رحمانی  30  کے طلبہ کی میڈیکل (NEET) کے مقابلہ جاتی امتحان میں صد فیصد کامیابی  محمد ضیاء بلال صوبہ بہار کے ٹاپر، پی ایچ سعدیہ کی صوبہ منی پور میں دوسری پوزیشن 

326

پٹنہ: (پریس ریلیز) میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا اور ڈاکٹر بننا ملک کے کروڑوں بچوں کی آرزو ہوتی ہے ۔ لیکن  ہر سال چند ہزار خوش نصیب ہی اس خواہش کو رو بہ عمل لانے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔ پرائیوٹ میڈیکل کالجوں کی ہوش ربا فیس کو ادا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں اور سرکاری میڈیکل کالجوں کی سیٹیں محدود ہیں ۔اس لیے لاکھوں کروڑوں بچے اپنی اس آرزو کو دل میں دفن کر کے دوسرے شعبوں میں قسمت آزمائی کرنے لگتے ہیں۔ سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ بہت مشکل ہے ۔ اس کے لیے ہونے والا مقابلہ جاتی امتحان نیٹ(NEET)  ملک کے مشکل ترین امتحانوں میں سے ایک ہے۔ اس کے لیے سخت تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ کوچنگ انسٹی ٹیوٹس لمبی لمبی فیسیں لیتیں ہیں ۔ ایسے میں ہماری قوم کے بچوں کے لیے اس شعبہ میں داخلہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ قوم کے بچوں کو ان کے بجٹ کے اندر معیاری تیاری کرا کر میڈیکل کے داخلہ امتحان میں کامیاب کرنے کے مقصد سے رحمانی 30 کے بانی مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے رحمانی 30 کے اندر نیٹ کی تیاری کا آغاز کیا ۔ اور الحمد اللہ حضرت کا لگایا ہوا پودا اب پھلدار درخت بن چکا ہے اور لاک ڈاؤن کے سخت مشکل ترین دور کا سامنا کرنے کے باوجود رحمانی 30 کے طلبہ نے نیٹ کے امتحان میں صد فیصد کامیابی حاصل کر کے حضرت کی روح کو سکون پہونچایا ہے۔

لاک ڈاؤن کے درمیان دیگر اداروں کے طرح رحمانی 30 کو بھی مختلف چیلنجز کا جب سامنا ہوا اور حضرت امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی صاحب رحمانی علیہ الرحمہ کے سامنے ان مشکلات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ پریشانیاں جیسی بھی ہوں، ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی جانب سے پوری طاقت وتوانائی صرف کردیں، نتیجہ دینا اللہ کا کام ہے۔ اور پھر جب اِس بات پر عمل کرتے ہوئے مشکلات کے باوجود تعلیم کو جاری رکھا گیا تو الحمد اللہ رحمانی 30  کے طلبہ و طالبات نے میڈیکل (NEET) میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ محمد ضیاء بلال صوبہ بہار کے ٹاپر رہے، آل انڈیا کٹیگری رینک کے تیسرے پائیدان پر رہتے ہوئے انھوں نے آل انڈیا رینک 19 حاصل کیا۔ اس کے علاوہ پورے ہندوستان میں مسلم طلبہ میں بھی وہ سب سے نمایاں مقام پر رہے۔ رحمانی 30 بنگلور کی طالبہ پی ایچ سعدیہ بھی میڈیکل (NEET) میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے صوبہ منی پور میں دوسرے مقام پر رہیں۔ یقیناً رحمانی 30 کے لیے یہ ایک کامیاب ترین سال رہا ہے۔

واضح رہے کہ میڈیکل (NEET) میں 166 طلبہ وطالبات نے شرکت کی تھی جس میں تمام طلبہ نے کامیابی حاصل کی، جب کہ پینتیس طلبہ نے  600 سے زائد نمبرات حاصل کیے۔ جو کہ ایک بہت بڑی حصولیابی ہے۔ اس کے علاوہ  78 طلبہ وطالبات نے پانچ سو پچاس سے زائد نمبرحاصل کیے۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان شاء اللہ MBBS کی سیٹ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ یقینا یہ کامیابی مسلم طلبہ وطالبات کے لیے روشن مستقبل کی ایک شاندار ضمانت ہے۔

میڈیکل کے علاوہ رحمانی 30 کے طلبہ وطالبات نے انجینئرنگ میں انڈر گریجویٹ داخلے کے دنیا میں سب سے سخت گیر امتحان میں سے ایک JEE Advanced میں کووڈ کے باوجود شاندار کامیابی حاصل کی ہے.

COVID-19 کے اس عالمی وبا کے دوران بھی ان بہترین نتائج سے رحمانى پروگرام آف ایکسیلنس (رحمانی 30) کی پوری ٹیم ہمت افزا اور مطمئن ہے. رحمانی پروگرام آف اکسلنس کے ذمہ داروں نے دونوں لاک ڈاؤن میں آن لائن کلاسیز اور ٹیسٹ کا نظام جاری رکھا، طلبہ کے ساتھ صبح وشام بے پناہ محنت  کی گئی. حالاں کہ ان تمام تر محنتوں کے باوجود طلبہ کی کارکردگی اور بہتر ہوتی اگر وسائل کی کمی جیسے کہ کمپیوٹر،  مستحکم انٹرنیٹ، بجلی کی موجودگی،  وغیرہ کا اور بہتر نظام ہوتا، ان وجوہات کی وجہ سے کامیابی کا یہ عمل اور مشکل بن گیا تھا۔ مذکورہ بالا سہولیات کے ساتھ کارگردی کو اور بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
رحمانی پروگرام آف اکسلنس ملک کے کئی شہروں میں کام کر رہا ہے جیسے پٹنہ، جہان آباد (بہار) اورنگ آباد، خلد آباد (مہاراشٹر)حیدرآباد اور  بنگلور، بلور (کرناٹکا)  میں ملک کے متعدد صوبوں کے علاوہ خلیج ممالک میں رہنے والے این آر آئی طلبہ وطالبات بھی پوری محنت کے ساتھ میڈیکل و انجینئرنگ کی تیاری میں مصروف ہیں۔

رحمانی پروگرام آف اکسلنس (رحمانی 30) اپنی سرپرست تنظیم رحمانی فاؤنڈیشن کے ساتھ بہت مؤثر انداز میں کمیونٹی کی تعلیمی نا امیدی کو امید اور یقین میں بدل رہا ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ یہ اپنے سیکھنے کے طریقہ کار کو مؤثر بنا رہا ہے۔ حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سرپرست رحمانی 30 نے کہا کہ یقیناً یہ سب مفکر اسلام  امیر شریعت سابع حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی علیہ الرحمہ (بانی رحمانی 30) کی دعاؤں کی قبولیت اور مسلم طلبہ و طالبات کے لیے دیکھے گئے خواب کی تعبیر ہے۔ جناب فہد رحمانی (سی ای او رحمانی 30) نے کہا کہ یقینا یہ کامیابی جناب ابھیانند جی سابق ڈی جی پی بہار کی انتھک محنت و رہنمائی، سینئر لیڈر شپ، فیکلٹی، مینجمنٹ ودیگر عملہ کے ساتھ طلبہ اور ان کے گارجین  کے باہمی تعاون ہی کی وجہ سے ممکن ہوسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم سب کا باہمی تعاون نا ہو تو ایسی تاریخ ساز کامیابی کا حصول ہرگز ممکن نہیں۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com