بے باک صحافت کا کمال

معصوم مرادآبادی

ads

صبح کی اولین ساعتوں میں صحافی کمال خان کی اچانک موت کی اطلاع ملی تو کافی دیر تک اس پر یقین نہیں آیا۔ یوں محسوس ہوا کہ ابھی تھوڑی دیر میں وہ خوداین ڈی ٹی وی کے اسکرین پر نمودار ہوکر اس ’افواہ‘ کی تردیدکردیں گے۔ لیکن جب میں نے رویش کمار کو این ڈی ٹی وی کے اسکرین پر اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے سنا تو دل بھر آیا۔

کمال خان واقعی باکمال صحافی تھے۔ میں انھیں ادین شرما،ایس پی سنگھ اور ونودووا کی صف کے ان صحافیوں میں شمار کرتا ہوں جنھوں نے ہر قیمت پر سچ بولتے رہنے کی قسمیں کھائیں اور مرتے دم تک اس پر قایم رہے۔ کمال خان جب بھی اسکرین پر نمودار ہوتے تو سچ ہی بولتے تھے۔ انھوں نے ایک ایسے دور میں سچائی کا دامن آخری وقت تک تھامے رکھا جب میڈیا میں جھوٹ کی حکمرانی ہے۔ انھوں نے ٹی وی رپورٹنگ میں ایک نیا طرز ایجاد کیا تھا۔ مجھے اس میں لکھنؤ کی قصہ گوئی کا لطف آتا تھا۔ وہ نہایت دھیمے لب ولہجہ میں قصوں کی طرح خبروں کو دل میں اتارتے چلے جاتے تھے۔ جن لوگوں نے مایہ ناز لکھنوی صحافی ونود مہتہ کی آپ بیتی پڑھی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ گنگا جمنی تہذیب اور اجلی معاشرت کے لیے ممتاز لکھنو شہر کیسے کیسے کھلنڈروں کی پناہ گاہ تھا۔ کمال خان ایسے ہی لوگوں کی آخری نشانیوں میں سے ایک تھے۔

کمال خان سے میری کوئی زیادہ شناسائی نہیں تھی۔ ہاں مارچ 2015 میں جب مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے اپنے کیمپس میں صحافیوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا تو میں اور کمال خان یونیورسٹی کے ایک ہی گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہوئے اور ان سے براہ راست بات چیت کا موقع ملا۔ یہ دو دن ہم نے لذیذ حیدرآبادی کھانوں اور مباحث کے درمیان گزارے۔ اس کانفرنس کی تھیم تھی ” مسلمان، جمہوریت اور ذرائع ابلاغ: چیلنجز اور امکانات“۔ کانفرنس کے شرکاء میں این۔ رام، راج دیپ سرڈیسائی، ویدپرتاپ ویدک، شیکھر گپتا، ونودشرما، سعید نقوی، اسدمرزا اور سوپن داس گپتا جیسے بڑے صحافی شامل تھے۔ کمال خان اور میں کانفرنس کے ایک ہی سیشن میں ساتھ ساتھ تھے۔ انھوں نے بڑے سلیقے اور قرینے سے اپنی بات کہی۔ان میں بلا کی خود اعتمادی تھی اور معاملہ فہمی بھی۔

عام خیال یہ ہے کہ ٹی وی اینکر اسکرین پر جو کچھ بولتے ہیں، وہ انھیں لکھ کر دیا جاتا ہے اور اس میں ان کی اپنی کسی صلاحیت کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔یہ بات بڑی حد تک درست بھی ہے، لیکن کمال خان صرف اینکر نہیں تھے۔ وہ ایک باشعور صحافی تھے اور ان کی تربیت ’نوبھارت ٹائمز‘ اخبار میں باشعور صحافیوں کے درمیان ہوئی تھی۔

وہ اہل زبان تھے۔این ڈی ٹی وی پر وہ براہ راست رپورٹنگ کرتے تھے اوران کا بیانیہ دوسروں سے قطعی مختلف تھا۔ وہ جب اسکرین پر نمودار ہوتے تو لوگ سب کچھ چھوڑکر انھیں سننا چاہتے تھے۔ این ڈی ٹی وی پر انھوں نے دو دہائیوں تک اپنے کیریر کی بہترین رپورٹنگ کی اور ٹی وی جرنلزم میں ایک علیحدہ شناخت بنائی۔ اپنے پروفیشن سے ان کی عقیدت اور گہری دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی ناگہانی موت سے چند گھنٹے قبل تک وہ پرائم ٹائم کے لیے لکھنؤ سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ اترپردیش کے سیاسی اور سماجی حالات پر ان کی گرفت سب سے زیادہ مضبوط تھی۔

 وہ ایک بہت مشکل دور میں سچی اور کھری صحافت کا پرچم بلند کئے ہوئے تھے۔ ایک ایسے دور میں جب ٹی وی جرنلزم کے بیشتر صحافی پیٹ کے بل چل رہے ہیں، وہ ایک کھرے پٹھان کی طرح سینہ تان کر چل رہے تھے۔ یہ جرأت اور بے باکی ان ہی لوگوں کا شعار ہوسکتی ہے، جنھوں نے اپنی کشتیاں جلا ڈالی ہیں۔ اگر آپ ٹی وی جرنلزم کے موجودہ منظرنامے پر نظر ڈالیں تو آپ کو کمال خان کی قبیل کے چند ہی صحافی نظر آئیں گے۔ کمال خان صرف صحافت کی باریکیوں سے ہی آشنا نہیں تھے بلکہ انھیں بے باکی کے ساتھ اپنی بات کہنے اور اس پر ڈٹے رہنے کا ملکہ تھا۔ اگر آپ ان کے کیریر پر نگاہ ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ صاحبان اقتدار سے ان کی کبھی نہیں بنی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ چاپلوسوں کی صف میں شامل نہیں تھے بلکہ سچائی کو ہر قیمت پر اجاگر کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔

کمال خان نے ایک ایسے دور میں آنکھیں موندی ہیں جب اس ملک کو ان جیسے صحافیوں کی بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ سچ پر پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں اور جھوٹ کو اس شدت کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے جیسے کہ یہی سب سے بڑا سچ ہو ۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان یہ لڑائی نئی نہیں ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے، یہی سب کچھ ہورہا ہے۔ لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے والوں کی تعداد روزبروز کم ہوتی چلی جارہی ہے اور یہی سب سے بڑا روگ ہے جو موجودہ حکمرانوں کے اقتدار میں اس ملک کی صحافت کولاحق ہے۔

کمال خان کے اچانک انتقال پر میڈیا اور شائقین میں صف ماتم بچھ گئی ہے۔ تمام بڑے اور جینوئن صحافیوں نے انھیں اور ان کی بے باک صحافت کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان کے ساتھی اور ملک کے سب سے سچے ٹی وی صحافی رویش کمار کا ٹوئٹ اس مضمون کا اختتام ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ” پھر کوئی دوسرا کمال خان نہیں ہوگا۔ بھارت کی صحافت آج تہذیب سے ویران ہوگئی۔ وہ لکھنؤ آج خالی ہوگیا جس کی آواز کمال خان کے لفظوں سے کھنکتی تھی۔ این ڈی ٹی وی پریوار آج غمگین ہے۔ کمال کے چاہنے والے کروڑوں شائقین کا دکھ اونچی لہر بن کرامڈ رہا ہے۔ الوداع کمال سر“

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com