے کہ تاریخ کیا ہے اور تاریخ نویسی کے مسائل و تقاضے کیا ہیں؟ اپنے من کی باتیں، تاریخ کا درجہ نہیں پا سکتی ہیں، تاریخ میں کہیں کہیں کہانی بھی شامل ہو جاتی ہے لیکن اپنی اپنی کہانیاں تاریخ نہیں بن سکتی ہیں، تاریخ نگاری اور تاریخ سازی میں کھلا فرق ہوتا ہے ،جیسا کہ تاریخ بنانے اور تاریخ گھڑنے میں واضح فرق ہوتا ہے، اگر آر ایس ایس اور گرو گولولکر نے ملک کی تحریک آزادی میں حصہ نہیں لیا تو اسے تاریخ تحریک آزادی کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے، ؟ساورکر نے جیل میں رہتے ہوئے برطانوی حکومت سے آدھے درجن سے زائد بار معافی مانگتے کے ساتھ اس کا نوکر بن کر کام کرنے کی یقین دہانی کرائی تو اسے شجاعت و آزادی کی تحریک و تاریخ کے باب کے تحت کیوں کر درج کیا جا سکتا ہے؟ وزیر داخلہ کو ملک کے مورخین سے شکایت ہے کہ انہوں نے چولوں اور پانڈیوں کی شاندار، قابل فخر سلطنتوں کو بالکل نظر انداز کر صرف مغلیہ سلطنت پر توجہ مرکوز رکھی، اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ تاریخ کو واقعی شکل میں پیش کیا جائے، انھوں نے کئی ساری سلطنتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان پر مرکوز تاریخ کی کتابیں نہیں لکھی گئی ہیں، حالاں کہ ایسا نہیں ہے، آسام کے اہوم حکمرانوں اور راجاؤں سے بختیار خلجی اور اورنگزیب سے مقابلے کا ذکر بذات خود ترک، افغان اور مغل تواریخ میں خاصی تفصیل سے ملتا ہے، وزیر داخلہ امت ساہ (شاہ صحیح نہیں ہے ) کا یہ کہنا کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتا ہے ہے کہ ہمیں از سر نو تاریخ نویسی سے کوئی روک نہیں سکتا ہے ،تاریخ نویسی سے نہ پہلے روکا گیا تھا اور نہ آج کوئی روک رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ہندوتو وادی سماج آج تک کوئی ایسا مورخ پیدا کیوں نہیں کر سکا کہ کم از کم اسے ملک کی سطح پر ہی سہی ،مورخ کے طور پر عمومی، خصوصی اعتبار حاصل ہوتا، پی این اوک جیسے تک بندی کرنے والے ہی نمودار ہوتے رہے ہیں جو چاول کی لمبائی سے دنیا کے گول ہونے کا اثبات و استدلال کرتے ہیں، تاج محل میں قبر کی سیدھ میں سوراخ ہونے سے وہ تیجو محالیہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے، تاریخی چیز کا ثبوت تو تاریخ سے ہی ہو سکتا ہے، تک بندی سے نہیں، لکھنؤ کا امام باڑہ، اناڑی پن سے ہندو تاریخی یاد گار کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟ایسی حالت میں سپریم کورٹ کو پھٹکار لگاتے ہوئے متوجہ کرنا پڑتا ہے کہ جاؤ تاریخ کا مطالعہ کرو، بھارت میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو دل و دماغ سے سوچتے ہیں اور نہ اپنی زبان میں سوچتے ہیں، برٹش سامراج کی طرف سے تاریخ کے نام پر مکروہ مقاصد سے لکھی تاریخ کے بوجھ کو اپنے دوش ناتواں پر ڈھو رہے ہیں، غیر کی زبان میں عموما نقال پیدا ہوتے ہیں نہ کہ صحیح مورخ اور حقیقت نگار- صحیح تاریخ نویسی تو ہمیشہ سے قابل خیر مقدم عمل رہا ہے، لیکن تاریخ کا قتل، تاریخ لکھنا نہیں ہے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ دونوں نے بھارتیہ سنسکرتی کے تناظر میں از سر نو تاریخ نویسی کی ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے لیکن کوئی بھی سابق و موجودہ مورخ نہیں، ان کو واضح طور سے نشاندہی کرنی چاہیے کہ کیا کچھ لکھنے سے رہ گیا اور کہاں غلط لکھا ہے کہ اسے صحیح کرنے کی ضرورت ہے، یقینی طور سے پہلے بھی بہت سی باتوں کو بہت سے تاریخ نویسوں نے صحیح تناظر و پس منظر کے ساتھ نہیں لکھا ہے، لیکن ان کا تعلق کس سے اور کہاں سے ہے، آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد بھی کئی ساری مفروضہ باتوں کو خصوصا درسی کتابوں میں شامل کر کے اکثریت میں تصوراتی شجاعت و فخر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، کچھ عرصہ پہلے معروف خدا بخش لائبریری پٹنہ نے تاریخ سے کھلواڑ کے عنوان سے ایک سیمینار کرایا تھا جس میں کئی اہل علم و تاریخ نے گمراہ کن اور نفرت انگیز فرقہ وارانہ تاریخ نویسی کی طرف متوجہ کراتے ہوئے مختلف قسم کی اصلاحات پر مبنی تجاویز اور صحیح تاریخ نویسی کے طریقوں کو پیش کیا تھا، ماضی میں ہو چکے واقعات کو آج کے بھارت میں فرقہ وارانہ رنگ میں پیش کرنے کا کوئی جواز ہے اور نہ ضرورت، اکبر کے مقابلے میں مہا رانا پر تاپ سنگھ اور اورنگزیب کے مقابلے میں شیوا جی کو آج فاتح بنا کر پیش کرنے سے تاریخی حقیقت بدل نہیں سکتی ہے، مفروضہ تاریخ میں اس کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے کہ اورنگزیب نے شیوا جی سے سارے قلعے واپس لے لیے تھے اور مراٹھوں کومغلوب کر کے بہ قول علامہ شبلی اڑتے بگولوں میں بدل دیا تھا، شیوا جی کی، اورنگزیب سے کم عمر ہونے کے باوجود مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو کر بہت پہلے وفات ہو گئی تھی اور اورنگزیب نے تقریبا 27/سال بعد تک بلا شرکت غیر پورے کروفر کے ساتھ حکومت کی، اس کا دائیں بازو کے مورخین ذکر نہیں کرتے ہیں ،وہ اپنے نظریے کے مطابق بھارت کی جس تہذیب(سنسکرتی )اور راشٹر واد کا بڑے زور شور کے ساتھ چرچا کرتے ہیں اس کی تاریخ کہاں ہے جسے ماضی سے حال کی طرف لا کر از سر نو تاریخ نویسی کا بہتر آغاز کیا سکے، ؟اگر مہا رانا پر تاپ سنگھ اکبر کے مقابلے میں فاتح ہوئے تھے تو میواڑ کی تاریخ اکبر کے مطابق کس طرح بنی؟ اگر مہا رانا پر تاپ فاتح بھی ثابت ہو جائے تو اس کا فرقہ وارانہ تاریخ سے کیا تعلق ہو سکتا ہے، ؟مہا رانا پرتاپ اور شیوا جی کی وہ شبیہ بالکل نہیں ہے جو بتانے دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ حکمرانوں کی تاریخ ہے نہ کہ ہندو مسلم کے حوالے سے اسلام اور ہندو دھرم کے محافظ کی تاریخ، ہندو حکمراں کے سپہ سالار مسلم اور مسلم حکمراں کے سپہ سالار ہندو ہوتے تھے، دونوں کی فوجوں میں ہندو مسلم دونوں ہوتے تھے ،یہ ہندوتو وادی مورخین کے حق میں نہیں ہے، پانسرے کو قتل کرنے کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب شیوا جی میں شیوا جی کو ہندوتو وادی نظریے کے بر عکس اصل روپ میں پیش کیا ہے، تاریخ کی گڑ بڑیوں کو درست کرنا، یقینی طور پر ایک ضروری عمل ہے لیکن اس کا آغاز کیسے اور کہاں سے کیا جائے؟یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال اور مشکل اور محنت طلب کام ہے، یہ صرف از سر نو تاریخ نویسی کے نعرے سے پایہ تکمیل تک کیسے پہنچ سکے گا؟

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com