ملت کا مشترکہ پیغام

پس آئینہ :شمس تبریز قاسمی
کسی بھی قوم کی کامیابی و کامرانی اس کے افراد کے باہمی اتحاد میں مضمر ہے، جس طرح پانی کا قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے اسی طرح انسانوں کے متحد اور مجتمع ہونے سے ایسی اجتماعیت تشکیل پاتی ہے جس پر نگاہ ڈالتے ہی دشمن وحشت زدہ ہو جاتا ہے اور کبھی بھی اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، قرآنِ مجید نے ہمیں اپنے زمانہ نزول سے ہی یہ راز سکھا دیا تھا ،تُرہِبُونَ بِہِ عَدُوَّ اللہ وَعَدُوَّکُم۔ترجمہ: تم اس ( طاقت وصف بندی )کے ذریعہ اپنے اور خدا کے دشمنوں کو خوف زدہ کرو۔
گذشتہ دنوں ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے بینر تلے ایک ایسا ہی اتحاداور اجتماع دیکھنے کو ملاجہاں عرصہ دراز بعد تمام مکاتب فکر اور اہم ملی تنظیموں کے رہنما ایک ساتھ بیٹھ کر اپنی طاقت ،اہمیت اور قوت کا بھر پورمظاہرہ کررہے تھے ،حکومت وقت کو مخاطب کرکے صاف لفظوں میں سبھی کہ رہے تھے کہ مسلم پرسنل لاء میں ہمیں کسی طرح کی مداخلت منظور نہیں ہے ،اسلام ایک دائمی اور آسمانی مذہب ہے ،یہ تاابدرہنے والی شریعت ہے،اس میں کسی طرح تبدیلی نہیں کی جاسکتی ہے ،کسی بھی انسان کو اس خدائی قانون میں تحریف کا اختیار نہیں دیا گیاہے،سماجی اصلاح کے نام پر قرآن کے خلاف کوئی بھی قانون ناقابل برداشت ہے ،اسلام میں خواتین کوآج سے چودہ سوسال قبل وہ تمام حقوق دے دیئے گئے تھے جس پر آج دنیا کی نام نہاد مہذب قومیں مذاکرات کررہی ہیں،مذہبی آزادی مسلمانوں کا آئینی حق ہے ،شریعت سے دورکرنے والی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ۔
طلاق ثلاثہ کے نام پر شریعت میں مداخلت اور یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے تعلق سے حکومت کے گمراہ کن موقف کا جواب دینے کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں اور اہم ملی تنظیموں کے سربراہوں کو اکٹھاکرکے تاریخی کارنامہ انجام دیاہے ،ملی تنظیموں کی 13 اکتوبر کو انسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کا پیغام بہت موثر ثابت ہواہے، اس کا اثر بہت دورتک پہونچاہے،ملک کے گوشے گوشے تک مسلمان بیدارہوگئے ہیں،بوڑھے بچے نوجوان ،مردعورت ،امیر غریب ،مدارس اور عصری جامعات کے طلبہ وطالبات سبھی مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کا نعرہ لگارہے ہیں ،مذہبی آزادی کیلئے ہر ممکنہ قربانی پیش کرنے کا عزم وحوصلہ ظاہرکررہے ہیں،حکومت بھی لرزہ براندام ہے ،اپنے موقف کو ثابت کرنے کے بجائے وہ لوگ اب پلہ جھاڑرہے ہیں ،حکومتی ترجمان ٹی وی چینلوں پر اب گول مول باتیں کرنے لگے ہیں ،کوئی یہ کہ رہاہے کہ یکساں سول کوڈ سے حکومت کا کوئی لینا دینانہیں ہے تو کوئی یہ کہ رہاہے کہ طلاق ثلاثہ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے حکومت نے محض حلف نامہ دائر کیاہے، اندرونی ذرائع سے یہ خبر بھی معلوم ہوئی ہے کہ حکومت نے قدم پیچھے ہٹالیا ہے ،بھلے ہی وہ اپنا حلف نامہ واپس نہیں لے گی لیکن اس موقف پر وہ اٹل بھی نہیں رہے گی ۔
آل انڈیامسلم پرسنل بورڈ کیلئے اس وقت سب سے اہم چیلینج سپریم کورٹ میں اپنے موقف کو ثابت کرنااور مرکز کے موقف کے خلاف اپنے دعوی کو مضبوطی سے ثابت کرنا ہے ،مرکز نے طلاق ثلاثہ کو ختم کرنے کیلئے جودلیلیں دی ہیں اس میں ان بائیس ملکوں کا حوالہ بہت اہم ہے جن کے بارے میں یہ بتلایاگیا ہے کہ وہاں تین طلاق پر پابندی ہے ،میڈیا میں زیادہ اسی کو موضوع بحث بنایا جارہاہے ،اس لئے بورڈ کو اس کی مکمل تحقیق کرکے موثر جواب دینا ہوگا اور جن ملکوں کے بارے میں پیروپیگنڈا کیا جاہاہے وہاں کی صحیح صورت حال سے آگاہ کرناہوگا،بھارتیہ مسلم مہیلاآندولن بھی سپریم کورٹ میں تین طلاق کو ختم کرنے کیلئے مقدمہ لڑرہی ہے ،کچھ دنوں قبل اس تنظیم کی سربراہ محترمہ ذکیہ سومن نے وزیر اعظم نریندر مودی کو یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کیلئے خط بھی لکھاتھا،میرے خیال میں بورڈ کو چاہئے کہ وہ ان خواتین کو مذاکرات کی دعوت دیں،ان کے حقیقی مسائل جاننے کی کوشش کریں،جوخواتین سرکاری عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑرہی ہیں ان سے بھی رابطہ کرکے ان کے مسائل جاننے کی تحریک چلنی چاہئے ،ان سب حقائق کو جاننے کے باوجودکہ بھارتیہ مسلم مہیلاآندولن کی سر پرستی پس پردہ کہیں سے اورسے ہورہی ہے ،جس خاتون کو کبھی اپنے علاقائی پولس اسٹیشن میں جانے کی جرات نہیں تھی وہ آج سپریم کورٹ میں کس کی مدد سے مقدمہ لڑرہی ہے اور مہنگے ترین وکلاء کی فیس کہاں سے اداہورہی ہے ،نیز ٹی وی چینلوں پر آنے والی یہ زیرو فیصد خواتین کسی کیلئے آئیڈیل اور نمونہ نہیں ہے اور نہ ہی مسلم خواتین پر ان کی باتوں سے کوئی اثر پڑسکتاہے ،بورڈ کی دستخطی مہم میں شامل ہوکر ملک بھر کی خواتین نے مذہب سے اپنی سچی محبت اور عقیدت کا وافر ثبوت بھی پیش کردیاہے۔
آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ نے تمام قیادت کو متحدکرکے تاریخی اور قابل ستائش کارنامہ انجام دیا ہے اور یہ سلسلہ عملی طور پر جاری رہناچاہئے ،موقع بہ موقع بورڈ کے زیر اہتمام تمام مکاتب فکر اور اہم تنظیم کے رہنماؤں کا مشترکہ اجتماع ہونا چاہئے ،میڈیا پر خاص توجہ مرکوز کرنی چاہئے ،وہ تمام مسلم اسکالر س سے جو ٹی وی چینلوں پر جاکر اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہیں بورڈ کو ایسے تمام لوگوں کیلئے ورکشاپ کا اہتمام کرناچاہئے ،ان کیلئے ایک لائحہ عمل طے ہونا چاہئے ،نوجوانوں کو بھی بورڈ کا حصہ بنانا چاہئے ،مدارس اور یونیوسٹیز کے طلبہ کے درمیان مسلم پرسنل لاء کی اہمیت پر مباحثہ اور پروگرام کا انعقاد ہونا چاہئے ،تمام مساجدکے ائمہ کو مربوط کرکے موقع بہ موقع انہیں ہدایات بھیجے جائیں ،سماجی اصلاحات پر ان سے خطاب کرنے کی تلقین کی جائے ،ساتھ ہی بڑی تعداد میں ملک کے ضلع اور سب ڈویزن مین دارالقضاء کا قیام عمل میں لایاجائے ۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کاواحد نمائندہ پلیٹ فارم ہیں ،تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں اور مذہبی رہنماؤں کا اتحادجلی حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے،دیوبندی ،بریلی اور جماعت اسلامی کے علاوہ اہل حدیث اور شیعہ مسلک کے رہنما بطور خاص قابل ذکر ہیں جو مسلک سے اوپر اٹھ کر ملی اتحاد کا ثبوت پیش کررہے ہیں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ کھڑے ہیں،یہ سلسلہ یوں جاری رہنا چاہئے ۔
کیوں کہ
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
(کالم نگار ملت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں)
stqasmi@gmail.com

SHARE