اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے سالانہ فقہی سمینار کا انعقاد

المعہد العالی الاسلامی کے اشتراک وتعاون سے اکیڈمی کے دو فقہی سمینار (گزشتہ 29واں فقہی سمینار اورموجودہ 30 واں فقہی سمینار حیدرآباد میں منعقد ہوئے

حیدرآباد: (پریس ریلیز) اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 29ویں اور 30ویں فقہی سیمینارکا انعقاد ریاست تلنگانہ کے دار السلطنت اور تاریخی تہذیبی، علمی وادبی شہر حیدرآباد کے مشہور ومعروف تحقیقی ادارہ المعہد العالی الاسلامی میں مورخہ 1 تا 4/اکتوبر 2021کو عمل میں آیا، اکیڈمی کا 29واں سیمینار 2021 کے اواخر میں منعقد ہوناتھا لیکن بعض وجوہات اور رکاوٹوں کی وجہ سے منعقد نہیں ہوسکا، اور دیکھتے ہی دیکھتے سال 2021آگیا، لہذا اس طویل وقفہ کی وجہ سے یہ مناسب سمجھاگیا کہ دونوں سمیناروں کو ایک ساتھ منعقد کیاجائے، قرعۂ فال المعہد العالی الاسلامی کے نام نکلا، جو ظاہری اورمعنوی ہر دو لحاظ سے اسلامک فقہ اکیڈمی کے فقہی سمینار کے لیے موزوں مقام تھا۔
ان دونوں سمیناروں کی کل آٹھ نشستیں ہوئیں، جن میں افتتاحی اوراختتامی دو نشستیں بھی شامل ہیں، اس سمینار کاافتتاحی اجلاس یکم اکتوبرکی شام کو ہونا تھا، لیکن دو دن پہلے بہت زیادہ بارش کی وجہ سے اسے 2/ اکتوبر کی صبح منعقد کیا گیا، اس افتتاحی اجلاس میں ملک کے معروف ادارے دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث وتفسیر اور اسلامک فقہ اکیڈمی کے صدر حضرت مولانا نعمت اللہ اعظمی صاحب تشریف لائے اور اس اجلاس کی صدارت فرمائی، انہوں نے اپنے صدارتی کلمات میں فرمایا:جب اسلامک فقہ اکیڈمی قائم ہوئی تو بڑے علماء میں دوچار علماء کو چھوڑ کر سب کے ذہن میں یہ بات تھی کہ یہ کیسے وجود میں آئے گی، مگرآپ تمام حضرات جنہوں نے حصہ لیا اور کئی ایک سمیناروں میں شریک ہوئے ان کو شرح صدر ہوا، اوراسلامی فقہ کی برتری کا دوسرے مکاتب فکر پر اثر ہوا، پھر حضرت نے موجودہ دور کے تناظر میں مختلف مثالوں کی روشنی میں فقہ اسلامی کی افادیت اوراثرانگیزی پر پورے وثوق کے ساتھ اور طاقتور انداز میں بیان کیا، اور اس طرف بھی اشارہ کیا کہ قمار وسود جو بنیادی خرابی ہے، اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل اسلام نے بہت بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔
موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں بدنام کرنے کی بہت کوشش کی جارہی ہے، اور کی جائے گی؛ لیکن حالات بدلیں گے، عسی ربکم ان یرحمکم، پھراس کے بعد کشادگی کا وعدہ ہے، جو پورا ہوکر رہے گا، ایک اہم بات حضرت نے یہ فرمائی کہ قراآن میں قوم نوح کا ذکر ہوا کہ مرسلین کی انہوں نے تکذیب کی ،جب کہ نبی توایک ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ نبوت کے سلسلہ ہی کےمنکر ہیں،یہی حال ہمارے ملک کی بعض قوموں کا ہے۔
اخیر میں حضرت نے پھر لوگوں کو حوصلہ دیا کہ حالات ضرور اچھے ہوں گے یقین رکھیے، ہندوتوا سے آپ پست حوصلہ مت ہوئیے، مشکلات ضرور ہیں لیکن تادیر نہیں، اس گھٹا کو چھٹنا ہی ہے، ہاں ہم لوگوں کو اس کی تیاری کرنی چاہئے، اسلام پر اعتراض -جومحض پروپیگنڈہ ہے-اس کے دفاع کےلیےکوشش کرنی چاہئے، مفتی شاہد علی قاسمی معتمد تعلیم المعہد کے شکریہ کے ساتھ اس مجلس کا اختتام گیارہ بجے ہوا۔
اس افتتاحی نشست میں المعہد العالی الاسلامی کے نائب ناظم مولانا محمد عمر عابدین قاسمی مدنی نےمہمانوں کااستقبال کرتے ہوئے خطبۂ ستقبالیہ پیش کیا، اپنے استقبالیہ کلمات میں تمام مندوبین کا دلی شکریہ ادکیا، المعہد العالی الاسلامی اوراس کی خدمات کا مختصر تعارف پیش کیا، المعہد العالی الاسلامی کے شعبوں اور ان کی کارکردگی پر روشنی ڈالی ۔
اس نشست میں کلیدی خطاب پیش کرتے ہوئےحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب(جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی،بانی المعہد العالی الاسلامی )نے لاک ڈاؤن کی وجہ سے دارالعلوم وقف دیوبند میں تیاریوں کے باجود اجلاس کے التواء پر افسوس کا اظہار کیا اور ملکی وعالمی حالات کی وجہ سے اس اجلاس کی تشہیر نہ کرنے کی حکمت بیان کی، حضرت مولانا نےاسی موقع سے المعہد العالی الاسلامی کے دو منزلہ دارالتربیت کے سنگ بنیاد کی بات کہی ،جس میں تحتانی منزل میں آڈیٹوریم ہوگا جہاں تربیتی پروگراموں کا انعقاد ہوگا اورفوقانی منزل میں معہد کا کتب خانہ ہوگا کیونکہ معہد کے کتب خانہ کی موجودہ عمارت تنگ دامنی کا شکوہ کررہی ہے، آپ نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے اپنے ادارے کے مختلف منصوبوں اور پروگراموں کا اعلان کیا، کثیر المقاصد کیمپ کےا نعقاد کا بھی اعلان کیا، بالخصوص کتب خانہ میں ہندوستانیات کا شعبہ قائم کرنے کی بات بھی فرمائی ،لاک ڈاؤن کے درمیان فقہ اکیڈمی کی خدمات پر بھی آپ نے روشنی ڈالی ۔
حضرت مولانا محمد سفیان صاحب قاسمی نے اپنے خطاب میں دارالعلوم وقف دیوبند میں فقہ اکیڈمی کے اجلاس کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا اور ملکی حالات کی جانب اشارہ کیا ،آپ نےفرمایا کہ طلبہ ٔعلوم دینیہ پر کورونا کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، حضرات علماء کو چاہئے کہ وہ طلبہ کی حصول علم کے لئے نئے سرے سے ذہن سازی کریں، آپ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ جب مشکل حالات آتے ہیں تو ہمارے اکابر کا طرز عمل دو طرح کا رہاہے: اول یہ کہ اپنی استطاعت کے بقدر مقابلہ کریں اور دوسرے یہ کہ خاموشی اختیار کرکے حالات کے گزرجانے کا انتظار کریں ،ہم جس دور میں ہیں، یہ خاموشی کے ساتھ حالات کے جائزہ اوراس کے گزرجانے کے انتظار کا ہے، ہاں ہمت پست نہ ہو؛ بلکہ بلند رہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر حضرت مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے بھی مختصر ورچوئل خطاب فرمایا، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے منتظمین کو اجلاس کے انعقاد پر مبارک باد دی، دعاؤں سے نوازا اور فرمایا:دین قیامت تک کے لیے ہے، ہاں وقتی تغیرات ضرور ہوں گے اور انہیں کو حل کرنا علماء کی ذمہ داری ہےاوریہ اجلاس اسی مقصد کے لئے ہے، اللہ اسے اپنے مقاصد میں کامیاب کرے، اس موقع سےان حضرات کے علاوہ حضرت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب، حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب اوردیگر حضرات موجود تھے، اس افتتاحی نشست کی نظامت کے فرائض مولانا محمد اعظم ندوی(استاذ حدیث و فقہ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد) نے انجام دیئے۔
اسی نشست میں درج ذیل کتابوں کی رسم اجرا بھی انجام پائی:
(1) پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم :حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب
(2) محاضرات اصول فقہ : حضرت مولانا خالدسیف اللہ رحمانی صاحب
(3) آسان علم کلام :حضرت مولانا خالدسیف اللہ رحمانی صاحب
(4) احکام شرعیہ پر جہل (ناواقفیت) کااثر: مرتب: مفتی احمد نادر قاسمی
(5) مالی تعزیز شریعت اسلامی کی ر وشنی میں: مرتب: مفتی احمد نادر قاسمی
(6) ہیرے جواہرات کی خریدوفروخت مرتب: مفتی امتیاز احمد قاسمی
(7) انفارمیشن ٹکنالوجی-احکام ومسائل مرتب: مولانا صفدر زبیر ندوی
(8) کورونائی ادب: مولانا محمد اعظم ندوی
(۹) رشوت:احکام ومسائل: مولانا صابر حسین ندوی
افتتاحی نشست کے بعد ان تین دنوں میں چھ نشستیں ہوئیں، پہلی نشست کاموضوع” خواتین کا محرم کے بغیر سفر” تھا،اس کی صدارت حضرت مولانا مفتی عتیق احمد بستوی اور نظامت مفتی جنید عالم قاسمی صاحب نے فرمائی، اس موضوع پر عرض مسئلہ مولانا ظہیر احمد قاسمی کانپور اورمولانا نورالحق رحمانی نے پیش کیا، اس کے بعد شرکاء سمینار نے موضوع کے ہر پہلو پر بحث ومناقشہ کیا۔ نشست کے اخیر میں صدر مجلس حضرت مولانا عتیق احمد بستوی نے اس مسئلہ کا پس منظر بیان کیا، اور یہ بھی واضح کیاکہ حنفیہ کولوگ اہل الرائے کہتے ہیں، لیکن اس مسئلہ میں تمسک بالآثار میں احناف کا موقف واضح اور روشن ہے، انہوں نے اس موقع پر مقالہ نگاروں کو یہ بھی نصیحت کی کہ ائمہ پر نقد میں حد ادب کو ملحوظ رکھاجائے اور کوئی ایسی بات نہ کہی جائے جس سے سوء ادب کا شبہ ہو۔
اس کےبعد دوسری علمی نشست ہوئی، جس کا موضوع ’’ سدر ذریعہ :ایک اہم اصول‘‘تھا،اس نشست کی صدارت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے فرمائی، اورنظامت مولانا ولی اللہ مجید قاسمی صاحب کی تھی،عرض مسئلہ مولانا امانت علی قاسمی صاحب اور ڈاکٹر مفتی شاہجہاں ندوی نےپیش کیا۔اسی نشست میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فقہ اکیڈمی سے گہری وابستگی رکھنے والے حضرات کی رحلت پر کلمات تعزیت پیش کئے، جن حضرات کا صدمہ اسلامک فقہ اکیڈمی کو کوروناکی وباکے دوران اٹھانا پڑا ہے،ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
(۱)حضرت مولانا برہان الدین سنبھلیؒ صاحب۔
(۲)حضرت مولانا محمد قاسم مظفر پوری ؒصاحب۔
(۳)حضرت مولانا عبدالجلیل صاحبؒ
(۴)جناب مولانا امین عثمانیؒ ۔
آخر میں جناب صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے صدارتی خطاب فرماتے ہوئے سد ذریعہ اور فتح ذریعہ پر خطاب فرمایااور موبائل کے عام ابتلاء اوراس کی وجہ سےدرآئی خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کے سد باب پر زور دیا، حضرت مولانا مفتی سید محمد صادق محی الدین (سابق مفتی جامعہ نظامیہ )نے بھی اس مجلس کو خطاب کیااور اکیڈمی کی خدمات اورحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی کاوشوں کو سراہا، اوران ہی کی دعا پر یہ نشست ختم ہوئی۔
تیسری نشست مغرب کے بعد منعقد ہوئی،جس کا موضوع’’رویت ہلال سے متعلق چند اہم مسائل ‘‘تھا،اس نشست کی صدارت حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب اورنظامت مولانا اختر امام عادل قاسمی صاحب نے فرمائی، اس موضوع پرمفتی انور علی اعظمی صاحب ،اورمولانا ظفر عالم ندوی اور مولانا محبوب فروغ احمد قاسمی نے عرض مسئلہ پیش کیا۔
اس نشست کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں فلکیات کے ماہرین جناب پروفیسر نجم الحسن صاحب (مانو)سےاور مانچسٹر (برطانیہ) سے مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب نے بھی تصویر مسئلہ کرتے ہوئے شرکاء کو خطاب کیا، ان دونوں حضرات نے فلکیاتی علم کی روشنی میں بتایا کہ چاند کی پیدائش کیسے ہوتی ہے، اوراس میں کتنا وقفہ ہوناچاہئے کہ وہ دور بین یا ننگی آنکھوں سے نظرآئے۔مفتی ثمیر الدین قاسمی صاحب نے علماء پر زور دیاکہ وہ مون نیوی گیشن بھی سیکھیں تاکہ چاند کے مختلف منازل اور مدارج سے نہ صرف واقف ہوں ؛بلکہ جھوٹے گواہوں کی گواہی پر گرفت بھی کرسکیں۔
حضرت مولانا مفتی عتیق صاحب نےخطاب کرتے ہوئے کچھ اہم باتوں کی طرف اشارہ کیا: جیسے چاند کا مسئلہ انتظامی ہے اور علماء کے پاس انتظامی اختیارات نہیں لہذا وہ لوگوں کو خبر تو دے سکتے ہیں پابند نہیں کرسکتے،اور دوسری اہم بات یہ فرمائی کہ پڑوسی ملک پاکستان کے وفاق المدارس میں ہیئت پر تین کتابیں پڑھائی جارہی ہیں جب کہ ہندوستان میں مدارس سے ہیئت بے دخل کردیاگیاہے ،جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ علم ہیئت وغیرہ جس کا اوقات نماز اور دیگر عبادات جیسے روزہ اورحج وغیرہ سے تعلق ہے، کو نصاب میں داخل کیاجائے،اوریہ بھی فرمایاکہ اگر فلکیاتی علم کی رو سے چاند آنکھوں سے دیکھنا ممکن نہیں اور کوئی چاند کی گواہی دے تو اس کی گواہی قبول نہ کی جائےاوراس پر حضرت انس بن مالکؓ اور قاضی شریح کا واقعہ پیش کیا ۔
صدارتی خطاب میں حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب نے بعض مقالہ نگاروں کے اس استدلال کو غلط قراردیاکہ جیسے کسی شہر میں دوقاضی ہوسکتے ہیں ویسے ہی کسی شہر میں دو رویت ہلال کمیٹی ہوتو کوئی مضائقہ نہیں، آپ نے فرمایا:دو نہیں زائد قاضی ہوں تب بھی بیک وقت کوئی مسئلہ دوقاضی کی عدالت میں بیک وقت پیش نہیں ہوسکتا جب کہ رویت ہلال کمیٹی کاموضوع ایک ہی ہے،اس کےعلاوہ پولیس اور انتظامیہ کا بھی دبائو ہوتاہے کہ کسی ایک ہی دن عید منائی جائے کیونکہ وہ دو عیدوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتےہیں،اورایک شہر میں دو تین کمیٹیوں کے ہونے سے انتشار کا قوی اندیشہ ہے۔
25صفر مطابق 3اکتوبر کوچوتھی نشست منعقد ہوئی،جس کا موضوع ’’باغات میں پھلوں کی خریدوفروخت ‘‘تھا،صدارت حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب نے فرمائی اورنظامت مولاناراشد حسین ندوی صاحب کی تھی۔ عرض مسئلہ کی ذمہ داری مولانا خالد حسین نیموی اور مولانا مفتی عبدالرشید کانپوری صاحب نے نبھائی۔
حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب نے صدارتی خطاب میں فرمایا:کسی بھی مسئلہ میں جواز اور عدم جواز کی بات تحقیق کے بعد کہی جائے ورنہ بسااوقات پہلے جواز اور پھر تحقیق کے بعد عدم جواز کے فتوی سے عوام کو الجھن اور تشویش ہوتی ہے،عرفی معاملات میں ائمہ اربعہ کے یہاں سب سے زیادہ توسع حضرت امام احمد بن حنبلؓ کے یہاں ہے،اور ہمارے اکابر دیوبندکا مزاج بھی معاملات میں توسع کا ہے، حضرت گنگوہی کا ارشاد ہے کہ معاملات میں کسی بھی مذہب میں گنجائش ملے تو عوام کو وہ گنجائش فراہم کیاجاناچاہئےاور حضرت تھانوی کےمتعد د ایسے فتاوی ہیں جن میں انہوں نے معاملات میں آسانی کی خاطر دوسرے مسلک کے قول پر فتویٰ دیاہے یااس پر عمل کی گنجائش دی ہے، ایسے فتاویٰ کا مجموعہ بھی شائع ہوچکاہے۔
اس کے بعدپانچویں نشست کاانعقاد ہوا، جس کا موضوع ’’کورونا سے متعلق چند اہم مسائل‘‘ تھا، صدارت حضرت مولانا مفتی احمد دیولوی(خازن اسلامک فقہ اکیڈمی ) نے فرمائی،اور نظامت مفتی اقبال احمد قاسمی صاحب نے کی ، عرض مسئلہ کافریضہ مفتی محمد شاہد علی قاسمی صاحب نے انجام دیا۔
عرض مسئلہ کے بعد مناقشہ میں مولانا مصطفے عبدالقدوس ندوی،مولانا حذیفہ صاحب،مولانا خالد حسین نیموی،مولانا نذیر احمد کشمیری ،مفتی محمد عثمان گورینی، مفتی عبدالرشید کانپوری ،مفتی شاہ جہاں ندوی،مولانا سلطان کشمیری ،مولانا جمیل اختر جلیلی ،مفتی جنید عالم قاسمی وغیرہ ہم نے حصہ لیا۔
مناقشہ میں حصہ لیتے ہوئے حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:آج حالت یہ ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نماز پنجگانہ سے غافل ہے، دین سے اس کاتعلق صرف نماز جمعہ سے قائم اورباقی ہے، اگر ہم نے ان سے کہہ دیاکہ کورونا کی وجہ سے نماز جمعہ تم سے ساقط ہے تو وہ نہ ظہر پڑھیں گے اور نہ نماز جمعہ اور رفتہ رفتہ بالکل ہی دین سے غافل ہوجائیں گے اور یہ صرف مفروضہ نہیں بلکہ حقیقت ہے،جب حضرت تھانوی نے تعزیہ جیسی بدعت کو دین کی بقا اور حفاظت میں موثر ہونے کی صورت میں منانے کی اجازت دی ہے تو پھر جمعہ کا معاملہ تو بدرجہ اولیٰ اہم ہے،اس موقع سے حضرت علامہ ابراہیم بلیاوی کا قول بھی نقل کیا:جمعہ کی فرضیت دلائل قطعیہ سے اور جمعہ کے شرائط دلائل ظنیہ سے ثابت ہیں۔
اسی نشست میں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:فقہ اکیڈمی کاکام فتوی دینا نہیں ،بلکہ مفتیان کرام کیلئے سہولت فراہم کرنااور آزادانہ غوروفکر کا موقع فراہم کرناہے،یہ مقامی علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کوحکمت کےساتھ شرعی حکم سے واقف کرائیں،انہوں نے اس موقع سے رائے بریلی میں حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ کی خدمت میں چند روزہ قیام کی بات فرمائی اورکہاکہ ان کےا ستفسار پر میں نے جواب دیاکہ مجھ کو ماضی قریب کے مفتیان کرام میں سب سےزیادہ مناسبت حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ سے ہے، جس پر انہوں نے اس کی وجہ پوچھی تومیں نے بتایاکہ ان کے فتاوی میں عصری موافقت ہے،اس پر حضرت علی میاں ؒ نے میرے جواب کی تصویب اور تحسین فرمائی۔
حضرت مولانا مفتی احمد دیولوی صاحب نے صدارتی خطاب میں فرمایاکہ متعدد رویت ہلال کمیٹی اور تعدد جمعہ کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ بہت قدیم اوران کی طالب علمی کے زمانہ کا ہی ہے،انہوں نے اس موقع پر مساجد کی تعمیر میں حکومت کی جانب سے پابندیوں کے ضمن میں یہ اہم بات ارشاد فرمائی کہ مسجد کے نام پراجازت ملنا مشکل ہے، آپ عبادت گاہ کے نام پر اجازت حاصل کیجئے، اس سے آسانی ہوگی۔
اس سمینار کی آخری علمی نشست بعد نماز مغرب ہوئی،جس کا موضوع’’ سوشل میڈیا کااستعمال ‘‘تھا،صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی (جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی )نے فرمائی اورنظامت کے فرائض مفتی رحمت اللہ ندوی (استاد دارالعلوم ندوۃ العلماء ،لکھنو) نے انجام دیےاورعرض مسئلہ کا فریضہ ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی نے انجام دیا۔
حضرت مولانا مفتی عتیق احمد بستوی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا: الف سے ب اورب سے ہوتے ہوئے دوبارہ ب یا الف کی جانب مراجعت بسااوقات حکمت اورمصلحت کا تقاضابھی ہوتاہےاورجہاں تک تصویر کی حلت وحرمت کی بات ہے تواس پر فقہ اکیڈمی کے بارہویں سمینار میں جو بستی ضلع ،یوپی میں منعقد ہواتھا،اس پر بحث ہوچکی ہےاورحضرت قاضی صاحب نوراللہ مرقدہ کااس پر جامع تبصرہ ہے،اوریہ بھی ملحوظ رکھناچاہئے کہ بسااوقات کچھ چیزیں اصل اور مقصود ہوتی ہیں اورکچھ چیزیں ضمنی ، ضمنی امور مین خرابی اورقباحت سے اصل اور مقصود کی قباحت لازم نہیں آتی ،جیسے کہ اخبارات اورکتب میں بھی بسااوقات تصاویر ہوتی ہیں لیکن وہ ضمنی ہوتی ہیں اورمفسدہ پر بھی غورکرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ فساد غالب ہے یامغلوب ہے۔
حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے صدارتی خطاب میں فرمایا:سوشل میڈیا کا ابتلاعام ہے،اوراسی کے ساتھ اس کافائدہ اورنقصان بھی غیرمعمولی ہے،اس سے جہاں ایک جانب دعوت وتبلیغ اسلام اور امربالمعروف نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیاجاسکتاہے، وہیں اس کے ذریعہ بے حیائی اور فحاشی کو بھی فروغ دیا جاسکتا ہے،اس کے ذریعہ ظلم وتعدی کی راہ اپنائی جاسکتی ہے، ظالموں کواچھا اورمظلوموں کو برابتایاجاسکتاہے،جیساکہ یہودیوں نے میڈیا کے استعمال سے کیاہے،دوسری طرف سوشل میڈیا لوگوں کی ضرورت بن گیاہے،لاک ڈائون میں تعلیمی نظام اسی کا مرہون منت رہاہے،مطبوعہ اورغیرمطبوعہ کتابوں کا حصول اس کی وجہ سے بہت آسان ہوجاتا ہے،ان امور کےعلاوہ سوشل میڈیا کا استعمال روپے کمانے،تفریح کرنے،ماحول سازی اور اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے میں بھی نمایاں ہے،سوشل میڈیا کے استعمال پر تجاویز مرتب کرنے والوں کیلئے ضروری ہےکہ وہ ان امور کا گہرا تجزیہ کریں اورمزید فرمایا: سوشل میڈیا پر گمراہ فرقے اورگروہ بہت سرگرم ہیں جو اسلام کی تعلیمات کو مسخ کرکے پیش کرتے ہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ ان گمراہ فرقوں اور گروہوں کا علمی رد کیاجائے اور جہاں یہ گمراہ کن مواد موجود ہے ،وہیں اس کی تردید کی جائے،ورنہ سوشل میڈیا پر سرگرم مسلم نوجوانوں کی گمراہی کا قوی اندیشہ ہے،حضرت مولانا کے ان ہی کلمات کےساتھ یہ نشست ختم ہوئی ۔
ان تمام علمی مجلسوں میں بحث ومناقشہ ہونے کے بعد نتیجہ کے طورپر 26صفر مطابق 4اکتوبر کو تجاویز کی نشست منعقد ہوئی، جس کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی ،جب کہ نظامت حضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب کی تھی،اس نشست میں ڈاکٹر مولانا عبداللہ جولم (عمراآباد)،مولانا عبدالشکور قاسمی (کیرالہ)،مفتی نذیر احمد کشمیری،اورمفتی سعید الرحمن فاروقی(ممبئی)نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا،اس کے بعد کمیٹیوں کی جانب سے تیار کی گئی تجاویز کو شرکاء کے سامنےحضرت مولانا عبیداللہ اسعدی صاحب نے پیش کیااورپھر ہرموضوع پر بحث اورتبادلہ خیال کیاگیااورپھر اس کے بعد تمام موضوعات سے متعلق متفقہ طورپر تجاویز منظور کی گئیں۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com