ہندوستان کی آزادی میں علماء کرام کا کردار

شمس تبریز قاسمی

ہندوستان کی آزادی کی تاریخ علماءکرام کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے ۔بھارت کی آزادی مدارس کی مرہون منت ہے ۔دینی مدرسوں اور یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے فضلاء اور علمائے کرام نے ہی پورے دیش میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا اور انگریزوں بھارت چھوڑ و کی تحریک چلائی تھی ۔ ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کیلئے ہی دارالعلوم دیوبند جیسا ادارہ قائم کیا گیا تھا ۔ جنگ آزادی کی تاریخ کا یہ اہم باب ہے جس کو دیش کے صحافی ، مورخ ، دانشور نظر انداز کردیتے ہیں۔

ہندوستان کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والے اور انگریزوں کے خلاف ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلے کرنے والے مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ رول ادا کیا جن میں خاص طور پر یہ علماءکرام شامل ہیں۔ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی، مولانا شاہ اسحاق دہلوی، مولانا عبدالحئی بڈھانوی، مولانا ولایت علی عظیم آبادی، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا عبداللہ صادق پوری، مولانا نذیر حسین دہلوی۔

 مفتی صدرالدین آزردہ، مفتی عنایت احمد کاکوری،مولانا فرید الدین شہید دہلوی، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی، قاضی عنایت احمد تھانوی، قاضی عبدالرحیم تھانوی، حافظ ضامن شہید، مولانا رحمت اللہ کیرانوی، مولانا فیض احمد بدایونی، مولانا احمد اللہ مدراسی، مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا رضی اللہ بدایونی، مولانا ابوالکلام آزاد، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری،مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا شوکت علی رام پوری، مولانا عبید اللہ سندھی، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا کفایت اللہ دہلوی، مولانا سیف الرحمن کابلی، مولانا وحید احمد فیض آبادی، مولانا محمد میاں انصاری، مولانا عزیر گل پشاوری، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری، مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد۔ مولانا احمد سعید دہلوی۔

 مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، مولانا شبیر احمد عثمانی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری۔ مولانا کرامت علی جونپوری۔ مولانا عنایت علی صادق پوری۔ مولانا محمد میاں دہلوی، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، مولانا احمد علی لاہوری، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نورالدین بہاری۔ اب آئیے جانتے ہیں کہ کب علماء کرام نے انگریزوں کے خلاف جنگ کی ضرورت محسوس کی ۔

1608 عیسو ی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں قدم رکھا تھا۔ مغل شہنشاہ جہانگیر سے تجارتی معاہدہ کرنے کے بعد 1615 سے انگریزوں نے تجارت کا آغاز کیا ۔ 55 سال بعد 1670 میں برطانیہ کی حکومت نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام فرمان جاری کرکے کہاکہ وہ ہندوستان میں جنگ کی شروعات کردے اور اسے برطانیہ کا حصہ بنائے ، برطانیہ حکومت نے کمپنی کو فوج اور اسلحہ بھی فراہم کردیا ۔ ایسٹ کمپنی کی پہلی جنگ 1686 میں مغل فوج کے ساتھ ہوئی اور انگریزوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

 مغل فوج کے ساتھ انگریزوں کی دوسری جنگ 1695 میں ہوئی ۔ اس جنگ میں بھی انگریزوں کی بدترین ہار ہوئی ۔ اس جنگ کے بعد مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر نے ایسٹ انڈیا کمپنی پر پورے ہندوستان میں پابندی لگادی ، انگریزوں کی زیادہ تر فیکٹریوں کو تباہ و برباد کردیا ، مکھیوں کی طرح انگریز افسروں کو مار کر باہر نکال دیا۔ اس واقعہ کے بعد برطانیہ کی حکومت نے براہ راست اورنگزیب عالمگیر سے معافی طلب کی ۔ جنگ کے اسباب کیلئے سرکاری سطح پر مذمت کی ، حکومت کے اعلی افسران کو تحریری نامہ لیکر مغل دربار میں بھیجا اور دوبارہ تجارت کی اجازت طلب کی ۔ آخر کار اورنگزیب نے معاف کرکے دوبارہ تجارت کی اجازت دے دی ۔ 1707 میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات ہوگئی ۔ اس کے بعد انگریزوں نے اپنی طاقت کو بڑھانا شروع کردیااور دھیر دھیرے اضافہ کرلیا ۔

 بنگال کے حکمراں نواب سراج الدولہ نے انگریزوں کی بڑھتی طاقت کوروکنے کا فیصلہ کیا اور اس کو اپنی سرگرمیاں بڑھانے سے روک دیا جس کے بعد 1756 میں کولکاتا پر حملہ کرکے کمپنی کے قلعہ پر قبضہ کرلیا ۔ اگلے سال 1757 میں پلاسی کے میدان میں انگریزوں اور سراج الدولہ کی فوج کے درمیان جنگ ہوئی ، میر جعفر نے غداری کی اور انگریزوں کی جیت ہوگئی ۔ ہندوستانی حکومت کے خلاف انگریزوں کو یہ پہلی جیت ملی اور اس کے بعد اس کی طاقت بڑھنے لگی ۔1765 میں مغل بادشاہ شاہ عالم کو بھی انگریزوں کے مقابلہ میں ہار ملی اور بنگال ، بہار، اڑیسہ مکمل طور پر انگریزوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ 1799 میں ٹیپوسلطان بھی انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے ۔

ٹیپو سلطان کے بعد انگریزوں کے خلاف لڑنے والی اور کوئی چھوٹی بڑی سلطنت ہندوستان میں باقی نہیں رہ گئی تھی ، جو نواب اور راجا تھے وہ انگریزوں کے ساتھ ملے ہوئے تھے ،کمپنی کو ٹیکس دیکر اپنی حکومت کو باقی رکھے ہوئے تھے ۔ انگریزوں کا قبضہ تھا ، آزادی ختم ہوچکی تھی ، مغلیہ سلطت لال قلعہ کی چہار دیواری میں محدود تھی، چھوٹے راجا اور نواب انگریزوں کی کٹھ پتلی بن چکے تھے ۔ اس مشکل وقت میں علماء کرام نے خود انگریزوں کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا ، ہندو اور مسلمانوں دونوں کو متحد کرنے کی پلاننگ کی اور آزادی کی لڑائی کی تیاری شروع کردی ۔انگریزوں کے خلاف جنگ اور جہاد کے تحریک کی شروعات سب سے پہلے مشہور عالم دین اور محدث شاہ عبد العزیز دہلوی نے کی ۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے زمانے میں انگریزوں کو زیادہ کامیابی نہیں ملی ہوئی تھی لیکن انہوں نے ایسٹ کمپنی کے ناپا ک عزائم کا اندازہ لگایا تھا اس لئے اپنی وفات سے قبل ہی پوری دوراندیشی کے ساتھ بتادیاتھا کہ ہندوستان کا مستقبل کیسا ہوگا۔ اس لئے جنگ کی نشاندہی کردی اہل وطن کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے والی انگریز حکومت کو درہم برہم کردینے کی تلقین کی ۔ اس کے لیے طاقت کے استعمال پر بھی زور دیا۔ 1762 میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا انتقال ہوگیا ۔ ہر اگلے دن شاہ ولی اللہ رحمہ کی پیشن گوئی ثابت ہونے لگی ، انگریزوں کا ظلم وستم واضح طور پر سامنے لگے ، ایسٹ انڈیا کمپنی نے یکے بعد دیگر علاقوں پر قبضہ شروع کردیا ۔ سندھ آسام، برما، اودھ، روہیل کھنڈ، جنوبی دوآبہ، علی گڑھ، شمالی دوآبہ، مدراس وپانڈی چری وغیرہ انگریزوں کے زیر تسلط آگئے اور پھر وہ وقت بھی آپہنچا جب دہلی پر بھی کمپنی کی حکومت قائم ہوگئی اور مغل بادشاہ کا صرف نام رہ گیا تھا۔

 شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے مشن کو آگے بڑھانے کا فیصلہ ان کے بڑے بیٹے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے کیا اور اٹھارہویں صدی کے شروع میں ہی برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کا منظم آغاز کیا، انگریزوں کے خلاف تاریخ ساز فتویٰ صادر فرمایا کہ ہندوستان دارلحرب ہوچکاہے اور انگریزوں کے خلاف جہاد فرض ہے ۔ یہ فتویٰ جنگل کی آگ کی طرح ملک کے کونے کونے میں پہنچ گیا۔ 1818 میں عوام کی ذہن سازی کے لئے مولانا سید احمد شہید، مولانا اسماعیل دہلوی، اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی کی مشاورت میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس نے ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر دینی اور سیاسی بیداری پیدا کی، پھر انگریزوں سے جہاد کے لئے 1820 میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی کی قیادت میں مجاہدین کے ایک دستہ کو روانہ کیا گیا۔

 انھوں نے جنگی خصوصیات کی بنیاد پر جہاد کا مرکز صوبہ سرحد کو بنایا اور یہ پنجاب کے راجہ سے یہ لڑائی ہوئی ۔ پنجاب میں اس وقت کا راجہ رنجیت سنگھ انگریزوں کا وفادار تھا اور کمپنی کو ٹیکس ادا کرتاتھا ۔ مجاہدین آزادی نے اس راجہ کو کہاکہ تم ہمارا ساتھ دو ، انگریزوں کے خلاف لڑائی میں کامیابی ملنے کے بعد تمہاری حکومت ٹیکس اور غلامی سے آزادہوجائے گی ، ہمیں کوئی عہدہ اور منصب کی ضرورت نہیں ہے ، ہمارا مقصد صرف اور صرف ہندوستان کو بیرونی اور انگریزی غلامی سے نجات دلانا ہے لیکن اس راجہ نے مسلمان مجاہدین آزادی کی بات نہیں مانی اور ان کے خلاف ہی جنگ کی تیاری شروع کردی چناں چہ بالاکوٹ کے میدان میں 1831 میں آزادی کی جنگ ہوئی اور کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا مجموعی طور پر راجہ رنجیت سنگھ نے انگریزوں کے خلاف ایک بڑے محاذ کو ناکام بنادیا ،اسی میدان میں مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے بعدان کے ساتھیوں اور شاگردوں نے انگریزوں کے خلاف گوریلا جنگ کی شروعات کی اور ایک عظیم جنگ آزادی کی تیاری شروع کردی ۔

 انگریزی فوج کے ہندوستانی سپاہی اور دوسرے ملازمین بھی خاموشی کے ساتھ 1857 کی جنگ آزادی کی تیار ی شروع کرچکے تھے ، انگریزوں کو اس کی خبر نہیں تھی ، علماءکرام نے اس جنگ کیلئے عوام کی ذہن سازی شروع کردی ۔عوام کو آزادی کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے ہر کونے میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور آزادی کیلئے جنگ کرنے پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا ۔

ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں کے خلاف جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ علماء کرام نے مسجدوں کا استعمال کیا ،کہاجاتاہے کہ اتر پردیش کی ایک مسجد میں آزادی پر عوام کے درمیان مسجد کے اما م تقریر کررہے تھے وہاں ایک انگریزی آفیسر پہونچ گیا اور اس نے مسجد میں موجود سبھی نمازیوں اور امام کو قتل کردیا ۔1857 کا سال آگیا ، مئی کا مہینہ تھا ، منصوبہ کے مطابق 31 مئی کو انگریزوں پر طاقتور حملہ کرکے اسے یہاں سے نکال باہر کرنا تھا لیکن 10 مئی 1857 کو ہی انگریزوں کے خلاف جنگ کی شروعات ہوگئی ۔ اس جنگ میں ہندو ، مسلمان ،سکھ عیسائی سبھی مذاہب ، ذات کے لوگوں نے شرکت کی اور نومبر 1858 تک یہ جنگ جاری رہے ۔ یعنی ایک سال چھ مہینہ ۔

اتر پردیش کے ضلع شاملی میں بھی انگریزی فوج سے لڑائی ہوئی ، یہاں انگریزوں کا مقابلہ علماءکرام کی فوج نے کیا اور بڑے بڑے علماء کرام حصہ لیا ۔ دارالعلوم دیوبند کے مولانا قاسم نانوتوی، معروف فقیہ مولانا رشید احمد گنگوہی ، حافظ ضامن شہید اور حضرت سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جیسے علماء شریک ہوئے ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کو چیف کمانڈر یعنی سپہ سالار اعلی مقرر کیاگیا مولانا منیر نانوتوی کو فوج کے دائیں بازو کا سپہ سالا راور حافظ ضامن تھانوی کو بائیں بازو کا سپہ سالار مقرر کیا گیا ۔ مجاہدین نے پہلا حملہ شیرعلی کی سڑک پر انگریزی فوج پر کیا اور مال و اسباب لوٹ لیا، دوسرا حملہ 14/ ستمبر1857 کو شاملی پر کیا، اور فتح حاصل کی، جب خبر آئی کہ توپ خانہ سہارنپور سے شاملی بھیجا گیا ہے تو حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے مولانا رشید احمد گنگوہی کو پچاس مجاہدین کے ساتھ مقرر کیا، سڑک باغ کے کنارے سے گزرتی تھی، مجاہدین اس باغ میں چھپے تھے جب انگریزفوج کا دستہ وہاں سے گذرا تو مجاہدین نے ایک ساتھ فائر کردیا فوج گھبراگئی اور توپ چھوڑ کر بھاگ گئی ۔

اسی جنگ میں حافظ ضامن تھانوی شہید ہوگئے ۔ سید حسن عسکری صاحب کو سہارنپور لاکر انگریزوں نے گولی مار دیا مولانا رشید احمد گنگوہی مظفرنگر جیل میں ڈال دئیے گئے ۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی انگریزوں کی گرفت میں نہیں آئے اور اندر گراؤنڈ ہوکر آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے لگے۔

1857 کی جنگ آزادی انگریزوں کے خلاف سب سے بڑی منظم جنگ تھی جو مختلف اسباب کی بنیاد پر ناکام رہی ۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی حکومت نے اس جنگ کیلئے سب سے زیادہ مسلمانوں اور علماء کرام کو ذمہ دار قرار دیا اور ان پر ظلم کا پہاڑ ڈھانا شروع کردیا ۔اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزارصرف علماءکرام تھے، انگریز علماء کے اتنے دشمن ہوچکے تھے کہ ڈاڑھی اور لمبا کرتے والوں کو دیکھتے ہی تختہ دار پر لٹکا دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن کے حوالے مورخ نے لکھا ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء اور اسلامی اسکالرس کو پھانسی دی گئی۔ دہلی کی جامع مسجد چاندنی چوک تک ہر ایک درخت پر علماءکرام کی لاش لٹکی ہوئی تھی ۔

دہلی، کلکتہ، لاہور، بمبئی، پٹنہ، انبالہ، الہ آباد، لکھنو، سہارنپور، شاملی اور ملک کے چپے چپے میں مسلمان اور ہندو دیگر مظلوم ہندوستانیوں کی لاشیں نظر آرہی تھیں علماءکرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا تھا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔

1857 کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد علماء کرام نے حوصلہ نہیں ہارا، انگریزوں کے خلاف جدوجہد انہوں نے جاری رکھی ، طریقہ کار کچھ تبدیل کیا ۔ 1866 میں مولانا قاسم ناناتوی اور دیگر علماء کرا م نے د ارالعلوم دیوبند قائم کیا ۔یہاں کے پہلے طالب علم شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی نے انگریزوں کے خلاف جنگ کیلئے ایک نئی مہم چھیڑی اور 1913 میں تحریک ریشمی رومال کی شروعات ہوئی ۔

 انہوں نے خلافت عثمانیہ سے رابطہ کیا ، اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کے ملکر افغانستان میں ایک جلا وطن حکومت قائم کی اور پوری منصوبہ بندی کی کہ کیسے خلافت عثمانیہ ، جرمنی اور افغان سے مدد لیکر انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکالنا ہے ۔ یہ تحریک بہت مضبوط ہوچکی تھی لیکن 1916 میں انگریزوں کو اس کی خبر مل گئی جس کے بعد 220 علماءکرام اور اہم شخصیات کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ، برٹش حکومت نے شیخ الہند مولانا محمود حسن کو گرفتار کرکے مالٹا کی جیل بھیج دیا ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن ریشم کے رومال کے ذریعہ خط وکتابت کررہے تھے جس کا انکشاف ہوگیا اور اسی بنیاد اسے تحریک ریشمی رومال کے نام سے ہی یاد کیا جانے لگا ۔

1919 میں مولانا ابو المحاسن سجاد ، مفتی کفایت دہلی اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے جمعیت علماء ہند قائم کیا اور انگریزوں بھارت چھوڑ و کا نعرہ دیا ۔شیخ الھند مولانا محمود الحسن دیوبندی نے جیل سے آنے کے بعد اس تنظیم کی سرپرستی کی اور کانگریس کے ساتھ آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کا مشورہ دیا ۔ مہاتما گاندھی نے خلافت کمیٹی اور جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم اور فنڈ سے پورے ملک کا دورہ کیا اور ایک ساتھ مل کر جنگ آزادی میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جمعیت علماء کے رہنماﺅں اور مسلمان مجاہدین آزادی نے موہن داس کرم چند گاندھی کو مہاتما کا لقب دیا اور ان کو انیسوی صدی میں شروع ہونے والی جنگ آزادی کی تحریک کا مشترکہ رہنما قراردیا ۔

آزادی کی تحریک کو مزید مضبوط بنانے کیلئے جمعیۃ علماء ہند نے اپنے ایک اجلاس عام میں یہ تجاویز پاس کی کہ برطانیہ کے ساتھ موالات و نصرت کے تمام تعلقات اور معاملات حرام ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ (۱) حظابات اور اعزازی عہدے چھوڑدئیے جائیں (۲) کونسلوں کی ممبری ترک کردی جائے (۳) دشمنان دین انگریز کو تجارتی نفع نہ پہنچایا جائے (۴) اسکولوں اور کالجوں میں سرکاری امداد قبول نہ کی جائے (۵) دشمنان دین کی فوج میں ملازمت کو حرام سمجھا جائے (۶) سرکاری عدالتوں میں مقدمات نہ لے جائے جائیں۔

جولائی 1921 میں کراچی میں تحریک خلافت کا اجلاس ہوا اس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نے شرکت کی اور جمعیت کے فیصلوں کا اعادہ کیا جس کی تائید مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر سیف الدین کچلو وغیرہ نے ۔ جس کے بعد برٹش فوج نے مولانا حسین احمد مدنی کو بھی گرفتار کرلیا ۔ 26 / ستمبر 1921 / کو کراچی عدالت میں مولانا مدنی نے پوری بے باکی اور شجاعت کے ساتھ طویل بیان دیا، اور مذکورہ امور کو دہرایا کہ برطانوی حکومت کی فوج میں ملازمت حرام ہے اگر گورنمنٹ ہماری مذہبی آزادی سلب کرنے پر تیار ہے تو مسلمان اپنی جان تک قربان کردینے کو تیار ہوں گے اور میں پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کروں گا۔

ہندوستان کی آزاد ی کیلئے کانگریس کے ساتھ جمعیت علماءہند کی مہم جاری رہی ۔ مارچ 1940 میں جب مسلم لیگ نے قیام پاکستان کی تجویز پیش کی تو جمعیت علماءہند نے اس کی بھی پرزور مخالفت کی اور لگاتار تقسیم ہند کی مخالفت کرتی رہی ۔ طویل جدوجہد اور تقریباً دو سو سال کی قربانیوں کے بعد ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی اور برطانوی راج سے آزادی ملی ۔ 15 اگست 1947 بھارت کی آزادی کا اعلان ہوگیا ۔

نوٹ :اس مضمون میں ماہنامہ دارالعلوم دیوبند ، تاریخ آزادی ، ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار ، تحریک ریشمی رومال ، تاریخ ہند، آزادی میں علماء کی جدوجہد ، ویکپیڈیا مضامین اور دیگر سورسیز سے استفادہ کیا گیا ہے ۔

(مضمون نگار ملت ٹائمز کے بانی ایڈیٹر ہیں)

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com