سپر پاور طاقتوں کا افغانستان پر قبضہ کا خواب اور ناکامی کا سامنا

سپر پاور طاقتوں کا افغانستان پر قبضہ کا خواب اور ناکامی کا سامنا

خبر در خبر (655)
شمس تبریز قاسمی
طالبان جسے امریکہ نے دہشت گرد کہا۔ اٹھارہ سالوں تک میزائل سے حملہ کیا ۔ آسمان سے بموں کی برسات کی ۔ ہر ٹھکانے پر چھاپہ مارا ۔ مسجدوں اور مدرسوں کو بھی نشانہ بنایا ۔ آج اسی طالبان کے سامنے امریکہ جھکنے پر مجبور ہوچکا ہے ۔ ہر شرط ماننے کیلئے تیار ہے اور جتنا جلدی ممکن ہوسکے وہ افغانستان سے اپنی فوج کو نکالنا چاہتا ہے ۔ قطر کی راجدھانی دوحہ میں دودنوں سے مذاکرات جاری ہے ۔ طالبان کی ضد ہے کہ ہم افغانستان میں اسلامی جمہوریت قائم کریں گے ۔ امریکہ اور اس کی نمائندگی کرنے والی کابل حکومت کو یہ گوارا نہیں ہورہا ہے ۔ طالبان کا دو ٹوک کہنا ہے کہ اگر ہماری شرط منظور نہیں تو ختم کرو مذاکرات اور امریکہ اب مزید ہارنے کے بجائے نکلنے میں اپنی بھلائی سمجھ رہا ہے ۔
افغانستان وسط ایشیا اور ساؤتھ ایشا میں ایک بند ملک ہے ۔ مطلب چاروں طرف اس کے خشکی ہے اور ملک ہے۔ کوئی بھی سمند ر نہیں ہے ۔افغانستان کے ساؤتھ اور ایسٹ میں پاکستان، ہے و یسٹ میں ایران ہے نارتھ ایسٹ میں چین ہے ، نارتھ میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ تمام پڑوسی ملکوں سے افغانستان کا گہرا ثقافتی اور تاریخی رشتہ ہے ۔ افغانستان کی کل آبادی 3.72کڑور بہتر لاکھ ہے ۔ زیادہ تر لوگ مسلمان ہیں۔ 652,230 مربع کیلومیٹر اس کا کل رقبہ ہے ۔
افغانستان دنیا کے قدیم ترین ملکوں میں سے ایک ہے ۔ اس سرزمین پر مختلف زمانے میں مختلف قوموں اور سلطنت نے حکومت کی ۔ایک زمانے میں یہاں کسری سلطنت کی حکومت تھی ۔ کبھی یونانیوں کا حصہ رہا، ساتویں صدی میں افغانستان کو عربوں یعنی مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ ترکوں نے بھی یہاں حکومت کی۔ منگولوں، انگریزوں اور روسیوں کے قبضہ میں بھی یہ ملک رہا اور اب امریکہ کے قبضے میں تھا۔ لیکن اس خطے کا نام افغانستان اور اسے ایک مستقل ملک احمد شاہ ابدالی نے اٹھارہویں صدی میں بنایا اور وہی اس ملک کے اصل بانی سمجھے جاتے ہیں ۔ اس سے پہلے یہ خطہ مختلف سلطنتوں کا حصہ بن کررہا ہے ۔ کبھی خراسانی سلطنت کے نام سے جانا گیا ۔ کبھی غزنوی سلطنت کے نام سے ۔ کبھی غوری سطلنت کے نام سے ۔ کبھی مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا ہے ۔ اٹھارہویں صدی میں احمد شاہ ابدالی نے اس خطہ کو مستقل ایک ملک کا نام دیا ۔ افغانستان اور اس کی سرحدیں بھارت تک پھیل گئی ۔
افغانستان پر ہمیشہ دنیا کی سپر پاور قوتوں اور عالمی طاقتوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی ۔ اس کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہا کیوں کہ افغانستان ایشیا کے سینٹرل میں واقع ہے ۔ یورپ جانے کا یہی واحد خشکی راستہ ہے ۔ افغانستان پر کنٹرول ہوجانے کے بعد پورے میڈیل ایسٹ پر قابو کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ یہاں فوجی چھاؤنی ہونے کے بعد عراق ، ایران ، سعودی عرب ، مصر ، فلسطین ، پاکستان ، ہندوستان سبھی پر نظر رکھنے اور انہیں قابو کرنے میں آسانی مل جاتی ہے ۔ دوسری طرف افغان قوم کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی بیرونی طاقت کو برداشت نہیں کیا ۔ ہمیشہ آزادی کی تحریک چلائی ۔ جس نے بھی یہاں قبضہ کرنے کا خواب دیکھا اسے ایک نہ ایک دن ہار مان کر یہاں سے نکلنا ہی پڑا ۔انگریزوں نے ہندوستان اور دیگر ملکوں کے ساتھ افغانستان پر بھی قبضہ کرلیا تھا لیکن افغان قوم نے اس غلامی کو بالکل برداشت نہیں کیا اور انگریزوں پر ایسا حملہ کیا کہ 1919 میں ہی برطانیہ نے سے آزاد کردیا اور اس خطہ سے انگریزوں کا کنٹرول ختم ہوگیا ۔ 1970 کے بعد نادر خان نے یہاں بغاوت کرکے اپنی حکومت بنالی اور روس سے فوجی مدد لی ۔   روس کی کمیونسٹ پارٹی نے ترکی جیسی پابندی یہاں لگانی شروع کردی ۔ مصطفی کمال اتاتر کے نظریہ کو آئیڈیل مانتے ہوئے روس نے سوچاکہ یہاں بھی برقع پر پابندی لگادی جائے ۔ حکومت کے اس فیصلہ کے خلاف افغانستان کے قبائل نے بغاوت کردی اور جنگ چھیڑ دی ۔ روس نے پوری فوج یہاں اتار دی اور پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا ۔ امریکہ کو روس کی یہ طاقت پسند نہیں آئی اس نے افغانستان عوام کو سپورٹ کیا۔ مذہبی جذبات بھڑ کایا ۔ روس کے خلاف جنگ کو امریکہ نے جہاد کا نام دیا ۔ امریکہ نے افغانستان اور پاکستان کے علما سے یہ کام لیا اور انہیں جہاد کی فضیلت پر تقریر کرنے کیلئے کہا، ہتھیاروں اور پیسوں سے بھر پور فنڈنگ کی ۔ افغانستان عوام نے روس کی فوج کا پوری طاقت کے ساتھ مقابلہ کیا اور بالآخر روس کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ 1989 میں روس نے افغانستان کو خالی کردیا ۔ اس شکست کا روس پر ایسا اثر پڑا کا اس کا کئی حصہ اس سے الگ ہوگیا ۔ عالمی سیاست میں بھی امریکہ کا اثر ورسوخ بڑھ گیا اور روس کا ڈاؤن ہوگیا۔ امریکہ کی اس مدد مقصد افغانستان کی بھلائی نہیں بلکہ روس کو کمزور اور مشرق وسطی سے بے دخل کرناتھا ۔
1990 کے بعد افغانستان میں کوئی مضبوط حکومت نہیں بن سکی ۔ امریکہ نے جو ہتھیار دیا تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خانہ جنگی شروع ہوگئی ۔ سب قبیلے نے اپنی الگ الگ حکومت بنالی ۔ اسی خانہ جنگی کے دوران کچھ لوگوں نے طلبہ کو منظم کرنا شروع کیا ۔ یہی طلبہ طالبان کے نام سے ابھرے اور ان کی قیادت کی ملا عمر نے ۔ طالبان نے کابل ، قندار سمیت کئی صوبوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت بنالی ۔ 1996 میں طالبان نے تقریباً پچانوے فیصد افغانستان پر قبضہ کرلیا اور بابضابطہ امارت اسلامی کا اعلان کردیا ۔ طالبان نے شریعت کا قانون نافذ کیا اور تقریباً پانچ سالوں تک حکومت کی ۔ حالاں کہ اس حکومت کو صرف تین ملکوں نے تسلیم کیا ۔ پاکستان ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ۔۔ ستمبر 2001 میں امریکہ کے ولڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ ہوا ۔ امریکہ نے اس حملہ کا الزام اسامہ بن لادن پر لگایا اور طالبان سے انہیں حوالے کرنے مطالبہ کیا ۔
طالبان نے کہاکہ اسامہ بن لادن ہمارے یہاں مہمان ہے ۔ بغیر ثبوت کے ہم حوالہ نہیں کرسکتے ہیں ۔ امریکہ پہلے ثبوت دکھائے اس کے بعد ہم حوالے کریں گے ۔ اس معاملہ کو جواز بناکر امریکہ نے 7اکتوبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کردیا ۔
کابل سے طالبان کی حکومت ختم ہوگئی ۔ طالبان کے رہنما نے الگ جگہوں پر پناہ لی ۔ 2004 میں امریکہ نے افغانستان میں ایک حکومت قائم کی جس کا صدر حامد کرزئی کو بنایا گیا ۔ طالبان نے امریکہ کے خلاف اپنی جنگ اور کوشش جاری رکھی ۔ اٹھارہ سالوں تک یہ جنگ جاری رہی لیکن طالبان نے ہار نہیں مانی اور امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ۔۔۔۔ سب سے پہلے دسمبر 2009ء میں امریکی ملٹری اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ میں کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما نے افغانستان سے امریکی افواج کے مرحلہ وار انخلاء کا اعلان کیا۔ اب ڈونالڈ ٹرمپ نے اس منصوبہ کو آگے بڑھانا شروع کردیا ہے ۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان سب سے پہلا مذاکرات اسی سال فروری میں ہوا ۔ یہ مذاکرات بہت اہم تھا ۔ براہ راست طالبان اور امریکہ اس میں شامل تھے ۔ کابل کی حکومت کو بھی فریق نہیں بنایا گیا تھا ۔ اس مذاکرات میں طالبان نے اپنے سبھی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ امریکی فوج کو یہاں جلدی نکل جانے کیلئے کہا اور امریکہ سبھی پر اتفاق کیا ۔ اسی مذاکرات میں یہ بھی طے پایا تھاکہ آگے کے معاملات حل کرنے کیلئے طالبان کی ایک میٹنگ افغان کی کابل حکومت کے ساتھ ہوگی ۔ مارچ میں یہ میٹنگ ہونے تھی لیکن طالبان نے کہاکہ ہمارے چھ قیدیوں کو پہلے رہا کیا جائے اس کے بعد مذاکرت ممکن ہے ۔ امریکہ نے یہ مطالبہ تسلیم کیا ۔ جس کے بعد بارہ فروری سے قطر کی راجدھانی دوحہ میں مذاکرات شروع ہوگیا ہے ۔ مذاکرات کے پہلے دن بین الاقوامی امداد، خواتین کے حقوق، فائر بندی اور اسلامی نظام کے نفاذ سمیت کئی دیگر معاملات پر بات چیت ہوئی۔
اگلے مہینہ نومبر میں امریکہ میں صدارتی چناؤ ہورہا ہے ۔ امریکی صدرٹرمپ کا منصوبہ ہے کہ چناؤ سے پہلے پہلے وہ افغانستان سے اپنی فوج نکالنے میں کامیاب ہوجائے اور طالبان کے ساتھ جاری ایک طویل جنگ اب بند ہوجائے ۔ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے اور وہ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی پر زور دیتے رہے ہیں۔ جن کی تعداد ان کی حکومت میں 12000سے زیادہ ہوگئی تھی۔ فروری میں امریکا اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد امریکی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا اور جولائی میں ان کی تعداد 8600 رہ گئی تھی اور امید کی جارہی ہے کہ مزید افواج کے انخلاءکے بعد اکتوبر تک ان کی تعداد گھٹ کر 4500 تک رہ جائے گی۔
ٹرمپ کو امید ہے کہ افغانستان سے افواج کی واپسی کے بعد امریکی ووٹروں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا، جو تقریباً بیس سالوں سے جاری اس مسئلے کی وجہ سے اکتا چکے ہیں۔امن مذاکرات کی راہ میں آخری رکاوٹ فرانس اور آسٹریلیا کی حکومت تھی ۔ ان دونوں کے شہریوں اور فوجیوں کو مارنے والے چھ طالبان قید میں تھے ۔ یہ ممالک نہیں چاہتے تھے کہ ان کو آزادی کیا جائے لیکن طالبان کا کہنا تھا کہ ان چھ افراد کی رہائی کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں اور امریکہ کو انہیں رہا کرنا پڑا۔ اس رکاوٹ کے خاتمے کے چند گھنٹے کے بعد ہی امن مذاکرات کے آغاز کا اعلان کردیا گیا۔طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی کے بعد ہی مذاکرات پر اتفاق کیا ۔
مذاکرات کے آغاز سے قبل کئی ممالک اور قوتوں نے فریقین پر جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زور دیا۔ صدر ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ وہ کابل حکومت کے لیے مالی امداد کو کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ طالبان افغانستان کہ ایک اسلامی ‘امارات‘ میں بدلنا چاہتے ہیں دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی کی خواہش ہے کہ مغربی حمایت یافتہ آئینی جمہوریہ کا نظام رائج رہے۔
مذاکرات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ گرچہ متعدد چیلنجز موجود ہیں تاہم فریقین کو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی تفصیلی امن معاہدے تک پہنچنا چاہیے۔ آپ ملک میں کس قسم کا سیاسی نظام چاہتے ہیں یہ فیصلہ آپ ہی کا ہے مگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تشدد کے سلسلے کو توڑنے کے لیے تمام افغان شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا درست راستہ ہے۔“ مستقبل میں افغانستان کو دی جانے والی مالی امداد کا دار و مدار دوحہ مذاکرات میں کیے گئے فیصلوں پر ہو گا۔ افغانستان کے لیے خصوصی امریکی مندوب زلمے خلیل زاد نے رپورٹرز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی روکنے کے علاوہ اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ بھی مالی امدادی کی وصولی کے لیے لازمی ہے۔
امریکہ کی کوشش ہے کہ ہمارے وہاں سے نکلنے کے بعد بھی ہمارا کنٹرول باقی رہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا طے کردہ نظام رہے گا ۔ طالبان مکمل طور پر امریکی مداخلت کے خلاف ہے ۔
مذاکرات میں افغان حکومت کے وفد کی قیادت سابق چیف ایگزیکیٹو اور افغان حکومت کی اعلیٰ مصالحتی کمیٹی کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کر رہے ہیں۔ اپنے ابتدائی بیان میں انہوں نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ عبداللہ عبداللہ نے کہا، ”اگر فریقین تمام نکتوں پر اتفاق نہ بھی کر پائے، تو بھی سمجھوتہ ضروری ہے۔ میرا وفد دوحہ میں ایک ایسے سیاسی نظام کی نمائندگی کر رہا ہے، جسے مختلف ثقافتوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے مختلف عوام کی حمایت حاصل ہے۔“
طالبان کے وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے اپنے ابتدائی بیان میں طالبان کا دیرینہ مطالبہ دہرایا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ ان کے بقول افغانستان میں اسلامی نظام نافذ ہونا چاہیے جس میں تمام قبائل اور نسلوں کے لوگ بلا امتیاز اپنی زندگیاں محبت اور بھائی چارے سے گزار سکیں۔
یورپی یونین اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دوحہ میں کابل حکومت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے آغاز کو سراہا ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائد اٹھاتے ہوئے ملک گیر سطح پر اور فوری جنگ بندی کریں۔ نیٹو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امن کے عمل میں پیش رفت اور حالات کو دیکھتے ہوئے افغانستان سے افواج کے انخلاء یا اس کی تعداد میں رد و بدل پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ نیٹو نے خبردار بھی کیا کہ امن عمل کے باوجود اس وقت افغانستان میں پر تشدد واقعات بہت زیادہ ہو رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل ژینس اشٹولٹن برگ نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہ بنے۔
افغانستان پچھلے 45 سالوں سے لگاتار حالت جنگ میں ہے ۔گوریلاجنگ اور بمباری کی وجہ سے وہاں امن و سکون ختم ہوچکا ہے ۔ معیشت وہاں کی تھپ پڑچکی ہے ۔ امریکی امداد پر افغانستان کا دار و مدار ہے ۔ افغانستان کے پاس تیل اور گیس نہیں ہے لیکن اس کے پاس سونا ،چاندی ،نمک ، کوئلہ سمیت کئی چیزوں کی کانیں ہے لیکن اب تک کوئی بھی حکومت استحکام نہ ہونے کی وجہ سے اس پر کام نہیں کرسکی ۔
ڈیل کے مطابق امریکی فوج اگر وہاں سے نکل جاتی ہے اور افغان شہری اپنی حکومت بنالیتے ہیں تو ممکن ہے کہ امن قائم ہوجائے ۔ امن قائم ہونے کیلئے ضروری ہے ایک مستحکم حکومت کا قیام لیکن یہ سب ابھی آسان نہیں ہے ۔
(مضمون نگار ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر اور پریس کلب آف انڈیا کے ڈائریکٹر ہیں )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *