کیا پلوامہ مودی کو پھر ’ ہندو ہردے سمراٹ ‘ بنا دے گا! 

13

 ظفر آغا

پلوامہ میں پاکستان نے جو دہشت گردی کا تازہ حملہ کیا اس نے ہندوستان کے عوام کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ دنیا واقف ہے کہ دو ڈھائی مہینے بعد ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں۔

اللہ رے! پلوامہ میں دہشت گردوں کا ننگا ناچ۔ جس بے دردی سے ایک خودکش بامبر نے تقریباً پچاس سی آر پی ایف جوانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس نے پورے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ آخر پاکستان نے وہی کیا جو اس سے امید کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے پاس اور کوئی انڈسٹری تو ہے نہیں، صرف ایک دہشت گردی کی انڈسٹری ہے جس کا استعمال وہ ہندوستان کے خلاف مستقل کرتا رہتا ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں پاکستانی دہشت گرد انڈسٹری نے وادی کشمیر کو وادیٔ بہشت سے وادیٔ جہنم بنا دیا۔ پھر سارے ہندوستان میں کبھی ممبئی تو کبھی ہندوستانی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملوں سے پاکستان نے ہندوستان کو تنگ کر رکھا ہے۔ یہی نہیں، وہ طالبان ہو یا القاعدہ یا داعش جیسی تنظیمیں، دنیا بھر میں دہشت گردی کے پیچھے آپ کو پاکستانی دہشت گردی کے نقش قدم صاف نظر آ جائیں گے۔ لیکن دنیا بھر کی عظیم طاقتیں پاکستان کی دہشت گرد انڈسٹری پر نکیل لگانے میں اب تک ناکام ہیں۔

لیکن پچھلے ہفتے پلوامہ میں پاکستان نے جو دہشت گردی کا تازہ حملہ کیا اس نے ہندوستان کے عوام کے لیے ایک بہت بڑی سیاسی مسئلہ بھی پیدا کر دیا۔ دنیا واقف ہے کہ دو ڈھائی مہینے بعد ہندوستان میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے سنہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت اپنی گنگا جمنی سیکولر سیاست اور ہندوتوا سیاست سے نبرد آزما ہے۔ نریندر مودی نے اپنے پانچ سال کے دور حکومت میں ہندوستانی آئین کی روح کو پوری طرح مسخ کر ہندوستان کو سَنگھ کے خواب ہندو راشٹر کے دروازے تک پہنچا دیا ہے۔ اگر مودی کو پانچ سال اور حکومت کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو بس یہ سمجھیے کہ اگلے پانچ سالوں میں ہندوستان باقاعدہ ایک ہندو راشٹر کی شکل اختیار کر لے گا۔

پلوامہ میں جو دہشت گردانہ حملہ ہوا اس سے قبل یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ بی جے پی کے لیے اگلا لوک سبھا انتخاب جیت پانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ مودی 16ویں لوک سبھا کے ختم ہوتے ہوتے سیاسی بازی ہار چکے تھے۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، کسانوں کی خستہ حالی اور نوجوانوں کی بڑھتی بے روزگاری نے سارے ملک میں مودی کی ساکھ توڑ دی تھی۔ سنہ 2014 کا مودی پچھلے ایک برس میں ختم ہو چکا تھا۔ اب سَنگھ کی بھرپور حمایت کے باوجود مودی کے لیے بی جے پی کو انتخاب جتوانا کارِ دارد ہو چکا تھا۔ راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں حالیہ شکست کے بعد یہ نظر آنے لگا تھا کہ مودی کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ پھر دوسری جانب سیکولر خیمے میں اتحاد کی لہر چل پڑی تھی۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں جب مودی نے پوری اکثریت حاصل کی تھی تو اس وقت بھی بی جے پی کو محض 31 فیصد ووٹ ملے تھے۔ یعنی مودی کے خلاف 2014 میں بھی 69 فیصد ووٹ پڑے تھے۔ لیکن ان 69 فیصد ووٹ کے آپس میں بٹ جانے سے مودی کو فائدہ ہوا۔ ظاہر ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے بعد انتخابی نتائج اس بار کچھ اور ہی ہوتے۔

اس سیاسی پس منظر میں یکایک پلوامہ دہشت گردانہ حملے نے گویا سیاسی بساط ہی بدل دی۔ وہ مودی جن کی ریلیاں خالی ہو چکی تھیں وہی مودی اب گھوم گھوم کر ہندوستان میں گرج رہے ہیں۔ اور خطرہ یہ ہے کہ مودی خود ایک بار پھر ’ہندو اَنگ رکشک‘ بن کر پلوامہ کے نام ملک میں ہندو ووٹ بینک بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ دراصل ہندوستانی سیاست میں نریندر مودی کا عروج ہی بطور ’ہندو اَنگ رَکشک‘ ہوا تھا۔ سنہ 2002 میں جب بی جے پی نے مودی کو گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا کر بھیجا تھا تو اس وقت تک مودی کی حیثیت ملک تو کیا خود ان کی پارٹی میں بھی تقریباً زیرو تھی۔ حد یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے سے قبل مودی نے میونسپل سطح تک کا انتخاب بھی نہیں لڑا تھا۔ وہ تو 2002 کے گجرات فسادات نے مودی کو مودی بنا دیا۔ اور وہ کیسے! اگر فروری 2002 کو گودھرا میں ہندو کارسیوک سابرمتی ٹرین میں جلا کر مارے نہیں گئے ہوتے تو سنہ 2002 گجرات فسادات کا کوئی جواز نہ ہوتا۔ سابرمتی ٹرین میں کارسیوک مارے گئے اور اس حادثہ کا الزام مسلمانوں پر عائد ہوا۔ بس پورا واقعہ ہندو-مسلم فساد میں تبدیل ہو گیا۔ بس اس حادثہ کے دوسرے روز گودھرا سے کارسیوکوں کے جنازے احمد آباد لائے گئے جہاں پہلے سے وشو ہندو پریشد نے گجرات بند کا اعلان کر رکھا تھا۔ اس بند کی آڑ میں سنہ 2002 میں جو فسادات ہوئے اور اس میں جو مسلم نسل کشی ہوئی اس نے نریندر مودی کو راتوں رات پہلے ’ہندو اَنگ رکشک‘ اور پھر ’ہندو ہردے سمراٹ‘ بنا دیا۔ وہ دن اور آج کا دن مودی نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

لیکن گجرات فسادات میں ایسا کیا سیاسی راز اور حکمت عملی چھپی تھی کہ جس نے مودی کو ہندو ہردے سمراٹ بنا دیا! بات یہ ہے کہ گودھرا واقعہ نے ہندوؤں کو نفسیاتی طور پر غیر محفوظ کر دیا۔ اس واقعہ سے بی جے پی نے یہ سیاسی ’مسیجنگ‘ کی کہ مسلمان ہندوؤں کے خون کے پیاسے ہیں اور وہ کبھی بھی ان پر گودھرا کی طرح حملہ کر سکتے ہیں۔ یعنی گودھرا واقعہ سے پہلے مسلمان ہندو دشمن مستحکم ہو گئے۔ اب دوسرے روز سے فسادات ہوئے جن میں مودی حکومت تین روز تک خاموش تماشائی بنی رہی، اور پورے گجرات میں مسلم نسل کشی ہوتی رہی۔ بس اس کے بعد مودی نے اس انداز میں گرجنا برسنا شروع کر دیا کہ یہ سیاسی پیغام چلا جائے کہ مودی کے راج میں اگر ہندو کے خلاف کوئی نگاہ اٹھے گی تو وہ نگاہ پھوڑ دی جائے گی۔ اور بس اس طرح غیر محسوس گجراتی ہندوؤں میں اس پیغام نے مودی کو پہلے ہندو اَنگ رکشک (ہندو محافظ) بنا دیا اور پھر جو پوری قوم کا محافظ ہوگا تو بس پھر وہ ’ہردے سمراٹ‘ تو ہو ہی جائے گا! اور اس طرح مودی سارے ملک کے ایک بلند و بالا ہندو لیڈر بھی بن گئے۔ باقی تو ایک تاریخ ہے جس سے آپ بخوبی واقف ہیں۔

لیکن اگر گودھرا نہ ہوتا تو مودی آج ہندو ہردے سمراٹ نہ ہوتے۔ یہ لمبی تمہید اس لیے کہ کیا سنہ 2019 میں پلوامہ نریندر مودی کے لیے گودھرا کا کام کرے گا اور سنہ 2002 کی طرح ان کو راتوں رات پہلے ہندو اَنگ رکشک اور پھر ’ہندو ہردے سمراٹ‘ تو نہیں بنا دے گا۔ اس کا سہی اور پورا جواب تو اگلے لوک سبھا انتخابات کے بعد ہی ملے گا، لیکن بی جے پی نے پچھلے 24 گھنٹوں میں جو سیاست شروع کی ہے اس سے تو اس بات کے صاف آثار نظر آرہے ہیں کہ پارٹی پھر سنہ 2002 کی گجرات راہ پر گامزن ہے۔ اس مضمون کے لکھے جانے کے وقت جموں جل رہا تھا اور پورے جموں میں مسلمان دنگائیوں کے نشانے پر تھے۔ بی جے پی کو پاکستان اور پاکستان کی آڑ میں اس ملک میں رہ رہے ’پاکستانی‘ (مسلمان) بطور ایک ہندو دشمن طاقت پروجیکٹ کرنے کا موقع بھی مل چکا ہے۔ اب پاکستان کے خلاف مودی کوئی کارروائی کر پھر ویسے ہی ہندو اَنگ رکشک بن سکتے ہیں جیسے وہ سنہ 2002 کے گجرات میں گودھرا حادثہ کے بعد بن گئے تھے۔ اگر ایسا ہوا تو انتخابات کی بساط کا کیا رخ ہو، یہ کہنا بہت مشکل ہوگا۔

الغرض، یہ طے ہے کہ پلوامہ نے سنہ 2019 کے انتخابات کا رخ ایک خطرناک سیاست کی جانب موڑ دیا ہے۔ اب دیکھیے آگے آگے ہوتا ہے کیا!