ہندوتو بنام ہندوتو میں ہم کہاں ہیں؟

قاسم سید
سابق امریکی صدربراک اوبامہ کے اس بیان کی گہرائی کو ملک کی سیاسی پارٹیوں کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے جس میں انہوں نے تاکیدی مشورہ دیاتھا کہ ہندوستان کو اپنی مسلم آبادی کی قدر کرنی چاہئے اور ان کا دھیان رکھناچاہئے جو خود کو اس ملک سے جڑا اور ہندوستانی مانتے ہیں ہندوستان ٹائمز لیڈر شپ سمٹ میں ان کے اس تبصرہ کو زیادہ اخبارات نے اولیت کے ساتھ جگہ نہیں دی انہوں نے گفتگو کے دوران یہ بھی انکشاف کیا تھا 2015 میں ہندوستان کے آخری دورے میں وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ بند کمرے کی بات چیت کے دوران مذہبی رواداری اور کسی بھی مذہب کے ماننے کے حق پر زور دیاتھا۔ اس کی قدر کرنے اور مسلسل استحکام کی ضرورت ہے۔ سال 2009اور 2017کے درمیان امریکی صدر رہے اوبامہ نے اپنے سفر کے آخری دن بھی علی الاعلان اس طرح کا تبصرہ کیاتھا۔ موجودہ حکومت کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کئی مرتبہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ ہندوستانی مسلما ن امن پسند ہے اس نےدہشت گردی کی حوصلہ افزائی نہیںکی۔یہی وجہ ہے کہ القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں کو یہاں راستہ نہیں مل سکا اس کا سوفیصد کریڈیٹ مسلمانوں کو جاتا ہے۔ وزیراعظم بھی حب الوطنی کے معاملہ میں مسلمانوںکی پیٹھ تھپتھپاچکے ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کی مدرتنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کارویہ باکل برعکس ہے۔ ملک کے اندر ماضی کا انتقام لینے اور ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو ذہنی وجسمانی اذیت پہنچانے کے لئے تمام راستے اختیار کئے جانے سے گریز نہیں کیاجارہا ہے۔ بلکہ عملاً ایسے پرجوش انتقام پسند عناصر کی سرکاری سرپرستی کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔اسے ہندوستانی مسلمانوں کا صبرو تحمل دانشمندی اور قوت برداشت کا نام دیجئے کہ وہ گذشتہ کئی سال سے اعلانیہ تشدد موب لنچنگ‘ سرعام پیٹ پیٹ کر بے گناہ نوجوانوں اور بزرگوں کے قتل کے وحشیانہ واقعات کے باوجود امن وانصاف کی رسی ہاتھ سے جانے نہیں دیناچاہئے ورنہ ردعمل کا راستہ اختیارکرتے تو کشیدگی کا بارود سماج کو تباہ کردیتا اس نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کی آس نہیں چھوڑی افسوس کہ قومی قیادت عارضی سیاسی مفادات کی خاطر اس جذبہ کی قدروقیمت سمجھنے کے لئے تیار نہیں اور اسے لگاتار مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بی جے پی نے تو مسلمانوں کے وجود کو ہی مستردکردیا ہے وہ لگاتار یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر بھی الیکشن جیتاجاسکتا ہے اور جب ایسا ہوسکتا ہے تو پھر ان کے مسائل اور بستیوں سے کوئی واسطہ کیوں رکھاجائے ۔ مسلم بستیوں میں راستے تنگ اور گندگی سے بھرے ملیں گے ان میں زیادہ تر کباڑی‘ گاڑیوں کے میکنیک‘ فرنیچر اور کھانے پینے کی دکانیں‘نالیوں سے ابلتا تعفن‘بند سیور کی وجہ سے گلیوںمیں سڑتاپانی اور جگہ جگہ کوڑے وغلاظت کے انبار ان کی شناخت ہیں۔ سڑکوں پر گریس‘ لکڑی کی چھیلن اور مرغیوں کے پنکھ ان کی بساند محسوس ہوگی۔ بے روزگار مسلم نوجوانوں کے جھنڈ نکڑوں پر مل جائیں گے جب ہاتھ میں کام نہیں توکریں کیا یہ حالت بی جے پی کی وجہ سے نہیں ہوئی اس کے لئے ساری محنت کانگریس اور اس کے شکم سے پیدا دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی دین ہے کیونکہ اقتدار پر زیادہ ترتوانہی کا قبضہ رہا ہے جنہوں نے دلتوں کو اوپر اٹھانے اور مسلمانوں کو ان کی جگہ پہنچانے میں بہت ہی عیاری‘ مکاری اور منافقت کا مظاہرہ کیا اوبامہ نے صرف بی جے پی یا مودی کو ہی مشورہ نہیں دیا انہوں نے ہندوستان کی اکثریتی قیادت کو آئینہ دکھایا ہے جس میں کانگریس سمیت تمام پارٹیاں شامل ہیں۔ کانگریس نے مسلمانوں کو جہاں لاکھڑا کیا بی جے پی نے اس حکمت عملی پر چل کر زیادہ جارحیت اور زیادہ خونخواری کا مظاہرہ کیا۔ اب اس سے یہ سوال کرنے والا کوئی نہیں کہ گجرات فساد کا رہ رہ کر زخم ہرا کرنے اور نمک چھڑکنے کا عمل گجرات الیکشن میں کیوں ترک کردیا۔ اب اسے مسلمان کیوں یاد نہیں آئے۔ وہ ان کی مظلومیت کا ڈھول کیوں نہیں بجاتی راہل گاندھی کے جینو دھاری ہندویعنی پنڈت برہمن ہونے کی خاصیت کیوں بتائی جارہی ہے۔
کانگریس کے کلمہ گو حضرات کے پاس اس کا بھی جواب ہوگا کہ مسلمانوں کا تذکرہ کرنے سے بی جے پی کو فائدہ پہنچے گا سبحان اللہ۔ یعنی چھری خربوزہ پر گرے یا خربوزہ چھری پر نقصان تو خربوزہ کا ہی ہوگا۔ کانگریس سے یہ سوال کرنا بھی بی جے پی کی حمایت ماناجاسکتا ہے کہ مغربی سورت میں صرف 18ہزار مسلمان ہیں وہاں مسلم امیدواراتار دیا جبکہ مشرقی سورت میں نوے ہزار ہیں وہاں کسی اور کو ٹکٹ دے دیا۔ حالات بتا رہے ہیں کہ بی جے پی ہر پارٹی کو ہندوتو کا چاب کرانے میں کامیاب نظرآرہی ہے ساری پارٹیاں مل کر اسے سیکولرازم کا چالیسا پڑھانے میں ناکام رہیں مگر اس نے ان کے ہاتھ سے سیکولرازم کا ڈھول چھین کر ہندوتو کا ترشول ضرور تھما دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کا ہر لیڈر سینہ پیٹ پیٹ کر بابری مسجد کا تالہ کھولنے سے لے کر شیلا نیاس کرانے اور اسے شہید کرانے کا کریڈیٹ لینے میں سبقت لیتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹی وی ڈی بیٹ میں اگر اس کے نمائندے فخر سے رام مندر کا راستہ ہم نے ہموار کیا کہہ رہے ہیں اور ہائی کمان خاموش ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ گرین سگنل دیاگیا اور اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یعنی اب قومی سیاست ہندوتو بنام ہندوتو ہوگئی ہے اور یہ صرف گجرات تک محدود نہیں رہے گی ۔ 2019 میں یہ کھیل اور شباب پر ہوگا۔ بی جے پی کو مبارک باد دینی چاہئے کہ اس نے نتیش جیسے لیڈروں اور کانگریس جیسی پارٹیوں کی شیرکی اوڑھی کھال نوچ کرپھینک دی اور ان کا ہندوتو پر یم بے نقاب کردیا۔
ان حالات میں مسلمانوں کے لئے سوچنے کا مقا م ہے کہ وہ کیا کریں سیکولرازم کا کھیل پرانا ہوگیا۔ یہ ڈھونگ آنے والے دنوں میں نہیں چلے گا۔ کوئی پارٹی مسلم مسائل کا تذکرہ تو دور ان کا نام لینے سے بھی خوف کھارہی ہے۔ گجرات کی انتخابی مہم اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ تو کیا ایسے ہی پچھ لگو بنے رہیں غلاموں کا انداز اختیار کئے رہیں گلے میں پیدائشی کانگریس کاپٹہ ڈالے گھومتے رہیں۔ جو بی جے پی کو ہرائے اس کو ہرائیں کی بوسیدہ پٹی ہوئی حکمت عملی پر عمل کرتے رہیں اس کا حشر تو دیکھ رہی رہے ہیں۔ کوئی نیا تجربہ کریں ۔ نیا راستہ تلاش کریں کیا خود کو انتخابی سیاست سے کچھ مدت کے لئے دوررکھیں۔ تاکہ مسلم منافرت پھیلانے کا موقع نہ دیا جائے۔ معاہداتی سیاست کو آزمائیں۔ زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت سمجھیں۔ خود کو تعلیم اور روزگار کی جدوجہد تک محدود رکھیں یا اترپردیش کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مسلم عوام نے جس حکمت عملی کے ساتھ پولنگ کی ہے اس کو آگے اختیار کریں۔ دوباتیں بالکل واضح ہیں۔ یہ ناممکن ے کہ تمام مسلمان متحد ہوکر کسی ایک جگہ ووٹ کریں۔ دوسرے مسلم لیڈروں کے درمیان اتحاد خواب وخیال کی باتیں ہیں۔ ان کے آپسی اختلافات اتنے گہرے اور جماعتی مفادات اتنے مختلف ہیں کہ کم از کم مشترکہ پروگرم کےتحت اکٹھا ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ وہ مسلم پرسنل لا کے علاوہ کسی اور ایشو پر ایک جگہ نہیں آسکتے۔ سب کی اپنی ترجیحات ہیں۔ کوئی کسی کی قیادت قبول کرنے یا اجتماعی قیادت کے لئے بھی راضی نہیں۔ ایک گھر کے دو لوگ بظاہر ایک نہیں ہوسکتے توپھر اتحاد کا تصور ہی بے فیض ہے۔
یہ وقت شور مچانے‘ اشتعال کا مظاہرہ کرنے اور ردعمل کے اظہار کا نہیں بلکہ خاموش اور صبروتحمل کے ساتھ دبے پائوں آگے بڑھنے کا ہے بی جے پی کے پاس پروپیگنڈہ کی طاقت ہے اس لئے یوپی کے بلدیاتی الیکشن میں اس کی پسپائی 14میئروں کی جیت میں چھپ گئی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم عوام نے برادران وطن کے ساتھ مل کر بڑی خوبی کے ساتھ پولنگ کی سیکولر پارٹیوں نے اکثریتی علاقوں میں مسلم امیدوار اتار کر بی جے پی کے لئے راستہ ہموار کردیا تھا جیسا مراد آباد وامروہہ میں ہوا اور رام پور میں لاج بچ گئی۔ مسلمانوں نے کسی ایک پارٹی سے خود کو نہیں باندھا ایم آئی ایم کے بھی حیرت انگیز طور پرکئی امیدوار جیت گئے صرف فیروز آباد میں دس کونسلر منتخب ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے ووٹوں کے بکھرائو کو محسوس کرلیا ہے۔ انہوں نے پہلے مسلم امیدوار اس کے بعد بی جے پی کو شکست دینے والی پارٹی کو ووٹ دیا کسی مسلم پارٹی کا امیدوار جیتتا دکھائی دیا تو اسے ووٹ دینے سے دریغ نہیں کیا یہ حکمت عملی ہے ان مسلم لیڈروں کو جواب دیناچاہئے جو کسی مسلم جماعت کا مسلم امیدوار اتارنے پر بی جے پی کا ایجنٹ بتانے میں دیرنہیںکرتے مگر جب یہی کام سیکولر پارٹیاں کرتی تو ان کی زبان کو تالہ لگ جاتا ہے سب اپنا سوچتے ہیں۔ الیکشن لڑنے والی مسلم جماعتیں سیٹیں نشان زد کرکے امیدوار اتاریں تواچھا پیغام جاسکتا ہے جرأت مند حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اپنا بوجھ خود اٹھائیںنہ کہ دوسروں کا بوجھ بھی ڈھوئیں۔ ستر سال بعد بھی اگر سمت وسفر میں تبدیلی کی ضرورت نہ سمجھیں تو ہم سے بڑا بدبخت کون ہوگا اوبامہ کی نصیحت پر ہم خودہی اپنی قدر کرنا سیکھ لیں۔
qasimsyed2008@gmail.com

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں