بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے افغانستان کو ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا: اقوام متحدہ جنرل سیکرٹری

بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے افغانستان کو ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا: اقوام متحدہ جنرل سیکرٹری

اقوام متحدہ : بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے پیر کو افغانستان کی مدد کے لیے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے ، جو طالبان کے قبضے کے بعد سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریس نے جنیوا میں افغانستان کی صورتحال پر اجلاس کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد امداد کا وعدہ واضح طور پر سنا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ ہفتہ افغانستان کیلئے 606 ملین ڈالر کی امداد جمع کرنے کے لیے ہنگامی اپیل شروع کی تھی۔

ادھر افغانستان میں طالبان کے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین بے گھر افراد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کابل پہنچ گئے ہیں ۔ یو این ہائی کمشنر فلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ افغانستان کے لیے امدادی کی ضرورت ہے، 35 لاکھ بے گھرافراد کی صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔

اقوام متحدہ کا 60 کروڑ ڈالر کا مطالبہ

اقوام متحدہ جنیوا میں ایک امدادی کانفرنس کا انعقاد کررہی ہے ، جس کا مقصد افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد وہاں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے 60 کروڑ ڈالر سے زائد اکٹھا کیا جا سکے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مہینے طالبان کے کابل پر قبضے سے پہلے بھی آدھی آبادی یا ایک کروڑ 80 لاکھ لوگ امداد پر انحصار کرتے تھے۔ اقوام متحدہ کے عہدیداروں اور امدادی گروپس نے خبردار کیا کہ خشک سالی، نقدی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے یہ تعداد بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
جیو نیوز کے مطابق افغانستان کی مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے اور طالبان کی کامیابی کے بعد اربوں ڈالر کے غیر ملکی عطیات کا اچانک خاتمہ اقوام متحدہ کے پروگراموں پر مزید دباؤ ڈال رہا ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم مالی طور پر جدوجہد کر رہی ہے، ‘اس وقت اقوام متحدہ اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے کے قابل بھی نہیں ہے’۔
طلب کیے گئے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا تقریباً ایک تہائی حصہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) استعمال کرے گا ، جس نے اگست اور ستمبر میں سروے میں بتایا تھا کہ 1600 افغانوں میں سے 93 فیصد کو مناسب خوراک میسر نہیں جس میں سے زیادہ تر کے پاس اسے حاصل کرنے کے لیے نقد رقم نہیں تھی۔ ڈبلیو ایف پی کی ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر انتھیا ویب نے کہا کہ اب یہ وقت کی ضرورت ہے کہ افغان عوام کو زندگی بچانے میں مدد فراہم کی جاسکے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ہم واقعی میں بھیک مانگ رہے ہیں اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے سے بچنے کے لیے قرض لے رہے ہیں ۔
اقوام متحدہ کی ایک اور ایجنسی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن جو اس اپیل کا حصہ بھی ہے، عطیہ دینے والوں کے پیچھے ہٹنے کے بعد سیکڑوں صحت کی سہولیات کے بند ہونے کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *