امیر شریعت سادسؒ نقوش و تاثرات ایک سوانحی اور تاریخی دستاویز

منصور عالم قاسمی ،ریاض سعودی عرب

اردو ادب کے اصناف میں ایک صنف ہے سوانح نگاری ،خاکہ نگاری یعنی کسی کے احوال و کوائف کو بایں طور قلمبند کرنا کہ اس کے ظاہر و باطن کا حقیقی خد و خال قارئین پرنمایاں ہو جائے؛واقعات ،مشاہدات اورتاثرات کی تصویر کشی اس طرح کرناکہ پڑھنے والے اس کو دیکھ رہے ہوں۔ٹھیک اس طرح جیسے گلاب کا ذکر آتے ہی ذہن کے اسکرین میں اس کی خوشبو ،رنگت اور نرم و نازک پنکھڑیاں ابھر آتی ہیں ،شعلے کا لفظ سنتے ہی اس کی حرات و تمازت دماغ محسوس کرنے لگتا ہے ۔اردو میں سوانح نگاری کی عمر بہت طویل نہیں ہے ،سیرت رسول ﷺ اور چند صحابۂ کرام کے علاوہ کوئی خاطر خواہ ذخیرہ نہیں ملتا ہے ،اس کی با ضابطہ ابتدأسر سید تحریک سے ہوئی جس کا مقصد بڑے بزرگوں کے کارنامے اور حالات زندگی سے دنیا کو روشناس کرانا تھا ۔ مولانا حالی ؒ نے حکیم ناصر خسرو ،مولانا عبدالرحمان جامی ،حیات سعدی ،یادگار غالب اور حیات جاوید جیسی سوانح لکھ کر اس صنف کو نمایاں مقا م دلایا اور آج سوانح نگاری کے ساتھ خود نوشت کی روایت کو جہاں بہت سارے اہل قلم نے اضافہ کیا ان میں ایک نام نامی نوجوان صحافی ،کالم نگار سوانح نگار عارف اقبال کا بھی ہے جس نے سب سے پہلے امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب ؒ کی سوانح عمری ’’باتیں میر کارواں کی ‘‘لکھی اور اب ’’امیر شریعت سادس:نقوش و تاثرات‘‘۔
عارف اقبال ابھی تعلیمی دور سے گزر رہے ہیں ،یہ عمر عموماًکھیلنے کودنے ،ناول پڑھنے ،فلم بینی اور سیر و سیاحت کی ہوتی ہے لیکن سنجیدہ ، خاموش طبع اور محنت کش اس نوجوان نے اس کچی عمر میں ہی دنیا کا دھیان اپنی طرف کھینچا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ،مقولہ ہے ’’پوت کے پاؤں پالنے میں دیکھے جاتے ہیں ‘‘او ر یہ مقولہ عارف اقبال پر مکمل صادق آتا ہے ۔ان کی امی لکھتی ہیں ’’میرے چھ بچوں میں عارف اقبال چوتھے نمبر پر آتے ہیں ۔عزیزم کی عادت عام بچوں سے علاحدہ شروع سے خاموش و شریفانہ رہی ہے ،محنت ،جد و جہد اور کچھ کرتے رہنے کی ہمیشہ اس نے کوشش کی ہے،پڑھنے لکھنے اور اخبار بینی کا شوق بچپن سے ہی رہا ہے ‘‘۔(امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات ص۴۷)یقیناًیہی محنت ،لگن،ہمت،جدو جہد، شوق کتب خوانی اور بزرگان دین کی محبت نے ان سے امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات جیسی کتاب تالیف کروائی ۔اور اس کی اہمیت کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ حضرت امیر شریعت نے خوداپنی زندگی میں اس کتاب کے مسودہ کو ملاحظہ فرماکر تشفی کا اظہار کیا تھا جبکہ اس کتاب کے لئے عارف اقبال کو مرکزی جمعیتہ علمأ نے علامہ شبلی نعمانی ایوارڈ اور توصیفی سند سرفراز کیا اور حضرت مولانا رابع حسنی ندوی صاحب نے اپنے دست مبارک سے امین ملت سید نظام الدین ایوارڈعطا کیا ۔عظیم المرتبت شاعر ،پدم شری ڈاکٹر کلیم عاجزؒ رقمطراز ہیں ’’عارف اقبال سلمہ ابھی طالب العلم ہیں ۔علم ا ادب سیکھنے ہی کے دوران علم و ادب کا سنجیدہ پیش کش کا کامیاب آغاز کر دیا ہے ۔ہم ان کی ذہانت اور ہمت کی داد دیتے ہیں………عارف اقبال صاحب نے بیابان کی شب تاریک میں قندیل رہبانی روشن کرنے کا فخر حاصل کر لیا اور مستقبل میں ان شأاللہ کرتے رہیں گے اس دور جدیدیت اور مابعد جدیدیت میں صاف سلجھی تحریروں کے مجموعے شاذو نادر ہی وجود میں آتے ہیں ۔عارف صاحب نے کمر کس لی ہے اور میدان میں آگئے ہیں (امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات:ص۲۹)ان کے استاذگرامی اور معتبر شخصیت، محقق و ناقد پروفیسر ابن کنول کہتے ہیں ’’عزیزی عارف اقبال نے ان (مولانا سید نظام الدین)کی ملی و قومی خدمات کے اعتراف میں تحریر کردہ مختلف علمأکے مضامین کو یکجا کرکے ایک اہم کام انجام دیا ہے ۔ عارف اقبا ل ہمارے شعبہ کے ایک ہونہار اور با صلاحیت طالب علم ہیں ،لکھنے پڑھنے کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں ،ان میں ادب و قوم کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ موجود ہے ۔‘‘(امیر شریعت سادس:ص۴۰)
حقیقت یہ ہے کہ امیرشریعت ؒ کی مکمل سوانح عمری یہی کتاب ہے، کیونکہ حقیقی سوانح عمری وہی کہلاتی ہے جس میں شخصیت کے طور طریق ،نشست و برحاست اور ذاتی مشاہدہ مرقوم ہو بلکہ سایہ کی طرح سوانح نگار ان کے ساتھ رہا ہو اور یہ ناممکن ہے کیونکہ جلوت و خلوت کے بہت سے گوشے ایسے ہوتے ہیں جن سے عزیز ترین ،اعزأاور بالخصوص اہل خانہ کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا ہے۔ الحمد للہ اس کتاب میں حضرت امیر شریعت کے احباب ،تلامذہ، مقربین ،معززین ،محبین اور متوسلین کے علاوہ ان کے صاحبزادہ مولانا عبد الوحید صاحب کی تحریر بھی شامل ہے ،جو ان کی معیت میں سالہا سال سفر میں، حضر میں ،جلوت میں اور خلوت میں رہے۔وہ لکھتے ہیں ’’اس چھوٹی سی عمر سے لے کر ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۱۵ تک تقریباًچالیس سال تک ابا جان کے سینہ سے لگا رہا،اور بھائی بہنوں میں خوش نصیب رہا کہ میں ہی سب سے زیادہ ان کے قریب رہا‘‘۔ (امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات: ص۱۱۵)
یوں تو امیر شریعت ؒ کی عبقری شخصیت محتاج تعارف نہیں ،اگر ان پر ’’باتیں میر کارواں کی ‘‘یا ’’امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات ‘‘نہ بھی لکھی جاتی تو بھی وہ اپنی تحریر،تقریر،تواضع ،سادگی،خلوص و للٰہیت ،تدبر ،تفکر اورزہدوتقویٰ سے جانے جاتے مگر قربان جاؤں عارف اقبال پر کہ انہوں نے امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات کو ترتیب دے کر ایک گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے ۔یہ کتاب ایک سوانحی اور تاریخی دستاویز ہے۔وہ جنہوں نے امیر شریعت کو بچشم خود نہیں دیکھا ہے ،اس کو پڑھ کر ان کو دیکھیں گے اور ان کی راہوں پر چل کر ملک و ملت کے لئے ترقی کا سبب بنیں گے ۔
یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے ،باب اول حضرت امیر شریعت کی حالات زندگی ،کارنامے اور خدمات پر مشتمل ہیں ۔اس میں معتبر صحافی سہیل انجم ،مولانا قاسم مظفرپوری ،مولانا کاکا سعید عمری ،پروفیسر محسن عثمانی ندوی ،ڈاکٹر منظور عالم ،قاضی عبدالجلیل قاسمی ،عظمیٰ ناہید ،اسمأ زہرہ ،مولانا غفران ساجد قاسمی اورعبدالقادر شمس جیسے شہسواران قلم کے مضامین ہیں ۔باب دوم میں مسلم پرسنل لأ بورڈ،امارت شرعیہ اور دیگر اداروں سے وابستگی پر پر مغز مضامین ہیں ۔باب سوم میں بزرگان دین اور رفقأسے باہمی ربط ،عقیدت و محبت اور آپ کے تعلقات و معاملات کو اجاگر کیا گیا ہے ۔مولانا رابع حسنی ندوی صاحب ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں ’’مولانا سید نظام الدین صاحب اراکین کے انتخاب ، حکومت سے رابطہ اور میڈیا سے گفتگووغیرہ کے امور میں حضرت مولانا(ابوالحسن علی ندوی)رحمۃاللہ علیہ کی منشأ تک کا لحاظ کرتے ،اور جو قدم اٹھاتے اس میں ان کی فکر و رائے کا پورا احترام و لحاظ کرتے ‘‘(امیر شریعت سادس نقوش و تاثرات ص۲۹۲)باب چہارم ادبی خدمات پر مشتمل ہے ۔ مولانا عبد الباسط ندوی صاحب نے ’’امیر شریعت اور ان کی شاعری ‘‘لکھ کر بہت حد تک امیر شریعت کے اس گمنام پہلو سے روشناس کرایا تھا لیکن ڈاکٹر کلیم عاجز ؒ ،مولانا واضح رشید ندوی اور ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی جیسے ادیبوں نے آپ کی شاعری پر قلم اٹھا کر آپ کا قد بلند وبالا کردیا ۔باب پنجم :اس میں ’’باتیں میر کارواں کی ‘‘ کے حوالے سے آپ کے خطوط ،منظوم تاثرات ،مقالات و رپورتاژ،رسم اجرأ،تبصرے اور اخبارات کے تراشے شامل ہیں ۔باب ششم میں سانحۂ ارتحال کے موقع پر سیاسی، دینی اور سماجی شخصیات کے تعزیت نامے اور وفیات پرلکھے گئے وقیع مضامین اور مقالے شامل ہیں ۔یہی وہ باب ہے جس میں آپ کے بہت سے جدید گوشے پہلی دفعہ منظر عام میں آئے ،اس میں قطعات و فیات اور مرثیے بھی ہیں جن کے تخلیق کار اسرار جامعی اور احمد علی برق اعظمی جیسے معروف شعراأہیں ۔اس کے علاوہ اس کتاب میں مزید ایک باب ہے ،جس کا تذکرہ مرتب نے نہیں کیاہے لیکن ہم اس کو ’’صوری باب‘‘ کا نام دے سکتے ہیں ،یہ وہ باب ہے جس کو دیکھ کر کوئی ان پڑھ بھی امیر شریعت کی اہمیت و قابلیت کا اندازہ کر سکتا ہے ،ان کو جان سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے ۔ اس کتاب کی مزید ایک نمایاں خصوصیت اور انفرادیت یہ ہے کہ اس کے جتنے بھی مضامین نگار ،مقالہ نگار یاشعرأہیں ان کا مختصر تعارفی خاکہ پیش کیاگیا ہے ۔
کتابت میں کچھ خامیاں در آئی ہیں، اگر ان کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ کتاب مؤلف کی شبانہ روز محنت و مشقت کا ثمرہ،ناشر کا اعلیٰ ذوق کا عکاس ،عمدہ کاغذ اور شاندار جلد سے مجلد ہے۔حضرت امیر شریعت کے قدر دانوں کو چاہئے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں ،ان کے چھوڑے ہوئے مشن کو آگے بڑھائیں اور مؤلف عارف اقبال کواس زریں خدمت کے لئے دعاؤں سے نوازیں ۔
؂ اے اہل ادب آؤ ،یہ جاگیر سنبھالو !
mansoorqasmi8@gmail.com