بابری مسجد اور میں

معصوم مرادآبادی 

یکم فروری 1987 کو جب میں نے بابری مسجد میں داخل ہوکر وہاں کے حالات کا جائزہ لیا تو ایک مسلمان کے طور پر مجھے اپنے جذبات پر قابو پانے میں بڑی دشواری پیش آئی۔ مسجد کے منبر پر مورتیوں کی پوجا اور بابری مسجد کے اندر سادھوؤں کا ہجوم دیکھ کر میں دنگ رہ گیا۔ کچھ ہی دیر میں مجھے یاد آیا کہ میں یہاں ایک اخبارنویس کے طور پر بھیس بدل کر داخل ہوا ہوں اور میرا بنیادی کام بابری مسجد کے اندرونی حالات کا جائزہ لینا ہے۔

 یہ اُن دنوں کی بات ہے جب بابری مسجد میں داخل ہونا کسی بھی مسلمان کے لیے ایک جوکھم بھرا کام تھا کیونکہ 1949 کے ایک ایگزیکیوٹو آرڈر کے مطابق مسجد اور اُس کے آس پاس پانچ سو میٹر تک کسی بھی مسلمان کو وہاں پھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔ حالات بہت کشیدہ تھے اور فرقہ پرستی اپنے عروج پر تھی۔ آج جب میں سوچتا ہوں کہ تمام تر خطرات کے باوجود میں نے بابری مسجد میں داخل ہونے کا جوکھم کیوں اٹھایا، تو میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگتے ہیں۔

بابری مسجد بظاہر اینٹ اور گارے سے بنی ہوئی ایک بوسیدہ عمارت تھی جس کی تعمیر کو پانچ سو برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ ایک بوسیدہ اور صدیوں پرانی عمارت کسی سیاسی جماعت کے لیے اقتدار کے حصول کا ذریعہ بھی ہوسکتی ہے، یہ سوچتے ہوئے کچھ پریشانی ضرور ہوتی ہے۔ لیکن اس تنازعہ سے فرقہ پرست اور فسطائی طاقتوں کو جو توانائی حاصل ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں وہ آج ملک کے اقتدار پر پوری طرح قابض ہیں۔ بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت سے مسلمان جن صدمات سے دوچار ہوئے انہیں لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ صدمات صرف جذباتی اور ذہنی ہی نہیں تھے بلکہ بابری مسجد پر غاصبانہ قبضے اور اس کی ظالمانہ شہادت کے بعد ملک میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں ہزاروں مسلمانوں نے اپنی قیمتی جانیں قربان کیں۔ خود میں نے ایسے درجنوں فساد زدہ علاقوں کا دَورہ کیا جہاں ظلم و ستم کی دلخراش داستانیں رقم کی گئی تھیں۔ یہ سلسلہ بارہ بنکی، میرٹھ اور ملیانہ سے شروع ہوا تھا جو ممبئی اور بھوپال تک دراز ہوتا چلاگیا۔

وشوہندو پریشد اور آرایس ایس کی دیگر تنظیموں کا دعویٰ تھا کہ وہ محض مندر کو توڑ کر بنائی گئی بابری مسجد پر دوبارہ رام مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ رام چندر جی ان کے لیے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بابری مسجد کو رام مندر میں بدلنے کی تحریک مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مٹانے اور انہیں دوئم درجے کا شہری بنانے کی ایک خطرناک تحریک تھی جس کی تیاری بہت سوچ سمجھ کر کی گئی تھی۔

اگر آپ کی یادداشت ساتھ دے رہی ہو تو یاد کیجیے کہ 1989 میں سومناتھ سے ایودھیا تک نکالی گئی لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا میں کیا نعرے لگے تھے۔ یقینا وہ انتہائی خطرناک اور دلوں کو دہلا دینے والے نعرے تھے۔ بی جے پی کی حمایت سے اقتدار تک پہنچنے والے وزیراعظم وی پی سنگھ کی مہربانی سے اڈوانی کی رتھ یاترا کو سرکاری ٹی وی چینل دوردرشن پر براہ راست دکھایا جارہا تھا۔ اس سے مسلمانوں میں جو خوف و ہراس پھیل گیا تھا، اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

آج اس ملک میں مسلمان اپنے وجود کی جو جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اپنی وطن پرستی ثابت کرنے کے لیے جو پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں، اس کی بنیاد دراصل رام جنم بھومی مکتی آندولن کے دوران ہی ڈالی گئی تھی۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اُس وقت جن لوگوں کے ہاتھوں میں اقتدار تھا اور جو اس انتہائی خطرناک اور سازشی تحریک کو روکنے کی طاقت رکھتے تھے، انہوں نے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھانے کی بجائے خود بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ترجیح دی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ جسے بہتی گنگا سمجھ رہے تھے، وہ دراصل آگ کا ایک خوفناک سمندر تھا جس نے ان کے اپنے سیاسی وجود کو جلاکر خاک کرڈالا۔ آج یہ لوگ اپنی سیاسی بنیادیں تلاش کرنے کے لیے زبردست جدوجہد کر رہے ہیں لیکن اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

مسلم قیادت پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف بابری مسجد کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی بلکہ ایک انتہائی مضبوط مقدمے کو بھی ہارگئی۔ یہ حقیقت ہے کہ بابری مسجد کا تالا کھول کر اس میں عام پوجا پاٹ کی اجازت کے واقعے نے پورے ملک میں مسلمانوں کے جذبات چھلنی کردیے تھے اور وہ زبردست تکلیف میں مبتلا تھے۔ یکم فروری 1986 کو بابری مسجد کا تالا کھلنے کے دن ہی بابری مسجد ایکشن کمیٹی وجود میں آگئی تھی۔ بابری مسجد کا تالا رام جنم بھومی مکتی تحریک کے دباؤ میں کھلا تھا جو 1984 سے چل رہی تھی اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی منافرانہ اور اشتعال انگیز نعروں سے لبریز تھی۔ تالا کھلنے کے بعد مسجد پر مکمل قبضہ کرکے اس کا وجود مٹانے اور یہاں رام مندر بنانے کی تحریک نے اچانک رفتار پکڑلی۔ مسلمان اپنے زخمی جذبات کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے۔ ان میں سے کچھ لوگ سرپر کفن بھی باندھے ہوئے تھے۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور بابری مسجد رابطہ کمیٹی کی تشکیل اور پھر ان دونوں میں زبردست اختلافات اس تحریک کا ایک اہم باب ہیں۔

6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کی ظالمانہ شہادت کے واقعے سے مسلمانوں کو زبردست دھچکا لگا۔ جن قائدین نے بابری مسجد کے تحفظ کی قسمیں کھائی تھیں، وہ سیکولر لیڈروں پر تکیہ کرکے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ مجھے یاد ہے کہ 6 دسمبر 1992 کی رات میں دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے اندر غم و غصے سے بھرے ہوئے فرزندان توحید کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ دہلی اور آس پاس کے شہروں کے لوگ یہاں آکر جمع ہوگئے تھے۔ چونکہ بابری مسجد بازیابی تحریک کے دوران دہلی میں شاہجہانی جامع مسجد ہی قائدین اور عام مسلمانوں کا مرکز ہوا کرتی تھی۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر شدید صدمہ پہنچا کہ زخمی جذبات کو لے کر جامع مسجد پہنچنے والے مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی مسلم قائد وہاں موجود نہیں تھا۔ بعض قائدین کے خلاف غصہ اتنا شدید تھا کہ اگر وہ سامنے ہوتے تو کوئی انہونی بھی ہوسکتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے ساتھ ہی مسلم قیادت بھی منہدم ہوگئی۔ بابری مسجد انہدام کے بعد قیادت کی ذمہ داری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سنبھالی اور وہی آخری وقت تک بابری مسجد کی قانونی لڑائی بھی لڑتا رہا۔ اس دوران بعض شہرت پسند قائدین سپریم کورٹ میں بابری مسجد کی سماعت کے دوران اپنی تصویروں کے ساتھ جو پریس ریلیزیں اور بیانات جاری کرتے تھے انہیں اخبارات کے صفحہ اول پر نمایاں انداز میں شائع کرانے کا کام خاص طور پر کیا جاتا تھا۔ انہی قائدین نے نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں پریس کانفرنس کرکے یہ اعلان کیا تھا کہ بابری مسجد مقدمے میں سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ صادر کرے گا، وہ انہیں منظور ہوگا۔  جب سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی اراضی عالیشان رام مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو سونپی تو یہی قائدین عدالت کے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس فیصلے کے خلاف داخل ہونے والی نظرثانی کی 19 عرضیاں سپریم کورٹ نے بغیر کسی سماعت کے خارج کردیں۔

  میں نے اپنی تقریباً 35 برسوں کی صحافتی زندگی میں جتنی رپورٹیں اور انٹرویوز بابری مسجد کے موضوع پر قلم بند کیے ہیں، اتنے کسی اور موضوع پر نہیں کیے۔ میں اس تحریک کا چشم دید گواہ ہوں اور بہت سی چیزیں میری یادداشت میں محفوظ ہیں۔

جس وقت میں یہ سطور قلم بند کر رہا ہوں تو بابری مسجد کے مقام پر ایک فلک بوس رام مندر بنانے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ رام مندر کے کارپردازوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ایودھیا میں دنیا کا سب سے عالیشان مندر بنانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے معاوضے کے طور پر سنی سنٹرل وقف بورڈ کو جو پانچ ایکڑ زمین الاٹ کی ہے اس پر کیسی مسجد تعمیر ہوگی اور اس میں کون سجدہ ریز ہوگا، مجھے نہیں معلوم۔ سرکاری صرفے پر تعمیر ہونے والی مسجد یقینا بابری مسجد کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ چونکہ بابری مسجد کے ساتھ مسلمانوں کے جو جذبات اور احساسات وابستہ تھے، اس کا متبادل صرف اور صرف بابری مسجد ہوسکتی تھی جس کا وجود مٹادیا گیا ہے۔

اس داستان میں کچھ ایسے کردار بھی تھے جنہوں نے سیکولر قبائیں پہن کر بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کا راستہ ہموار کیا۔ وہ لوگ سیکولرزم اور مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر آنکھوں میں دھول جھونکتے رہے۔ ان نام نہاد سیکولر قائدین کے علاوہ بابری مسجد بازیابی تحریک کی صفوں میں بھی ایسے لیڈران موجود تھے جو اس مسئلے پر سیاسی روٹیاں سینک رہے تھے اور انہیں ایک مظلوم عبادت گاہ کے مسئلے کو حل کرنے سے زیادہ اپنے حلقہ انتخاب کی فکر لاحق تھی۔ جب یہ معاملہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں آخری مراحل طے کر رہا تھا اور اسے بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کا ایک موقع دیا گیا تھا تو بابری مسجد کی سوداگری کے لیے کئی مسلمانوں نے خود کو طشتری میں سجاکر پیش کیا تھا۔ بابری مسجد بازیابی کی پوری تحریک کے دوران مسلمانوں کی صفوں میں موجود کالی بھیڑیں اپنا اُلو سیدھا کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ عدالتی فیصلے کے عواقب اور مضمرات کو سرد کرنے کے لیے جبہ و دستار والے کئی لوگ سرکاری درباروں میں ہاتھ باندھے کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں دیکھی داستانیں اور بھی ہیں لیکن میں یہاں ان زخموں کو کریدنا نہیں چاہتا جو خود اپنوں نے مسلمانوں کو دیے ہیں۔ تاریخ ایسے لوگوں کو معاف نہیں کرے  گی۔

یہ بیانیہ بہت زیادہ دل نشین اور دلچسپ تو نہیں ہے لیکن دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور مستقبل میں اپنے فیصلے زیادہ احتیاط اور دانش مندی کے ساتھ لینے کی تحریک ضرور دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تمام تاریخی دستاویزوں، شہادتوں اور ملکیت کے حقوق کے باوجود مسلمان بابری مسجدسے کیوں محروم ہوگئے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ہماری موجودہ قیادت کو ضرور دینا چاہیے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قیادت نے اس معاملے میں کبھی اپنا احتساب نہیں کیا۔ ظاہر ہے عدالت نے فیصلہ ثبوتوں اور حقائق کی بجائے اکثریتی فرقہ کے جذبات کو ملحوظ رکھ کر دیا اور اس میں انصاف سے زیادہ آستھا کی بو آتی ہے۔ اس بات کو قانون کے ماہرین اور سابق ججوں نے زیادہ سلیقے سے بیان کیا ہے۔

 اس وقت میری نظروں میں وہ لاکھوں بھولے بھالے چہرے گھوم رہے ہیں جو اپنی تمام تر سادہ لوحی کے ساتھ بابری مسجد کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھتے تھے۔ زندگی بنیادی طور پر پانے اور کھونے کا کھیل ہے لیکن جب آپ کو زندگی کے کسی مرحلے میں اپنے جذبات، محسوسات، ولولوں اور جوش و جذبے سے واسطہ پڑے تو اُس بابری مسجد کو ضرور یاد کیجیے گا، جسے وقت کے ظالم ہاتھوں نے آپ کے ہاتھوں سے چھین لیا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com