نئی دہلی3 مارچ( آئی این ایس انڈیا )
لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے بہار میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کے خاندان میں تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔لالویادو کے بڑے بیٹے تےج پرتاپ نے خاندان کی ٹینشن بڑھائی ہوئی ہے۔ تےج پرتاپ سیٹ تقسیم کے بعد باغی ہو چکے ہیں اور انہوں نے لالو رابڑی مورچہ بنا لیا ہے۔ تےج پرتاپ اپنی پارٹی سے 2 سیٹوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ان کی مانگ نہیں مانی گئیں تو وہ ’لالو رابڑی‘ محاذ کے تحت اپنے امیدواروں کو آر جے ڈی کےخلاف میدان میں اتاریں گے۔ اس دوران تےج پرتاپ یادو کو مخالفین کا ساتھ ملا ہے۔جس سے اشارے مل رہے ہیں کہ کہیں مہاگٹھ بندھن سے گھبراکرپردے کے پیچھے بی جے پی کھیل تونہیں کھیل رہی ہے۔ بی جے پی اور جنتا دل (یونائٹیڈ) تےج پرتاپ کے حق میں اتر آئی ہیں۔بی جے پی کے لیڈر اور بہار کے نائب وزیر اعلی سشیل کمار مودی نے کہا کہ خاندانی پارٹیوں میں جب دو وارث ہو جاتے ہیں، تو ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔ سشیل مودی نے کہا کہ آر جے ڈی نسل پرستی کا اختلاف جھیل رہی ہے ۔ یہ دو وارثوں کے درمیان جدوجہد ہے۔سارن سے تےج پرتاپ یادو کے سسر کو ٹکٹ دینا ان کے لئے جلے پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔ آر جے ڈی تےج پرتاپ کے جلے پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آر جے ڈی کے کارکنوں میں تیج پرتاپ کا مطالبہ زیادہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تیح پرتاپ کی تقریرکا انداز لالو پرساد جیسا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تنازعہ ابھی تھمنے والا نہیں ہے۔ ادھر جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے بھی تےج پرتاپ کے حق میں اترتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی حق کی لڑائی ہے، جو وہ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تےج پرتاپ اپنے چھوٹے بھائی سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے باوجود ان کو حق نہیں دیا گیا۔تےج پرتاپ یادو نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو اپنی ہی پارٹی کےخلاف وہ امیدوار کھڑے کریں گے۔ تےج پرتاپ یادو نے صاف کر دیا ہے کہ اگر شیوہر اور جہانآبادسے ان کے من پسند لیڈر کو ٹکٹ نہیں ملتا ہے تو’لالو رابڑی مورچہ‘ کے بینر تلے اپنے امیدواروں کو اتاریں گے۔






